کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: احتلام ہو جانے کی بنا پر غسل کے واجب ہونے کا بیان، بشرطیکہ انزال ہوا ہو
حدیث نمبر: 847
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الْبَلَلَ وَلَا يَذْكُرُ احْتِلَامًا، قَالَ: ((يَغْتَسِلُ)) وَعَنِ الرَّجُلِ يَرَى أَنَّهُ قَدِ احْتَلَمَ وَلَا يَرَى بَلَلًا، قَالَ: ((لَا غُسْلَ عَلَيْهِ)) فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ تَرَى ذَلِكَ شَيْءٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنَّمَا النِّسَاءُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا، جو منی کی تری تو پاتا ہے، لیکن اسے احتلام یاد نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ غسل کرے گا۔ پھر اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا کہ جس کا یہ خیال ہے کہ اسے احتلام تو ہوا ہے، لیکن وہ تری کو نہیں پاتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس پر کوئی غسل نہیں ہے۔ سیدہ ام سلیم ؓ نے کہا: اگر عورت کو اسی قسم کا خواب آئے، تو کیا اس کا بھی یہی حکم ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، عورتیں مردوں کی مانند ہی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 847
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 236، وابن ماجه: 612، والترمذي: 113 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26195 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26725»
حدیث نمبر: 848
عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَتْ مُجَاوِرَةَ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَانَتْ تَدْخُلُ عَلَيْهَا فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ إِذَا رَأَتِ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا فِي الْمَنَامِ يَقَعُ عَلَيْهَا أَعَلَيْهَا غُسْلٌ؟ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: تَرِبَتْ يَدَاكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ! فَضَحْتِ النِّسَاءَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، وَإِنَّا إِنْ نَسْأَلِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَمَّا أَشْكَلَ عَلَيْنَا خَيْرٌ مِنْ أَنْ نَكُونَ مِنْهُ عَلَى عَمْيَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّ سَلَمَةَ: ((أَنْتِ تَرِبَتْ يَدَاكِ، نَعَمْ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ! عَلَيْهَا الْغُسْلُ إِذَا وَجَدَتِ الْمَاءَ)) فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَهَلْ لِلْمَرْأَةِ مَاءٌ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((فَأَنَّى يَأْتِي شَبَهُ الْخُوْلَةِ إِلَّا مِنْ ذَلِكَ، أَيُّ النُّطَفَتَيْنِ سَبَقَتْ إِلَى الرَّحِمِ غَلَبَتْ عَلَى الشَّبَهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام سلیمؓ، زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہؓ کہ ہمسائی تھیں اور وہ ان کے پاس آتی رہتی تھیں، ایک دن نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں داخل ہوئے اور سیدہ ام سلیم ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے کہ ایک عورت یہ خواب دیکھتی ہے کہ اس کا خاوند اس سے مجامعت کر رہا ہے، تو کیا وہ غسل کرے گی؟ سیدہ ام سلمہؓ نے کہا: تیرے ہاتھ خاک آلود ہو جائیں، اے ام سلیم! تو نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک عورتوں کو رسوا کر دیا ہے۔ سیدہ ام سلیم ؓ نے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا اور اگر ہم اپنے اشکالات کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کر لیں تو یہ اس سے تو بہتر ہے کہ ان کے بارے میں ہم جاہل اور اندھے ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ ام سلمہؓ سے فرمایا: بلکہ تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، جی ہاں ام سلیم! جب ایسی عورت منی کا پانی محسوس کرے گی تو اس پر غسل ہو گا۔ سیدہ ام سلیمؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورت کا بھی پانی ہوتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اس کا بچہ اس کے مشابہ کیسے ہو جاتا ہے، اس معاملے میں خواتین مردوں کی طرح ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 848
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرج مسلم: 310 نحوه، لكن دون قوله: ھن شقائق الرجال ، ھذه الجملة حسن لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27118 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27659»
حدیث نمبر: 849
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَحَدَّثَنِي حَجَّاجٌ قَالَ: أَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ، قَالَ حَجَّاجٌ: امْرَأَةَ أَبِي طَلْحَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! الْمَرْأَةُ تَرَى زَوْجَهَا فِي الْمَنَامِ يَقَعُ عَلَيْهَا أَعَلَيْهَا غُسْلٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ)) فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: وَتَفْعَلُ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: ((تَرِبَتْ يَمِينُكِ، فَأَنَّى يَأْتِي شَبَهُ الْخُوْلَةِ إِلَّا مِنْ ذَلِكَ، أَيُّ النُّطَفَتَيْنِ سَبَقَتْ إِلَى الرَّحِمِ غَلَبَتْ عَلَى الشَّبَهِ)) وَقَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ: تَرِبَتْ جَبِينُكِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام سلمہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلیم زوجہ سیدنا ابو طلحہؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر کوئی عورت یہ خواب دیکھتی ہے کہ اس کا خاوند اس سے مجامعت کر رہا ہے، تو کیا اس پر غسل واجب ہو جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، جب وہ منی کا پانی دیکھ لے گی۔ سیدہ ام سلمہؓ نے کہا: کیا عورت کا پانی بھی نکلتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو جائے، بچے کی ماموؤں کے ساتھ مشابہت عورت کے اسی پانی کی وجہ سے ہوتی ہے، دو نطفوں میں سے جو نطفہ رحم کی طرف سبقت لے جاتا ہے، وہی مشابہت پر غالب آ جاتا ہے۔ حجاج کی حدیث میں ہے: تیری پیشانی خاک آلود ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 849
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرج البخاري: 130، 282، 3328، 6091، ومسلم: 313 نحوه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26631 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27166»
حدیث نمبر: 850
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ غُسْلٌ إِذَا احْتَلَمَتْ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)سیدہ ام سلمہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلیمؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! بیشک اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا، تو کیا جب عورت کو احتلام ہو جاتا ہے، تو اس پر غسل ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، جب وہ پانی (منی) دیکھ لے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 850
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27114»
حدیث نمبر: 851
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْهَا عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَتْهُ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ، فَقَالَ: ((إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ)) قَالَتْ: قُلْتُ: فَضَحْتِ النِّسَاءَ، وَهَلْ تَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((تَرِبَتْ يَمِينُكِ، فَبِمَ يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا إِذًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) سیدہ ام سلمہؓ کہتی ہیں: سیدہ ام سلیمؓ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آئی اور اس عورت کے بارے میں سوال کیا، جو خواب میں وہ چیز دیکھتی ہے، جو مرد دیکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب وہ پانی دیکھ لے، تو غسل کرے۔ میں نے کہا: تو نے تو عورتوں کو رسوا کر دیا ہے، بھلا کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو جائے، تو پھر عورت کا بچہ اس سے مشابہ کیسے ہو جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 851
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27148»
حدیث نمبر: 852
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُمَيَّةَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَأَلَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَهِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تَرَى الْمَرْأَةُ فِي الْمَنَامِ مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا رَأَتِ الْمَرْأَةُ ذَلِكَ وَأَنْزَلَتْ فَلْتَغْتَسِلْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مرو ی ہے کہ سیدہ ام سلیم ؓ، جو کہ سیدنا انس بن مالک ؓ کی والدہ تھیں، نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو کچھ مرد خواب میں دیکھتا ہے اور اگر وہی کچھ عورت دیکھے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب یہ چیز دیکھے اور اسے انزال بھی ہو تو وہ غسل کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 852
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5636 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5636»
حدیث نمبر: 853
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ امْرَأَةٍ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ رَأَتْ ذَلِكَ مِنْكُنَّ فَأَنْزَلَتْ فَلْتَغْتَسِلْ)) قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: أَوَ يَكُونُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، مَاءُ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ وَمَاءُ الْمَرْأَةِ أَصْفَرُ رَقِيقٌ، فَأَيُّهَا سَبَقَ أَوْ عَلَا أَشْبَهَ الْوَلَدُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلیمؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا، جو اپنے خواب میں وہ کچھ دیکھتی ہے، جو مرد دیکھتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی عورت اس طرح کا خواب دیکھے اور پھر اسے انزال بھی ہو جائے تو وہ غسل کرے۔ سیدہ ام سلمہؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورت کے ساتھ بھی ایسے ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، مرد کا پانی سفید اور گاڑھا ہوتا ہے اور عورت کا پانی زرد اور پتلا ہوتاہے، ان میں سے جو سبقت لے جاتا ہے، اسی سے بچے کی مشابہت ہو جاتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 853
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، وأخرج الشطر الاول منه مسلم: 310 ، وأخرجه ابن ماجه: 601، وانظر الحديث رقم (848) وما بعده مما روي عن ام سليم ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12222 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12247»
حدیث نمبر: 854
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: هَلْ تَغْتَسِلُ الْمَرْأَةُ إِذَا احْتَلَمَتْ وَأَبْصَرَتِ الْمَاءَ؟ فَقَالَ: ((نَعَمْ)) فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: تَرِبَتْ يَدَاكِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((دَعِيهَا، وَهَلْ يَكُونُ الشَّبَهُ إِلَّا مِنْ قِبَلِ ذَلِكَ، إِذَا عَلَا مَاؤُهَا مَاءَ الرَّجُلِ أَشْبَهَ أَخَوَالَهُ، وَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَهَا أَشْبَهَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا: جب عورت کو احتلام ہو جائے اور وہ پانی بھی دیکھ لے، تو کیا وہ غسل کرے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ سیدہ عائشہؓ نے اس خاتون سے کہا: تیرے ہاتھ خاک آلود ہو جائیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: چھوڑ دے اس عورت کو، (یہ صحیح کہہ رہی ہے) اسی وجہ سے تو مشابہت ہوتی ہے، جب عورت کا مادۂ منویہ مرد کے پانی پر غالب آجائے تو بچہ ماموؤں کے مشابہ ہو جاتا ہے اور جب مرد کا مادۂ منویہ عورت کے پانی پر غالب آ جائے تو بچے کی مشابہت اس سے ہو جاتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 854
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 314، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24610 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25117»
حدیث نمبر: 855
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ، فَقَالَ: ((لَيْسَ عَلَيْهَا غُسْلٌ حَتَّى يَنْزِلَ الْمَاءُ كَمَا أَنَّ الرَّجُلَ لَيْسَ عَلَيْهِ غُسْلٌ حَتَّى يُنْزِلَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ خولَہُ بنت حکیمؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا جو خواب میں وہی چیز دیکھتی ہے، جو مرد دیکھتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک پانی کانزول نہیں ہو گا، اس پر کوئی غسل نہیں ہو گا، جیسے مرد پر اس وقت تک غسل نہیں ہوتا، جب تک اسے انزال نہ ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 855
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 602، النسائي: 1/ 115، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27312 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27855»
حدیث نمبر: 856
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: إِنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ حَكِيمٍ السُّلَمِيَّةَ وَهُوَ إِحْدَى خَالَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَحْتَلِمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لِتَغْتَسِلْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدہ خولہ بن حکیم سُلَمِیّہؓ، جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک خالہ تھیں، نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا، جسے احتلام ہو جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ غسل کرے گی۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ مرد اور عورت دونوں کو احتلام ہو سکتا ہے اور اس کی وجہ سے جنابت والا غسل واجب ہو جاتاہے۔ احتلام کے لیے خواب کا آنا یا نہ آنا معتبر نہیں ہے، بلکہ کپڑے یا جسم پر تری یا داغ کا ہونا معتبر ہے، جب کسی کو نیند کے بعد اپنے جسم یا کپڑے پر احتلام کے اثرات نظر آ جائیں گے تو وہ غسلِ جنابت کرے گا، خواب کا آنا اس کے ذہن میں ہو یا نہ ہو۔ اسی طرح اگر کسی کو اس قسم کا خواب تو آتا ہے، لیکن جسم یا کپڑے پر کوئی نشان دکھائی نہیں دیتا تو غسل فرض نہیں ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 856
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27856»