حدیث نمبر: 746
عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((امْسَحُوا عَلَى الْخِفَافِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ)) وَلَوِ اسْتَزَدْنَاكَ لَزَادَنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین دنوں تک موزوں پر مسح کر سکتے ہو۔ اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ (دنوں کی رخصت) کا مطالبہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں زیادہ رخصت دے دیتے۔
حدیث نمبر: 747
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ لِلْمُسَافِرِ وَيَوْمًا وَلَيْلَةً لِلْمُقِيمِ وَأَيْمُ اللَّهِ! لَوْ مَضَى السَّائِلُ فِي مَسْأَلَتِهِ لَجَعَلَهَا خَمْسًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسافر کے لیے تین دنوں کی اور مقیم کے لیے ایک دن اور رات کی رخصت دی، اللّٰہُ کی قسم! اگر سائل مزید سوال کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانچ دنوں کی رخصت دے دینی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … ان دونوں روایات سے واضح طور پر یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ مسافر کو تین سے زیادہ دنوں تک مسح کرنے کی گنجائش ہے، البتہ اس موضوع پر درج ذیل روایت قابل توجہ ہے: حضرت عقبہ بن عامر جہنی ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: خَرَجتُ مِنَ الشَّامِ إِلٰی الْمَدِیْنَۃِ یَوْمَ الْجُمَعَۃِ، فَدَخَلْتُ عَلٰی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: مَتٰی أَوْلَجْتَ خُفَّیْکَ فِی رِجْلَیْکَ؟ قُلْتُ: یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، قَالَ: فَھَلْ نَزَعْتَھُمَا؟ قُلْتُ: لَا۔ قَالَ: أَصَبْتَ السُّنَّۃَ۔ … میں جمعہ کے روز شام سے مدینہ کی طرف روانہ ہوا، (جب وہاں پہنچا تو) حضرت عمر بن خطاب ؓ کے پاس گیا۔ انھوں نے کہا: تم نے موزے کب پہنے تھے؟ میں نے کہا: جمعہ کے روز۔ انھوں نے پوچھا: کیا پھر ان کو اتارا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انھوں نے کہا: تم نے سنت کی موافقت کی ہے۔ (شرح معانی الآثار: ۱/۴۸،دارقطنی: ص۷۲، حاکم: ۱/۱۸۰ـ ۱۸۱،صحیحہ: ۲۶۲۲) جب صحابی کسی عمل یا قول کو سنت کہہ دے تو اس کی مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہوتی ہے۔ اس حدیث کا پچھلے باب کی احادیث سے تعارض ہے، کیونکہ ان میں مسافر کو تین دنوں کی اور اس میں سات دنوں کی گنجائش دی گئی ہے۔ ان دو احادیث میں اس طرح جمع و تطبیق ممکن ہے کہ سات دنوں والی روایت کو ضرورت اور جماعت کی معیت میں رہنے کی وجہ سے موزے نہ اتار سکنے پر محمول کیا جائے، شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کا بھی یہی خیال ہے۔
حدیث نمبر: 748
عَنْ عُمَرَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَرَأْتُ فِي كِتَابٍ لِعَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ مَعَ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: فَسَأَلْتُ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، قَالَتْ: قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَكُلِّ سَاعَةٍ يَمْسَحُ الْإِنْسَانُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَلَا يَنْزِعُهُمَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
کرنے کی گنجائش ہے، البتہ اس موضوع پر درج ذیل روایت قابل توجہ ہے: حضرت عقبہ بن عامر جہنی ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: خَرَجتُ مِنَ الشَّامِ إِلٰی الْمَدِیْنَۃِ یَوْمَ الْجُمَعَۃِ، فَدَخَلْتُ عَلٰی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: مَتٰی أَوْلَجْتَ خُفَّیْکَ فِی رِجْلَیْکَ؟ قُلْتُ: یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، قَالَ: فَھَلْ نَزَعْتَھُمَا؟ قُلْتُ: لَا۔ قَالَ: أَصَبْتَ السُّنَّۃَ۔ … میں جمعہ کے روز شام سے مدینہ کی طرف روانہ ہوا، (جب وہاں پہنچا تو) حضرت عمر بن خطاب ؓ کے پاس گیا۔ انھوں نے کہا: تم نے موزے کب پہنے تھے؟ میں نے کہا: جمعہ کے روز۔ انھوں نے پوچھا: کیا پھر ان کو اتارا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انھوں نے کہا: تم نے سنت کی موافقت کی ہے۔ (شرح معانی الآثار: ۱/۴۸،دارقطنی: ص۷۲، حاکم: ۱/۱۸۰ـ ۱۸۱،صحیحہ: ۲۶۲۲) جب صحابی کسی عمل یا قول کو سنت کہہ دے تو اس کی مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہوتی ہے۔ اس حدیث کا پچھلے باب کی احادیث سے تعارض ہے، کیونکہ ان میں مسافر کو تین دنوں کی اور اس میں سات دنوں کی گنجائش دی گئی ہے۔ ان دو احادیث میں اس طرح جمع و تطبیق ممکن ہے کہ سات دنوں والی روایت کو ضرورت اور جماعت کی معیت میں رہنے کی وجہ سے موزے نہ اتار سکنے پر محمول کیا جائے، شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کا بھی یہی خیال ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، نیز یہ مسح سے متعلقہ کسی خاص مسئلے پر دلالت نہیں کرتی۔