کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیند ناقضِ وضو نہیں تھی، اگرچہ وہ لیٹ کر ہوتی
حدیث نمبر: 773
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَامَ حَتَّى نَفَخَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح سو گئے کہ آواز کے ساتھ سانس لینے لگے، پھر جب اٹھے تو نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 773
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ، وأخرجه البخاري: 6316، ومسلم: 763 مطولا، لكن فيهما ذكر انه صلي الله عليه وآله وسلم نام ثم قام وصلي ولم يتوضأ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2084 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2084»
حدیث نمبر: 774
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی طرح کی ایک حدیث روایت کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 774
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
حدیث نمبر: 775
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ وَضُوءًا خَفِيفًا فَقَامَ فَصَنَعَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَمَا صَنَعَ ثُمَّ جَاءَ فَقَامَ فَصَلَّى فَحَوَّلَهُ فَجَعَلَهُ عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى نَفَخَ، فَأَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو قَالَ: أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ اضْطَجَعَ حَتَّى نَفَخَ، فَكُنَّا نَقُولُ لِعَمْرٍو: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((تَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہؓ کے گھر رات گزاری، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو بیدار ہوئے، ہلکا سا وضو کیا اور نماز شروع کر دی، سیدنا ابن عباسؓ نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح عمل کیا اور پھر آ کر (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب) کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو پھیر کر دائیں جانب کھڑا کر دیا، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہو کر لیٹ گئے، یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے، پھر مؤذن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا (اور نمازِ فجر کی اطلاع دی)، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے چلے گئے اور وضو نہیں کیا۔ دوسری روایت میں ہے: سیدنا ابن عباس ؓ نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فجر کی دو سنتیں پڑھ لیں تو لیٹ گئے اور خرّاٹے لینے لگے، پس ہم عمرو سے کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: میرے آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 775
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 138، 726، 859، ومسلم: 763 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1912 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1912»
حدیث نمبر: 776
عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ وَأَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَامَ حَتَّى سُمِعَ لَهُ غَطِيطٌ فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، فَقَالَ عِكْرِمَةُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَحْفُوظًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح سو جاتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خرّاٹوں کی آواز آنے لگتی، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے تھے۔ عکرمہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تو حفاظت کی گئی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیند آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ناقضِ وضو نہیں تھی، کیونکہ نیند کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دل بیدار رہتا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 776
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه البيھقي: 1/ 121، وحديث ابن عباس روي في المسند بالفاظ مختلفة ومطولة ومختصرة و منھا ما رواه الشيخان ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2194 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2194»