کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ان لوگون کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ جنابت والا قرآن مجید کی تلاوت نہ کرے
حدیث نمبر: 857
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَا وَرَجُلَانِ، رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَحْسَبُ، فَبَعَثَهُمَا وَجْهًا وَقَالَ: أَمَّا إِنَّكُمَا عِلْجَانِ فَعَالِجَا عَنْ دِينِكُمَا، ثُمَّ دَخَلَ الْمَخْرَجَ فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ خَرَجَ فَأَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَتَمَسَّحَ بِهَا ثُمَّ جَعَلَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، قَالَ: فَكَأَنَّهُ رَآنَا أَنْكَرْنَا ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي حَاجَتَهُ ثُمَّ يَخْرُجُ فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَأْكُلُ مَعَنَا اللَّحْمَ وَلَمْ يَكُنْ يَحْجُبُهُ عَنِ الْقُرْآنِ شَيْءٌ لَيْسَ الْجَنَابَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد اللہ بن سلمہ کہتے ہیں: میں اور دو آدمی، ہم سب سیدنا علیؓ کے پاس گئے، ایک آدمی میری قوم سے تھا اور میرے خیال کے مطابق دوسرا بنو اسد سے تھا، سیدنا علی ؓ نے ان کو ایک طرف بھیج دیااور ان سے کہا: تم دونوں قوی آدمی ہو، اس لیے میں تم کو جس کام کی طرف بھیج رہا ہوں، اس میں اچھی طرح محنت کرنا، پھر وہ قضائے حاجت کے لیے ایک جگہ میں گئے، قضائے حاجت کی، پھر وہاں سے نکلے اور پانی کا ایک چلّو لیا اور اس سے ہاتھ دھوئے اور پھر قرآن مجید کی تلاوت شروع کر دی۔ جب انھوں نے دیکھا کہ ہم لوگ ان کی اس کاروائی کو صحیح نہیں سمجھ رہے تو انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی قضائے حاجت کر کے قرآن مجید کی تلاوت کرتے تھے اورہمارے ساتھ گوشت کھاتے تھے اور جنابت کے علاوہ کوئی چیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے قرآن مجید سے مانع نہیں ہوتی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … ہم نے فَتَمَسَّحَ بِہَا کے معانی ہاتھ دھونے کے کیے ہیں، کیونکہ دارقطنی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: فَغَسَلَ کَفَّیْہِ
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 857
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 229، وابن ماجه: 594، والنسائي: 1/ 144، والترمذي: 146 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 840 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 840»
حدیث نمبر: 858
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ مَالَمْ يَكُنْ جُنُبًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں قرآن مجید پڑھاتے تھے، الّا یہ کہ جنابت کی حالت میں ہوتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 858
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1123»
حدیث نمبر: 859
عَنْ أَبِي الْغَرِيفِ قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِوَضُوءٍ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَغَسَلَ يَدَيْهِ وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: هَٰكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثُمَّ قَرَأَ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ قَالَ: ((هَٰذَا لِمَنْ لَيْسَ بِجُنُبٍ، فَأَمَّا الْجُنُبُ فَلَا وَلَا آيَةً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو غریف کہتے ہیں: سیدنا علی ؓ کے پاس وضو کا پانی لایا گیا، انھوں نے تین تین بار کلی اور ناک میں پانی چڑھایا، تین دفعہ چہرہ دھویا، تین مرتبہ ہاتھوں اور بازوؤں کو دھویا، پھر اپنے سرکا مسح کیا اور پھر پاؤں کو دھویا۔ پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن مجید کی کچھ تلاوت کرنے کے بعد فرمایا: وہ بندہ یہ تلاوت کر سکتا ہے، جو جنبی نہ ہو، رہا مسئلہ جنابت والے آدمی کا تو وہ تلاوت نہیں کر سکتا ہے، ایک آیت بھی نہیں پڑھ سکتا۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی مرفوع احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنابت کی حالت میں قرآن مجید کی تلاوت نہیں کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس عمل کو استحباب پر محمول کریں گے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی حالت میں کوئی کام نہ کرنے سے حرمت یا ممانعت ثابت نہیں ہوتی۔ ہمیں یہ نظریہ راجح معلوم ہوتا ہے کہ جنبی اور کسی بھی غیر طاہر شخص کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ قرآن مجید کی تلاوت اور ذکرِ الٰہی کے لیے وضو کرے، جہاں تک مسئلہ جواز کا ہے تو ایسے افراد کے لیے زبانی تلاوت کرنا یا اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا درست ہے، دلائل مندرجہ ذیل ہیں: (۱) براء ہ اصلیہ، یعنی جنبی اور حائضہ کے حق میں قرآن مجید کی تلاوت کو ممنوع قرار دینے پر کوئی صریح اور صحیح حدیث دلالت نہیں کرتی۔ سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ جنبی کیلئے (قرآن کی) قراء ت میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ (صحیح بخاری تعلیقًا: کتاب الحیض، باب تقضی الحائض المناسک کلھا الا الطواف بالبیت) جنبی ‘ حائضہ اور نفاس والی عورت ‘ تینوں بالاتفاق اللہ تعالیٰ کا ذکر کر سکتے ہیں اور قرآن مجید بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے‘ لہٰذا وہ اس کی تلاوت کر سکتے ہیں‘ تفصیل اگلی دلیل میں ملاحظہ فرمائیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حج کے موقع پر حائضہ ہو گئیں‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا: ((فَافْعَلِیْ مَا یَفْعَلُ الْحَاجُّ غَیْرَ اَنْ لَّاتَطُوْفِیْ بِالْبَیْتِ حَتّٰی تَطْھُرِیْ۔)) … بیت اللہ کے طواف کے علاوہ آپ بھی دوسرے حاجیوں کی طرح حج کے مناسک ادا کرتی رہیں اور پاک ہونے کے بعد طواف کر لینا۔ (صحیح بخاری: ۳۰۵) قابل غور بات یہ ہے طواف کے علاوہ دوسرے مناسک بھی اذکار‘ تلبیہ اور دعاؤں پر مشتمل ہیں‘ جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پورا کرنے کا حکم دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مذکورہ بالا حدیث کی شرح میں حافظ ابن حجر نے کہا: سب سے بہترین بات وہ ہے جو ابن رشید نے ابن بطال وغیرہ کی پیروی کرتے ہوئے کہی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے امام بخاری کی مرادحائضہ اور جنبی کی قراء ت کے جواز پر استدلال کرنا ہے‘ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مناسک حج میں سے صرف طواف‘ جو کہ مخصوص نماز ہے، کو مستثنی کیا اور حج کے بقیہ اعمال ذکر‘ تلبیہ اور دعاء پر مشتمل ہیں‘ لیکن حائضہ عورت کو ان سے منع نہیں کیا گیا‘ اسی طرح جنبی آدمی ہے‘ جس کا حدث حائضہ کے حدث سے کم ہے اور اگر تلاوتِ قرآن کو اللہ کا ذکر ہونے کی بناء ممنوع قرار دیا جائے تو اس میں اور مذکورہ بالا اذکار میں کوئی فرق نہیںاور اگر تلاوت کو تعبدی طور پر ممنوع سمجھا جائے تو اس کیلئے دلیل کی ضرورت ہے اورمصنف (امام بخاری) کے نزدیک اس مسئلہ کے بارے وارد احادیث میں سے کوئی حدیث بھی صحیح نہیں۔ (فتح الباری: حدیث ۳۰۵ کے تحت) جنابت والا آدمی قرآن مجید کو چھو نہیں سکتا، اس کی دلیل درج ذیل ہے: سیدنا عبداللہ بن ابو بکرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو خط عمرو بن حزم کو لکھا تھا‘ اس میں یہ الفاظ بھی تھے: ((لَایَمَسُّ الْقُرْآنَ اِلَّا طَاھِرٌ۔)) … قرآن مجید کو صرف طاہر ہی پکڑ سکتا ہے۔ (مؤطا امام مالک: ۴۱۹، دارقطنی: ۱/۱۲۲، البیہقی: ۱/۸۷) جن روایات میں جنبی اور حائضہ کو قرآن مجید کی تلاوت سے منع کیا گیا‘ ان میں سے واضح ترین مندرجہ ذیل چار ضعیف احادیث ہیں: (۱)سیدنا جابر ؓسے روایت ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَاتَقْرَأُ الْحَائِضُ وَلَاالنُّفَسَائُ مِنَ الْقُرْآَنِ شَیْئًا۔)) … حیض اور نفاس والی عورتیں قرآن سے کچھ نہ پڑھیں۔ (دارقطنی: ۲/۸۷، حلیۃ الاولیاء: ۴/۲۲) اس حدیث کی سند میں محمد بن فضل متروک راوی ہے، حافظ ابن حجر نے تقریب میں کہا: محدثین نے اس کو کذاب کہا ہے۔
(۲)سیدنا عبدا للہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تَقْرَأُ الْحَائِضُ وَلَا الْجُنُبُ شَیْئًا مِنَ الْقُرْآنِ۔)) … حائضہ اور جنبی قرآن سے کچھ نہ پڑھیں۔ (ترمذی: ۱۳۱، ابن ماجہ: ۵۹۵) اس کی سند میں اسماعیل بن عیاش ہے‘ جو حجازیوں سے روایت کرنے میں ضعیف ہے اور یہ حدیث حجازیوں سے ہے۔
(۳)سیدنا علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِقْرَأِ الْقُرْآنَ عَلٰی کُلِّ حَالٍ مَا لَمْ تَکُنْ جُنُبًا۔)) … سوائے حالت ِ جنابت کے آپ ہر حال میں قرآن پڑھ سکتے ہیں۔ (ابن عدی: ۳/۹۲۵) اس کی سند میں خارجہ بن مصعب ہے‘ جو کہ متروک ہے اور جھوٹے راویوں سے تدلیس کرتا ہے۔
(۴)سیدنا علی ؓکہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضوء کیا، پھر قرآن کا کچھ حصہ تلاوت کیا اور فرمایا: ((ھٰکَذَا لِمَنْ لَیْسَ بِجُنُبٍ‘ فَاَمَّا الْجُنُبُ فَلَا وَلَا آیَۃً۔)) … یہ طریقہ کار اس شخص کیلئے ہے جو جنبی نہیں‘ رہا مسئلہ جنبی کا تو وہ ایک آیت بھی تلاوت نہیں کر سکتا۔ (مسند احمد: ۱/۱۱۰، مسند ابو یعلی: ۳۶۵) اس روایت کو عائذ بن حبیب نے عامر بن سمطہ سے مرفوعا بیان کیا‘ جبکہ درج ذیل اوثق رواۃ نے عامر سے سیدنا علیؓ پر موقوفا روایت کیا ہے: یزید بن ہارون‘ امام ثوری‘ خالد بن عبدا للہ‘ حسن بن صالح بن حی‘ شریک بن عبداللہ‘ اسحاق بن ابراہیم۔ یہ روایت اس باب میں بھی موجود ہے، زیادہ وضاحت کی وجہ سے لکھ دی گئی ہے۔
امام دارقطنی نے موقوفا روایت کرنے کے بعد کہا کہ یہ سیدنا علیؓ سے صحیح ہے۔ (دارقطنی:۱/۱۱۸) جبکہ عبدالرزاق نے کہا کہ عبد الرزاق بھی اسی (اثر) کو لے گا۔ (مصنف عبد الرزاق: ۱/۳۳۶) مزید دیکھیں: ارواء الغلیل: ۲/۲۴۳
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 859
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «قال الالباني: ھذا صحيح موقوفا، لا مرفوعا (ارواء الغليل:2/241)۔ أخرجه ابويعلي: 365 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 872 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 872»
حدیث نمبر: 860
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ جُنُبٌ وَلَا صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علیؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس گھر میں جنابت والا آدمی، تصویر اور کتا ہو، اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
وضاحت:
فوائد: … کتے سے مراد وہ کتا ہے، جو رکھوالی اور شکار کے لیے نہ رکھا گیا ہو، آج کل اکثر دیہاتی لوگ لڑانے کے لیے اور اکثر شہری لوگ صرف اپنا شوق پورا کرنے کے لیے کتے پالتے ہیں، جبکہ یہ عادت انتہائی قابل مذمت ہے، سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنِ اقْتَنٰی کَلْبًا لَیْسَ بِکَلْبِ مَاشِیَۃٍ اَوْ ضَارِیَۃٍ نَقَصَ کُلَّ یَوْمٍ مِنْ عَمَلِہٖ قِیْرَاطَانِ۔)) … جس نے ایسا کتا پالا جو جانوروں (کی رکھوالی) یا شکار کے لیے نہ ہو، ہر روز اس کے عمل سے دو قیراط اجر کم ہو جاتا ہے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) جنازے کے ثواب والی احادیث سے قیراط کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ: وہ احد پہاڑ کے برابر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 860
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره دون ذكر الجنب۔ أخرجه ابوداود: 227، 4152، والنسائي: 1/ 141 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 632 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 632»