کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: وضو میں خشک رہ جانے والی جگہ، اعضائے وضو کا پے درپے دھونے اور وضو کو اچھے¤اندار سے کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 693
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَوَضَّأَ وَتَرَكَ عَلَى قَدَمِهِ مَوْضِعَ الظُّفْرِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وَضُوءَكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی وضو کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، لیکن اس کے پاؤں پر ناخن کے برابر جگہ خشک رہ گئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”لوٹ جا اور اچھی طرح وضو کر کے آ۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 693
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12515»
حدیث نمبر: 694
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا تَوَضَّأَ فَتَرَكَ مَوْضِعَ ظُفْرٍ عَلَى ظَهْرِ قَدَمِهِ، فَأَبْصَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وَضُوءَكَ)) فَرَجَعَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ وضو کر کے آیا تھا، لیکن اس کے قدم کی پشت پر ناخن کے برابر جگہ خشک رہ گئی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھ کر فرمایا: ”واپس چلا جا اور اچھی طرح وضو کر کے آ۔“ پس اس نے واپس جا کر دوبارہ وضو کیا اور پھر آ کر نماز پڑھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 694
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 243 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 134 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 134»
حدیث نمبر: 695
عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي وَفِي ظَهْرِ قَدَمِهِ لُمْعَةٌ قَدْرُ الدِّرْهَمِ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ الْوُضُوءَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
خالد بن معدان رحمہ اللہ ایک صحابی رسول سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، جبکہ اس کے قدم کی پشت پر درہم کے بقدر جگہ خشک رہ گئی تھی، اس کو پانی نہیں پہنچا تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ دوبارہ وضو کرے۔
وضاحت:
فوائد: … وضو میں موالاۃ ضروری ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ اعضائے وضو کو لگاتار اور پے در پے دھویا جائے۔ اس کی مزید وضاحت اس طرح ہے کہ جب آدمی وضو سے فارغ ہو تو اس کے سارے اعضا گیلے ہونے چاہئیں، یہ درست نہیں ہے کہ بیچ میں اتنا وقفہ ڈال دیا جائے کہ جب آدمی پاؤں دھونے سے فارغ ہو تو اس کا چہرہ خشک ہو چکا ہو۔ مذکورہ بالا احادیث کی یہی فقہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ وضو کرنے کا حکم اس بنا پر دیا کہ متعلقہ صحابی کے اعضا خشک ہو چکے تھے۔ اگر بندے کو اس حال میں کسی عضو کے خشک رہ جانے کا پتہ چلے کہ سارے اعضائے وضو ابھی تک تر ہوں تو اس کو چاہیے کہ وہ فوراً خشک جگہ کو تر کر دے، ایسی صورت میں دوبارہ وضو کرنے کی ضرورت نہیں ہے، درج ذیل دو احادیث سے بھی اس اجتہاد کا استدلال کرنا ممکن ہے: (۱)غسل جنابت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غسل کے آخر میں پاؤں دھو کر وضو مکمل کرنا
اور (۲) ایک موقع پر بازو دھونے کے بعد کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا
پہلی حدیث کے مطابق غسل کا وقفہ کا پڑ جانے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف پاؤں دھوئے اور دوسری حدیث کے مطابق کلی اور ناک رہ گئے تھے، لیکن بازو دھونے کے بعد ان کو کر لیا گیا، دوسرے اعضا کو دوبارہ نہ دھونے کی وجہ یہ تھی کہ ابھی تک وہ گیلے تھے، یہ ایک اجتہادی رائے ہے، یہ دونوں احادیث پہلے گزر چکی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 695
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 175 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15495 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15576»
حدیث نمبر: 696
عَنْ أَبِي رَوْحِ النَّكَلَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَقَرَأَ بِالرُّومِ فَتَرَدَّدَ فِي آيَةٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((إِنَّهُ يُلَبَّسُ عَلَيْنَا الْقُرْآنُ، إِنَّ أَقْوَامًا يُصَلُّونَ مَعَنَا لَا يُحْسِنُونَ الْوُضُوءَ، فَمَنْ شَهِدَ الصَّلَاةَ مَعَنَا فَلْيُحْسِنِ الْوُضُوءَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو روح کلاعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز فجر پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ روم کی تلاوت شروع کی، لیکن ایک آیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تردد ہونے لگا، جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا: ”قرآن ہم پر خلط ملط کیا جاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ساتھ نماز پڑھنے والے بعض لوگ اچھی طرح وضو نہیں کرتے، لہذا جس نے ہمارے ساتھ نماز پڑھنی ہو، وہ اچھی طرح وضو کر کے آیا کرے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 696
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن۔ أخرجه النسائي: 2/ 156، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15874 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15969»
حدیث نمبر: 697
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ: ((إِنَّمَا لَبَّسَ عَلَيْنَا الشَّيْطَانُ الْقِرَاءَةَ مِنْ أَجْلِ أَقْوَامٍ يَأْتُونَ الصَّلَاةَ بِغَيْرِ وَضُوءٍ، فَإِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَأَحْسِنُوا الْوُضُوءَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو روح کلاعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان اس وجہ سے ہم پر قراءت کو خلط ملط کر دیتا ہے کہ بعض لوگ بغیر وضو کے نماز پڑھنے آ جاتے ہیں، پس جب تم نماز کے لیے آؤ تو اچھی طرح وضو کر کے آیا کرو۔“
وضاحت:
فوائد: … چونکہ عہد ِ نبوی میں پانی کی بہت کمی تھی، اس لیے ایسی صورتحال پیدا ہو جانا ممکن تھا، لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بعض مقتدیوں کی اس سستی سے متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے، اس سے ان لوگوں کو اپنی زندگیوں کا جائزہ لے لینا چاہیے، جن کے آگے پیچھے برے لوگ بسیرا کرتے ہیں اور وہ ہر وقت گپوں اور اول فول بکنے میں مصروف رہتے ہیں، اگر کسی کا مقصد ایمان کی سلامتی ہو تو اس کو چاہیے کہ بدوں سے دور ہو جائے اور نیکوں کے قریب ہو جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 697
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15967»