کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: موزے پہننے سے پہلے باوضو ہونے کی شرط کا بیان
حدیث نمبر: 738
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَضَّأْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَلَا أَنْزِعُ خُفَّيْكَ؟ قَالَ: ((لَا، إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ ثُمَّ لَمْ أَمْشِ حَافِيًا بَعْدُ)) ثُمَّ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کووضو کروایا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چہرہ اور بازو دھوئے، پھر سر کا مسح کر کے موزوں پر بھی مسح کر دیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے موزوں کو اتار نہ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، جب میں نے یہ پہنے تھے تو میرے پاؤں پاک تھے اور اس کے بعد ابھی تک میں ننگے پاؤں نہیں چلا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ فجر ادا کی۔
وضاحت:
فوائد: … میرے پاؤں پاک تھے۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کی حالت میں تھے۔ اس کے بعد ابھی تک میں ننگے پاؤں نہیں چلا۔ ان الفاظ سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ جن موزوں کو وضو کی حالت میں پہنا گیا ہو، ان پر مسح کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بعد میں ان کو اتارا نہ گیا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 738
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 206، 5799، ومسلم: 274 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18141 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18322»
حدیث نمبر: 739
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّهُ سَافَرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَادِيًا فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ خَرَجَ فَأَتَاهُ فَتَوَضَّأَ فَخَلَعَ خُفَّيْهِ فَتَوَضَّأَ فَلَمَّا فَرَغَ وَجَدَ رِيحًا بَعْدَ ذَلِكَ فَعَادَ فَخَرَجَ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! نَسِيتَ لَمْ تَخْلَعِ الْخُفَّيْنِ؟ قَالَ: ((كَلَّا، بَلْ أَنْتَ نَسِيتَ، بِهَذَا أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مغیرہؓ سے ہی مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر کیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک وادی میں داخل ہوئے، قضائے حاجت کی اور پھر باہر تشریف لے آئے اور میرے پاس آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور موزے اتار کر وضو کیا، لیکن جب فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (پیٹ میں) ہوا محسوس ہوئی، اس لیے دوبارہ لوٹ گئے پھر آپ تشریف لائے اور پھر وضو کیا، لیکن اس بار موزوں پر مسح کیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ بھول گئے ہیں کہ موزے نہیں اتارے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہر گزنہیں، بلکہ تم بھول گئے ہو، مجھے اس طرح مسح کرنے کا تو میرے ربّ نے مجھے حکم دیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 739
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «ضعيف بھذه السياقة، تفرد بھا بكير بن عامر البجلي وھو ضعيف۔ أخرجه ابوداود: 156 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18145 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18326»
حدیث نمبر: 740
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((وَضِّئْنِي)) فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوءٍ فَاسْتَنْجَى ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي التُّرَابِ فَمَسَحَهَا ثُمَّ غَسَلَهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! رِجْلَاكَ لَمْ تَغْسِلْهُمَا، قَالَ: ((إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے وضوء کرواؤ۔ پس میں وضو کا پانی لے کر آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے استنجا کیا، پھر اپنا ہاتھ مٹی میں داخل کیا اور اس کے ساتھ ملا،پھر اس کو دھویا اور وضو کیا، وضو میں موزوں پر مسح کیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اپنے پاؤں نہیں دھوئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جب میں نے موزے پہنے تھے تو پاؤں پاک تھے۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت باوضو تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نمازی جن موزوں پر مسح کرنا چاہتا ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کو وضو کی حالت میں پہنے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 740
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابان بن عبد الله البجلي في حفظه لين، والراوي عن ابي ھريرة مبھم، ويشھد لمسح الخفين احاديث اخري۔ أخرجه الدارمي: 678، وابويعلي: 6136، والبيھقي: 1/ 107 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8695 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8680»