کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: بیٹھنے والے کی نیند کے بارے میں
حدیث نمبر: 769
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يُونُسُ وَعَفَّانُ قَالَا: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ عَفَّانُ: قَالَ حَمَّادٌ: أَنَا أَيُّوبُ وَقَيْسٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ ثُمَّ اسْتَيْقَظُوا ثُمَّ نَامُوا ثُمَّ اسْتَيْقَظُوا، قَالَ قَيْسٌ: فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ: الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: فَخَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُمْ تَوَضَّأُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات نمازِ عشا کو مؤخر کر دیا، یہاں تک کہ لوگ سو گئے، پھر بیدار ہوئے، پھر سو گئے، پھر بیدار ہوئے۔ بالآخر سیدنا عمر بن خطاب ؓآئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! نماز پڑھائیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی، راوی نے اس قسم کی کوئی بات ذکر نہیں کی کہ انھوں نے وضو کیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 769
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرج نحوه البخاري: 7239، ومسلم: 642 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2195 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2195»
حدیث نمبر: 770
عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُقِيمَتْ صَلَاةُ الْعِشَاءِ، قَالَ عَفَّانُ: أَوْ أُخِّرَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً فَقَامَ مَعَهُ يُنَاجِيهِ حَتَّى نَعَسَ الْقَوْمُ، أَوْ قَالَ: بَعْضُ الْقَوْمِ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَذْكُرْ وَضُوءًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ نماز عشاء کے لیے اقامت کہہ دی گئی یا ایک رات نمازِ عشا کو مؤخر کر دیا گیا، پس ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے آپ سے کوئی کام ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ سرگوشی کرنے لگے، یہاں تک کہ لوگ سونے لگ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی اور وضو کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 770
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرج نحوه البخاري: 7239، ومسلم: 642 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2195 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13868»
حدیث نمبر: 771
عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنَامُونَ وَلَا يَتَوَضَّأُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ صحابۂ کرام سو جاتے تھے اور پھر نیا وضو نہیں کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … مسند بزار (۲ /۳۳۴) کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: اِنَّ اَصْحَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کَانُوْا یَضَعُوْنَ جُنُوْبَھُمْ، فَمِنْھُمْ مَنْ یَتَوَضَّأُ وَمِنْھُمْ مَنْ لَا یَتَوَضَّأُ۔ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ اپنے پہلوؤں پر سوجاتے تھے، پھر (نماز ادا کرتے وقت) کوئی وضو کرتا تھا اور کوئی نہیں کرتا تھا۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ بیٹھ کر اور لیٹ کر سونے میں اس اعتبار سے فرق کرنا درست نہیں ہے کہ بیٹھنے والے کا وضو برقرار رہتا ہے اور لیٹ جانے والے کا ٹوٹ جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 771
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 376 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13941 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13983»
حدیث نمبر: 772
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا نَوَّامًا وَكُنْتُ إِذَا صَلَّيْتُ الْمَغْرِبَ وَعَلَيَّ ثِيَابِي نَمْتُ، ثُمَّ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: فَأَنَامُ قَبْلَ الْعِشَاءِ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَرَخَّصَ لِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بہت زیادہ سونے والا آدمی تھا، اس لیے جب میں مغرب پڑھتا اور مجھ پر میرے کپڑے ہوتے تو میں سو جاتا، پھر ایک دفعہ یحیی بن سعید نے علیؓ کی بات نقل کرتے ہوئے یہ کہا: تو میں عشاء سے پہلے سو جاتا پس جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے رخصت دے دی۔
وضاحت:
فوائد: … ان روایات سے معلوم ہوا کہ صحابۂ کرام بیٹھ کر بھی سو جاتے تھے اور لیٹ کر بھی، لیکن اِس نیند کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔ لیکن درج ذیل دو احادیث میں نیند کو مطلق طور پر ناقضِ وضو قرار دیا گیا ہے: (۱) سیدنا صفوانؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَ یَأْمُرُنَا (یَعْنِی النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اِذَا کُنَّا سَفَرًا أَوْ مُسَافِرِیْنَ أَنْ لَّا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَـلَاثَۃَ أَیَّامٍ وَلَیَالِیَہُنَّ اِلَّا مِنْ جَنَابَۃٍ وَلٰـکِنْ مِن غَائِطٍ وَبَولٍ وَنَوْمٍ۔
… نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم سفر کر رہے ہوں تو تین دنوں اور راتوں تک پائخانے، پیشاب اور نیند کی وجہ سے موزے نہ اتارا کریں، البتہ جنابت کی وجہ سے اتارنے ہوں گے۔ (ترمذی: ۳۵۳۵، نسائی: ۱/ ۹۸، ابن ماجہ: ۴۷۸، واللفظ لاحمد) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پیشاب اور پائخانہ کی طرح نیند بھی مطلق طور پر ناقضِ وضو ہے۔
(۲) سیدنا علیؓسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((وِکَائُ السَّہِ الْعَیْنَانِ فَمَنْ نَامَ فَلْیَتَوَضَّأْ۔)) … بیشک آنکھیں، دُبُر کے لیے تسمہ ہیں، اس لیے جو سو جائے، وہ وضو کرے۔ (ابوداود: ۲۰۳، ابن ماجہ: ۴۷۷) سیدنا معاویہ بن ابی سفیانؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ الْعَیْنَ وِکَائُ السَّہِ، فَاِذَا نَامَتِ الْعَیْنَانِ اسْتَطْلَقَ الْوِکَائُ۔)) … بیشک آنکھ، دُبُر کے لیے تسمہ ہے، اس لیے جب آنکھیں سو جاتی ہیں تو تسمہ کھل جاتا ہے۔ (مسند أحمد: ۱۶۸۷۹،دارمی: ۱/ ۱۸۴، بیھقی: ۱/ ۱۱۸، دارقطنی: ۱/ ۱۶۰) یہ احادیث بھی مطلق طور پر اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ نیند مطلق طور پر وضو کو توڑ دیتی ہے۔
(۳) تیسری بات یہ ہے کہ بعض لوگوں کو اس طرح پایا گیا کہ بیٹھے بیٹھے ان کو نیند آ گئی اور نیند کے دوران آواز کے ساتھ ان کی ہوا خارج ہوئی، لیکن ان کو علم تک نہ ہو۔ پھر ان کو بتلایا گیا کہ اُن کا وضو ٹوٹ چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس باب کی احادیث اور ان کی شرح سے ثابت ہوتا ہے کہ نیند سے وضو نہیں ٹوٹتا، جبکہ درج بالا تین احادیث سے یہ پتہ چل رہا کہ نیند ناقض وضو ہے۔ راجح مذہب کے مطابق ان نصوص میں جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ درج بالا جن احادیث میں نیند کے ناقضِ وضو ہونے کا ذکر ہے، ان کو ناسخ سمجھ کر نیند کو مطلق طور پر وضو توڑ دینے والا امر قرار دیا جائے اور جن احادیث میں صحابہ کے سونے اور پھر وضو نہ کرنے کا ذکر ہے، ان کو منسوخ سمجھا جائے، اس صورت کی درج ذیل وجوہات ہیں: (۱) اگر اباحت اور حظر میں تعارض پیدا ہو جائے تو حظر کو مقدم کیا جاتا ہے، ان روایات میں نیند کا ناقضِ وضو ہونا حظر ہے۔
(۲)اگر متعارض امور میں سے ایک کا تعلق براء تِ اصلیہ سے ہو تو اسے منسوخ سمجھا جائے گا، اس اعتبار سے نیند کو توڑ دینے والے حکم پر مشتمل احادیث ناسخ اور قابل عمل قرار پاتی ہیں۔
(۳) متعارض نصوص میں احوط یعنی زیادہ احتیاط والی نص پر عمل کیا جائے اور اِن احادیث میں زیادہ احتیاط اس میں ہے کہ نیند کو ناقضِ وضو سمجھ لیا جائے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ صورتیں اس وقت اختیار کی جاتی ہیں جب واضح طور پر نسخ کا علم نہ ہو سکے۔ اونگھ اور اس کی طرح کی ہلکی نیند، جس میں شعور باقی رہتا ہے، ناقض و ضو نہیں ہے۔
صحابہ کے نیند سے وضو نہ کرنے کی صورت کو بھی ہلکی نیند پر محمول کر لیا جائے جس سے شعور باقی رہتا ہے تو اس طرح بھی متعارض نصوص کا تعارض ختم ہو سکتا ہے۔ علامہ عبیداللہ رحمانی رحمتہ اللہ علیہ نے (مرعاۃ المفاتیح، ص: ۳۹۶، رقم الحدیث: ۳۱۹) میں ابو علامہ محمد بن اسماعیل صنعانی نے سبل السلام کے آغاز میں اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 772
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابن ابي ليلي سييء الحفظ، وجدة ابن الاصبھاني لاتُعرف ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 892 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 892»