حدیث نمبر: 741
عَنْ شُرَيْحٍ بْنِ هَانِئٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَتْ: سَلْ عَلِيًّا فَإِنَّهُ أَعْلَمُ بِهَذَا مِنِّي، كَانَ يُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَسَأَلْتُ عَلِيًّا فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
شریح بن ہانی کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہؓ سے موزوں پر مسح کی مدت کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: سیدنا علیؓ سے اس بارے میں سوال کرو، وہ اس بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے۔ پس میں نے سیدنا علی ؓ سے سوال کیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور رات۔
حدیث نمبر: 742
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَقَالَ: ((سِيرُوا بِاسْمِ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تُقَاتِلُونَ أَعْدَاءَ اللَّهِ وَلَا تَغْلُوا وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا، وَلِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ إِذَا أَدْخَلَ رِجْلَيْهِ عَلَى طُهُورٍ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا صفوان بن عسال مرادی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک سریّہ میں بھیجا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ اس کے راستے میں چلو، اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے جہاد کرو، غلُوّ سے بچو، بچوں کو قتل نہ کرو، مسافر تین دنوں اور راتوں تک اور مقیم ایک دن اور ایک رات تک موزوں پر مسح کرسکتا ہے، بشرطیکہ اس نے موزے وضو کی حالت میں پہنے ہوں۔
حدیث نمبر: 743
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كَانَ يَأْمُرُنَا (يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) إِذَا كُنَّا سَفَرًا أَوْ مُسَافِرِينَ أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا صفوان ؓ سے ہی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم سفر کر رہے ہوں تو تین دنوں اور راتوں تک پائخانے، پیشاب اور نیند کی وجہ سے موزے نہ اتارا کریں، البتہ جنابت کی وجہ سے اتارنے ہوں گے۔
حدیث نمبر: 744
عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: ((يَمْسَحُ الْمُسَافِرُ ثَلَاثَ لَيَالٍ (وَفِي رِوَايَةٍ: ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ) وَالْمُقِيمُ يَوْمًا وَلَيْلَةً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا خزیمہ بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسافر تین دنوں اور راتوں تک اور مقیم ایک دن اور ایک رات تک مسح کر سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 745
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِالْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ لِلْمُسَافِرِ وَلَيَالِيهِنَّ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناعوف بن مالک اشجعی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ تبوک کے موَقَعَ پر حکم دیا کہ مسافر تین دنوں اور راتوں تک اور مقیم ایک دن اور ایک رات تک موزوں پر مسح کر سکتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان روایات سے معلوم ہوا کہ مقیم ایک دن یعنی چوبیس گھنٹوں تک اور مسافر تین دنوں تک موزوں پر مسح کر سکتا ہے، مزید وضاحت اگلے باب میں ہو گی۔ ذہن نشین کر لیں کہ مسح کی مدت موزے پہننے سے نہیں، بلکہ اس وقت سے شروع ہو گی، جب سے وضو ٹوٹے گا، اس کی وضاحت یہ ہے کہ ایک آدمی نے ظہر کے وقت وضو کر کے موزے لیے، لیکن عصر کے وقت وضو ٹوٹتا ہے تو مسح کی مدت کا آغاز عصر سے ہو گا۔