کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: شرمگاہ کو چھونے سے وضو کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 780
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا زیدبن خالد جہنیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنی فَرْج کو چھوئے وہ وضو کرے۔
وضاحت:
فوائد: … فَرْج کا اطلاق عورت اور مرد دونوں کی اگلی اور پچھلی شرمگاہوں پر ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 780
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 5222، وابن ابي شيبة: 1/ 163، والبزار: 3762 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21689 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22031»
حدیث نمبر: 781
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مَسَّتْ فَرْجَهَا فَلْتَتَوَضَّأْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو (آدمی) اپنی اگلی شرمگاہ کو چھوئے، وہ وضو کرے، اسی طرح جو عورت اپنی شرمگاہ کو چھوئے وہ بھی وضو کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 781
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه الدارقطني: 1/ 147، والبيھقي: 1/ 132 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7076 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7076»
حدیث نمبر: 782
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ أَفْضَى بِيَدِهِ إِلَى ذَكَرِهِ لَيْسَ دُونَهُ سِتْرٌ فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنا ہاتھ اپنی اگلی شرمگاہ کو لگائے، جبکہ اس کے سامنے کوئی پردہ بھی نہ ہو تو یقینا اس پر وضو واجب ہو گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 782
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن۔ أخرجه ابن حبان: 1118، والطبراني في الاوسط : 1871، والبيھقي: 1/133، والدارقطني: 1/ 147، والحاكم: 1/ 138 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8404 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8385»