حدیث نمبر: 787
عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيَتَوَضَّأُ أَحَدُنَا إِذَا مَسَّ ذَكَرَهُ، قَالَ: ((إِنَّمَا هُوَ بَضْعَةٌ مِنْكَ أَوْ جَسَدِكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا طلقؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا کہ جب کوئی آدمی اپنی شرمگاہ کو چھو لے، تو کیا وہ اس سے وضو کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے جسم کے گوشت کا ایک ٹکڑا ہی ہے۔
حدیث نمبر: 788
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: مَسَسْتُ ذَكَرِي، أَوِ الرَّجُلُ يَمُسُّ ذَكَرَهُ فِي الصَّلَاةِ، عَلَيْهِ الْوُضُوءُ؟ قَالَ: ((لَا، إِنَّمَا هُوَ مِنْكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)سیدنا طلقؓ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: میں نے اپنی شرمگاہ کو چھوا ہے یا ایک آدمی نماز میں اپنی شرمگاہ کو چھوتا ہے، کیا وہ دوبارہ وضو کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ تمہارے وجود کا حصہ ہی ہے۔
حدیث نمبر: 789
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيَتَوَضَّأُ أَحَدُنَا إِذَا مَسَّ ذَكَرَهُ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: ((هَلْ هُوَ إِلَّا مِنْكَ، أَوْ بَضْعَةٌ مِنْكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) سیدنا طلقؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کوئی آدمی نماز میں اپنی شرمگاہ کو چھو لیتا ہے تو کیا وہ وضو کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے جسم کا ایک ٹکڑا ہی ہے، (اس سے وضو کرنے کی کیا ضرورت ہے)۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث سیدنا طلق کے حوالے سے مشہور ہے، جس میں یہ کہا گیا ہے کہ شرمگاہ کو چھونے سے وضو متاثر نہیں ہوتا۔ مذکورہ بالا تین احادیث کے مضمون میں بظاہر تعارض نظر آ رہا ہے اور وہ اس طرح کہ بعض احادیث میں شرمگاہ کو ہاتھ لگنے سے وضو کے ٹوٹ جانے کا ذکر ہے، جبکہ بعض کا تقاضا یہ ہے کہ اس سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے،ان روایات کی بنیاد پر سلف و خلف میں اختلاف واقع ہوا ہے کہ آیا شرمگاہ کو چھونا ناقض وضو ہے یا نہیں۔ راجح یہی معلوم ہوتا ہے کہ وضو ٹوٹ جاتا ہے، بشرطیکہ چھونے کی صورت یہ ہو کہ ہاتھ اور شرمگاہ میں کوئی پردہ حائل نہ ہو، جیسا کہ سیدنا بسرہ اور سیدنا ابوہریرہؓ کی روایات کے الفاظ سے معلوم ہو رہا ہے۔ لیکن سیدنا طلق کی روایت کا کیا جائے گا؟ محدثین نے جمع و تطبیق کے جتنے طریقے مقرر کیے ہیں، ان سب کی روشنی میں سیدنا بسرہ کی روایت پر عمل کیا جائے گا، مثال کے طور پر: (۱)سیدنا طلق کی روایت کا تعلق اس صورت سے ہے، جب ہاتھ اور شرمگاہ کے درمیان پردہ حائل ہو، یہی تطبیق مناسب نظر آ رہی ہے، اس طرح سے دونوں روایات پر عمل کرنا ممکن ہو جائے گا۔
(۲)اگر اسانید کو دیکھا تو سیدنا بسرہ کی روایت راجح قرار پاتی ہے۔
(۳)اگر احتیاط کے معاملے کو سامنے رکھا جائے تو سیدہ بسرہؓ کی روایت پر عمل کرنا چاہیے، جس میں شرمگاہ کو چھونے کو ناقضِ وضو قرار دیا گیا ہے۔
(۴) اگر اباحت اور حظر میں تعارض پیدا ہو جائے تو حظر کو مقدم کیا جاتا ہے، سیدہ بسرہؓکی حدیث کا تعلق حظر سے ہے۔
(۵)اگر متعارض امور میں سے ایک کا تعلق براء تِ اصلیہ سے ہو تو اسے منسوخ سمجھا جائے گا، اس اعتبار سے بھی سیدنا طلق ؓکی حدیث منسوخ اور سیدہ بسرہؓ کی حدیث ناسخ اور قابل عمل قرار پاتی ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ سیدنا بسرہ ؓ کی حدیث پر عمل کرتے ہوئے شرمگاہ کے چھونے کوناقضِ وضو سمجھا جائے گا، واللہ اعلم۔
(۲)اگر اسانید کو دیکھا تو سیدنا بسرہ کی روایت راجح قرار پاتی ہے۔
(۳)اگر احتیاط کے معاملے کو سامنے رکھا جائے تو سیدہ بسرہؓ کی روایت پر عمل کرنا چاہیے، جس میں شرمگاہ کو چھونے کو ناقضِ وضو قرار دیا گیا ہے۔
(۴) اگر اباحت اور حظر میں تعارض پیدا ہو جائے تو حظر کو مقدم کیا جاتا ہے، سیدہ بسرہؓکی حدیث کا تعلق حظر سے ہے۔
(۵)اگر متعارض امور میں سے ایک کا تعلق براء تِ اصلیہ سے ہو تو اسے منسوخ سمجھا جائے گا، اس اعتبار سے بھی سیدنا طلق ؓکی حدیث منسوخ اور سیدہ بسرہؓ کی حدیث ناسخ اور قابل عمل قرار پاتی ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ سیدنا بسرہ ؓ کی حدیث پر عمل کرتے ہوئے شرمگاہ کے چھونے کوناقضِ وضو سمجھا جائے گا، واللہ اعلم۔