کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: وضو کے بعد شرمگاہ پر چھینٹے مارنے کا بیان
حدیث نمبر: 713
عَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَاهُ فِي أَوَّلِ مَا أُوحِيَ إِلَيْهِ فَعَلَّمَهُ الْوُضُوءَ وَالصَّلَاةَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الْوُضُوءِ أَخَذَ غُرْفَةً مِنْ مَاءٍ فَنَضَحَ بِهَا فَرْجَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا زید بن حارثہؓ سے مروی ہے کہ ابتدائے وحی والے زمانے میں جبریلؑ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وضو اور نماز کی تعلیم دی، جب وہ وضو سے فارغ ہوئے تو پانی کا ایک چلّو لیا اور اپنی شرمگاہ پر چھڑک دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 713
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «قال الالباني: صحيح (السلسلة الصحيحة: 841)۔ أخرجه ابن ماجه: 462 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17480 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17619»
حدیث نمبر: 714
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا نَزَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَّمَهُ الْوُضُوءَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ وَضُوئِهِ أَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَرَشَّ بِهَا نَحْوَ الْفَرْجِ، قَالَ: فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرُشُّ بَعْدَ وَضُوئِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا اسامہ بن زیدؓ سے مروی ہے کہ جبریلؑ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اترے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وضو کی تعلیم دی اور جب وہ وضو سے فارغ ہوئے تو ایک چلّو پانی کا لے کر اس کو شرمگاہ پر چھڑک دیا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی وضو کے بعد اس طرح پانی چھڑکا کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث کے مزید شواہد بھی موجود ہیں، حدیث نمبر (۵۴۸)میں بھی یہ مسئلہ گزر چکا ہے، ان احادیث کا خلاصہ اور تقاضا یہ ہے کہ وضو کے بعد پانی کا ایک چلو شرمگاہ پر چھڑک دیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 714
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف رشدين بن سعد۔ أخرجه الدارقطني: 1/ 111، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21771 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22114»