حدیث نمبر: 795
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَأَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: ((إِنْ شِئْتَ تَوَضَّأْ مِنْهُ وَإِنْ شِئْتَ لَا تَوَضَّأْ مِنْهُ)) قَالَ: أَفَأَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، فَتَوَضَّأْ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ)) قَالَ: فَنُصَلِّي فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ؟ قَالَ: ((لَا)) قَالَ: أَنُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، صَلِّ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن سمرہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم بکری کے گوشت سے وضو کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو چاہے تو وضو کر لے اور چاہے تو وضو نہ کرے۔ اس نے کہا: تو کیا ہم اونٹ کے گوشت سے وضو کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کیا کر۔ اس نے کہا: کیا ہم اونٹوں کے باڑوں میں نماز پڑھ لیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: کیا ہم بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھ لیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھ لیا کر۔
حدیث نمبر: 796
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا براء بن عازبؓ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا براء بن عازب ؓکی حدیث یوں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اونٹ کے گوشت سے وضو کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے وضو کیا کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اونٹوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَاتُصَلُّوْا فِیْھَا، فَاِنَّھَا مِنَ الشَّیَاطِیْنِ۔)) … تم ان میں نماز نہ پڑھو، کیونکہ یہ شیطانوں میں سے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میں نماز پڑھو، پس بیشک یہ جانور تو برکت ہے۔ معلوم ہوا کہ اونٹوں کے باڑوں میں نماز نہ پڑھنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے مزاج میں شیطنت پائی جاتی ہے، اس وجہ سے وہ نمازی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ماکول اللحم جانوروں کا پیشاب، مینگنیاں اور گوبر وغیرہ پاک ہے، ایک دلیل کا ذکر ان احادیث میں بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے، جبکہ ان باڑوں کی ہر جگہ پیشاب اور مینگنیوں سے متاثر ہوتی ہے، حدیث نمبر (۴۵۳)کی شرح میں اس مسئلہ پر بحث کی جا چکی ہے۔
حدیث نمبر: 797
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ ذِي الْغُرَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَرَضَ أَعْرَابِيٌّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تُدْرِكُنَا الصَّلَاةُ وَنَحْنُ فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ أَفَنُصَلِّي فِيهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا)) قَالَ: أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِهَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ)) قَالَ: أَفَنُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((نَعَمْ)) قَالَ: أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِهَا؟ قَالَ: ((لَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ذو الغرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک بدّو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل رہے تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب اونٹوں کے باڑوں میں ہی نماز کا وقت ہو جائے تو کیا ہم ان میں نماز پڑھ لیا کریں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: کیا ہم ان کے گوشت سے وضو کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: کیا ہم بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھ لیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: کیا ہم ان کے گوشت سے وضو کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔
حدیث نمبر: 798
عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ أَلْبَانِ الْإِبِلِ، قَالَ: ((تَوَضَّأُوا مِنْ أَلْبَانِهَا)) وَسُئِلَ عَنْ أَلْبَانِ الْغَنَمِ، فَقَالَ: ((لَا تَوَضَّأُوا مِنْ أَلْبَانِهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا اسید بن حضیرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اونٹوں کے دودھ سے (وضو کرنے کے) بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کے دودھ سے وضو کیا کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بکریوں کے دودھ کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کے دودھ سے وضو نہ کیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے ثابت ہوا کہ اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنا ہو گا۔