حدیث نمبر: 758
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا نَكُونُ بِالْبَادِيَةِ فَتَخْرُجُ مِنْ أَحَدِنَا الرُّوَيْحَةُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، إِذَا فَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ وَلَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ، وَقَالَ مَرَّةً: فِي أَدْبَارِهِنَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی بن طلق ؓ سے مروی ہے کہ ایک بدّو ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم جنگل میں ہوتے ہیں اور کسی کی ہوا نکل جاتی ہے، (ایسے میں کیا کریں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ حق کو بیان کرنے سے نہیں شرماتا، جب تم میں کوئی اس طرح کرتا ہے تو وہ وضو کیا کرے اور عورتوں کو پشت سے استعمال نہ کیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث کے آخری جملے کی وضاحت: معلوم ہوا کہ بیوی کو پشت سے استعمال کرنا یعنی اس سے غیر فطری جماع کرنا حرام ہے، خاوندوں کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جس عضو کو حق زوجیت کا محل قرار دیا ہے، اسی کو استعمال کریں۔ غیر فطری جماع سے مراد پائخانہ والی جگہ کو استعمال کرنا ہے، اس کا یہ مفہوم نہیں کہ خاوند اپنی بیوی کو الٹا نہیں لٹا سکتا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ فَأْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِئْتُمْ} (سورۂ بقرہ: ۲۲۳) یعنی: تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، اپنی کھتیوں میں جس طرح چاہو آؤ۔ یہودیوں کا خیال تھا کہ اگر عورت کو پیٹ کے بل لٹا کر مباشرت کی جائے تو بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے۔ ان کے خیال کی تردید کی جا رہی ہے کہ چت لٹا کر مباشرت کی جائے یا پیٹ کے بل یا کروٹ پر، اس سے اولاد میں کوئی فرق نہیں پڑتا، ضروری یہ ہے کہ ہر صورت میں عورت کی مباشرت والی جگہ ہی استعمال ہو۔
حدیث نمبر: 759
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ قَالَ: رَأَيْتُ السَّائِبَ بْنَ خَبَّابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَشُمُّ ثَوْبَهُ، فَقُلْتُ لَهُ: مِمَّ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَا وَضُوءَ إِلَّا مِنْ رِيحٍ أَوْ سَمَاعٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
محمد بن عمرو کہتے ہیں: میں نے سیدنا سائب بن خباب ؓ کو دیکھا کہ وہ اپنے کپڑے کو سونگ رہے تھے، میں نے کہا: ایسے کیوں کر رہے ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: صرف بدبوسے یا ہوا کی آواز سن لینے سے وضو ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حکم اس شخص کے لیے ہے، جس کو وضو کر لینے کے بعد وضو کے ٹوٹ جانے کا شک پڑ جائے،یعنی جب تک اسے بدبو پا لینے یا آواز سن لینے کے ساتھ یہ یقین نہ ہو جائے کہ واقعی وضو ٹوٹ گیا ہے، تو اس کا پہلا وضو برقرار رہے گا۔ اگلی حدیث کے فوائد میں مذکورہ حدیث سے یہی مفہوم واضح ہو رہا ہے۔
حدیث نمبر: 760
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا وَضُوءَ إِلَّا مِنْ حَدَثٍ أَوْ رِيحٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وضو کرنا نہیں ہے، مگر ہوا کی آواز سے یا بو پا لینے سے۔
وضاحت:
فوائد: … امام بیہقی نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ درج بالا حدیث دراصل درج ذیل حدیث کا اختصار ہے: سیدنا ابو ہریرہ ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا وَجَدَ اَحُدُکُمْ فِیْ صَلَاتِہٖ حَرَکَۃً فِیْ دُبُرِہٖ، فَاَشْکَلَ عَلَیْہِ اَحْدَثَ اَمْ لَمْ یُحْدِثْ، فَلَا یَنْصَرِفْ حَتّٰی یَسْمَعَ صَوْتًا اَوْ یَجِدَ رِیْحًا۔)) … جب تم میں سے کوئی آدمی نماز میں اپنی دُبُر میں کوئی حرکت پائے اور اسے یہ شبہ پڑ جائے کہ وہ بے وضو ہو گیا ہے یا نہیں، تو وہ اس وقت تک (نئے وضو کے لیے) نہ جائے، جب تک آواز نہ سن لے یا بدبو نہ پا لے۔ (صحیح مسلم: ۳۶۲، واللفظ لاحمد: ۹۳۵۵) بہرحال اس حدیث ِ مبارکہ سے اوپر والی احادیث کا مفہوم واضح ہو جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 761
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ مَنْ أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ)) قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ حَضَرَمَوْتَ: مَا الْحَدَثُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: فُسَاءٌ أَوْ ضُرَاطٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے وضو ہو جانے والا جب تک وضو نہیں کرے گا، اس وقت تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی۔ یہ سن کر حضرموت کے ایک باشندے نے ان سے سوال کیا: اے ابوہریرہ! حَدَث سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: پھسکی چھوڑنا یا گوز مارنا۔
وضاحت:
فوائد: … عام طور پر ہوا خارج ہونے سے ہی وضو ٹوٹتا ہے، اس لیے سیدنا ابو ہریرہ ؓنے صرف اِس چیز کا ذکر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 762
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَتَتْ سَلْمَى مَوْلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ امْرَأَةُ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَسْتَأْذِنُهُ عَلَى أَبِي رَافِعٍ قَدْ ضَرَبَهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي رَافِعٍ: ((مَالَكَ وَلَهَا يَا أَبَا رَافِعٍ؟)) قَالَ: تُؤْذِينِي يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((بِمَ آَذَيْتِيهِ يَا سَلْمَى؟)) قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا آَذَيْتُهُ بِشَيْءٍ وَلَكِنَّهُ أَحْدَثَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا رَافِعٍ! إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ الْمُسْلِمِينَ إِذَا خَرَجَ مِنْ أَحَدِهِمُ الرِّيحُ أَنْ يَتَوَضَّأَ، فَقَامَ فَضَرَبَنِي، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ وَيَقُولُ: ((يَا أَبَا رَافِعٍ! إِنَّهَا لَمْ تَأْمُرْكَ إِلَّا بِخَيْرٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زوجۂ رسول سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ کی لونڈی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام سیدنا ابو رافعؓ کی بیوی سیدہ سلمی اپنے خاوند کی شکایت کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں، اس نے اس کو مارا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو رافعؓ سے فرمایا: ابو رافع! تیرا اور اس کا کیا معاملہ ہے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ مجھے تکلیف دیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سلمی! تو نے اس کو کون سی تکلیف دی ہے ؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس کو کوئی تکلیف نہیں دی، یہ بات ضرور ہوئی کہ نماز کے اندر اس کا وضو ٹوٹ گیا، اس لیے میں نے اس سے کہا: اے ابو رافع! بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ جب کسی کی ہوا خارج ہو جائے تو وہ وضو کیا کرے، لیکن یہ کہنا تھا کہ انھوں نے اٹھ کر مجھے مارنا شروع کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ سن کر مسکرانے لگ گئے اور یہ فرمانے لگے: ابو رافع! اس نے تو تجھے خیر کا ہی حکم دیا تھا۔