حدیث نمبر: 793
عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ، قَالَ: فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَقُلْتُ: إِنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ أَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ، قَالَ: صَدَقَ، أَنَا صَبَبْتُ لَهُ وَضُوءَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
معدان بن ابی طلحہ کہتے ہیں: سیدنا ابو درداءؓ نے مجھے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قے کی اور پھر روزہ افطار کر دیا، اس کے بعد مسجد ِ دمشق میں مولائے رسول سیدنا ثوبانؓ سے جب میری ملاقات ہوئی تو میں نے ان کو بتلایا کہ سیدنا ابو درداء ؓ نے مجھے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قے کی اورپھر روزہ افطار کر دیا، انھوں نے کہا: جی انھوں نے سچ کہا، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وضو کا پانی بہایا تھا۔
حدیث نمبر: 794
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اسْتَقَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَفْطَرَ فَأُتِيَ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو درداءؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے از خود قے کی تھی، اس لیے روزہ افطار کر دیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پانی لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا۔
وضاحت:
فوائد: … سوال یہ ہے کہ مذکورہ بالا حدیث میں فاء سببیت کے لیے ہے یا تعقیب کے لیے، اگر سببیت کے لیے تسلیم کریں تو یہ مسئلہ ثابت ہو گا کہ قے سے روزہ اور وضو متاثر ہوتے ہیں، اور اگر اس کو تعقیب کے لیے تسلیم کیا جائے تو پھر صرف یہ ثابت ہو گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بالترتیب تین کام کیے، یہ ثابت نہیں ہو گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قے کی وجہ سے روزہ توڑا اور وضو کیا، جیسا کہ امام طحاوی نے کہا: (سیدنا ابو الدرداء اور سیدنا ثوبانؓ) کی احادیث سے یہ استدلال تو نہیں کیا جا سکتا کہ قے کی وجہ سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، ان میں تو صرف یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قے کی اور اس کے بعد روزہ توڑ دیا۔ زیادہ احتیاط اسی میں ہے کہ قے کے بعد وضو کر لیا جائے، کیونکہ ممکن ہے کہ فاء سببیت کے لیے ہو۔ رہا مسئلہ قے کی وجہ سے روزہ ٹوٹ جانے کا، تو اس حدیث کو درج ذیل حدیث کی روشنی میں سمجھا جائے گا: سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ ذَرَعَہُ الْقَیْئُ وَھُوَ صَائِمٌ فَلَیْسَ عَلَیْہِ قَضَائٌ وَاِنِ اسْتَقَائَ فَلْیَقْضِ۔)) … جسے روزے کی حالت میں قے آ جائے اس پر قضا نہیں، لیکن اگر کوئی جان بوجھ کر قے کر دے تو وہ قضائی دے۔ (ابوداود: ۲۳۸۰، ترمذی: ۷۱۶، ابن ماجہ: ۱۶۷۶) یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی وجہ سے از خود قے کی، اس وجہ سے روزہ توڑ دیا۔ راجح مسلک کے مطابق ڈکار اور نکسیر ناقضِ وضو نہیں ہیں، اس موضوع کی درج ذیل روایت ضعیف ہے۔ سیدہ عائشہ ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ اَصَابَہُ قَیْئٌ اَوْ رُعَافٌ اَوْ قَلْسٌ اَوْ مَذْیٌ فَلْیَنْصَرِفْ فَلْیَتَوَضَّأْ۔)) … جسے (نماز میں) قے آ جائے یا نکسیر پھوٹ پڑے یا ڈکار آ جائے یا مذی آ جائے تو وہ (نماز سے) نکل جائے اور وضو کرے۔ (ابن ماجہ: ۱۲۲۱) لیکن یہ روایت ضعیف ہے، اس کی سند میں اسماعیل بن عیاش راوی ضعیف ہے۔