حدیث نمبر: 790
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ بَعْضَ نِسَائِهِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، قَالَ عُرْوَةُ: قُلْتُ لَهَا: مَنْ هِيَ إِلَّا أَنْتِ؟ فَضَحِكَتْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بیوی کابوسہ لیا اور پھر وضو کیے بغیر نماز کے لیے تشریف لے گئے۔ میں (عروہ) نے کہا: یہ بیوی آپ ہی ہوں گی؟ یہ سن کر سیدہ مسکرا پڑیں۔
حدیث نمبر: 791
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ يُصَلِّي ثُمَّ يُقَبِّلُ وَيُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کر کے نماز پڑھتے، پھر اپنی بیوی کا بوسہ لیتے اور پھر وضو کیے بغیر مزید نماز پڑھتے۔
حدیث نمبر: 792
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَيَّ فِي قِبْلَتِهِ، فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ وَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا وَالْبُيُوتُ لَيْسَ يَوْمَئِذٍ فِيهَا مَصَابِيحُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زوجۂ رسول سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سویا کرتی تھی اور میری ٹانگیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قبلہ کی سمت میں ہوتی تھیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ کرتے تو آپ مجھے دباتے اور میں اپنی ٹانگوں کو سمیٹ لیتی تھی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو جاتے تو میں ان کو بچھا دیتی، ان دنوں میں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب میں مؤخر الذکر حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کے اندر اپنی زوجۂ محترمہ کے جسم کو چھوا ہے۔ خاوند کا اپنی بیوی کے وجود کو مس کرنا یا بوسہ دینا، اس سے وضو متأثر نہیں ہوتا، ہاں اگر اس کی وجہ سے مذی کے قطرے خارج ہو جائیں تو یہ علیحدہ بات ہو گی اور قطروں کی وجہ سے وضو ٹوٹ جائے گا۔ سورۂ نساء کی آیت (۴۳) میں {اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَائَ} سے مراد بیویوں کے ساتھ مباشرت اور جماع ہے، مطلق چھونا نہیں ہے۔