حدیث نمبر: 691
عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ خَلَّلَ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ بِخِنْصَرِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
صحابی رسول سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تو چھنگلی انگلی کے ساتھ پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 692
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الصَّلَاةِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: خَلِّلْ أَصَابِعَ يَدَيْكَ وَرِجْلَيْكَ يَعْنِي إِسْبَاغَ الْوُضُوءِ، وَكَانَ فِيمَا قَالَ لَهُ: إِذَا رَكَعْتَ فَضَعْ كَفَّيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ (وَفِي رِوَايَةٍ: حَتَّى تَطْمَئِنَّا) وَإِذَا سَجَدْتَ فَأَمْكِنْ جَبْهَتَكَ مِنَ الْأَرْضِ حَتَّى تَجِدَ حَجْمَ الْأَرْضِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے بارے میں کوئی سوال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرو۔“ آپ کی مراد یہ تھی کہ وضو مکمل طور پر کیا جائے۔ مزید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ بھی فرمایا تھا: ”جب تو رکوع کرے تو اپنی ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھ کر (رکوع کی حالت میں) مطمئن ہو جا اور جب تو سجدہ کرے تو اپنی پیشانی کو اچھی طرح زمین پر رکھ، حتی کہ تو زمین کی ضخامت پائے۔“
وضاحت:
فوائد: … آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ دورانِ سجدہ پیشانی کا زمین پر زور آنا چاہیے اور وہ اس طرح ممکن ہو گا کہ سنت کے مطابق بازوؤں کو پہلوؤں سے اچھی طرح جدا کیا جائے، تاکہ ناک اور پیشانی زمین پر اچھی طرح ٹک سکیں۔ ہاتھوں اور پاؤں کو دھوتے وقت ان کی انگلیوں کا خلال کیا جائے، تاکہ ان کا اندرونی حصہ خشک نہ رہ جائے۔