کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: وضو کو مکمل طور پر کرنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان ایڑھیوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے کا بیان
حدیث نمبر: 684
عَنْ سَالِمٍ سَبَلَانَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَى مَكَّةَ، قَالَ: وَكَانَتْ تَخْرُجُ بِأَبِي يَحْيَى التَّيْمِيِّ يُصَلِّي بِهَا فَأَدْرَكْنَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَأَسَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْوُضُوءَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ! أَسْبِغِ الْوُضُوءَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ النَّارِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سالم سبلان رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف سفر کرتے تھے۔ سیدہ، ابو یحیی تیمی کے ساتھ جایا کرتی تھیں اور وہ ان کو نماز پڑھاتے تھے، ایک دن ہم نے عبدالرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پا لیا، انہوں نے ناقص وضو کیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: ”اے عبدالرحمن! وضو مکمل کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’قیامت کے دن ایڑیوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے۔‘“
حدیث نمبر: 685
(وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: تَوَضَّأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ! أَسْبِغِ الْوُضُوءَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((وَيْلٌ لِلْعَرَاقِيبِ مِنَ النَّارِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں وضو کیا، تو انہوں نے ان سے کہا: ”اے عبدالرحمن! وضو مکمل طور پر کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’ایڑیوں کے اوپر والے حصوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے۔‘“
حدیث نمبر: 686
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا يَتَوَضَّأُونَ فَلَمْ يَمْسَسْ أَعْقَابَهُمُ الْمَاءُ، فَقَالَ: ((وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ، (وَفِي رِوَايَةٍ: لِلْعَرَاقِيبِ) مِنَ النَّارِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا اور ان کی ایڑیوں تک پانی نہیں پہنچا تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی ایڑیوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے۔“
حدیث نمبر: 687
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا يَتَوَضَّأُونَ وَأَعْقَابُهُمْ تَلُوحُ فَقَالَ: ((وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ، أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا، لیکن ان کی ایڑیوں کی خشکی واضح طور پر نظر آ رہی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی ایڑیوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے، پوری طرح وضو کرو۔“
حدیث نمبر: 688
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی قسم کی ایک حدیث بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 689
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ وَبُطُونِ الْأَقْدَامِ مِنَ النَّارِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایڑیوں کے لیے اور پاؤں کے تلووں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے۔“
حدیث نمبر: 690
عَنْ سَعِيدِ بْنِ خُثَيْمٍ الْهِلَالِيِّ قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي رِبْعِيَّةُ بِنْتُ عَيَاضٍ الْكِلَابِيَّةُ عَنْ جَدِّهَا عُبَيْدَةَ بْنِ عَمْرٍو الْكِلَابِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَأَسْبَغَ الطَّهُورَ، وَكَانَتْ هِيَ إِذَا تَوَضَّأَتْ أَسْبَغَتِ الطَّهُورَ حَتَّى تَرْفَعَ الْخِمَارَ فَتَمْسَحَ رَأْسَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبیدہ بن عمرو کلابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکمل طور پر وضو کرتے تھے۔ اسی بنا پر جب ربعیہ وضو کرتیں تو وہ ہر عضو کو اچھی طرح دھو دھو کر وضو کرتی تھیں، یہاں تک کہ دوپٹہ اٹھا کر سر کا مسح کرتی تھیں۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث میں وضو میں خشک رہ جانے والی ایڑھیاں مراد ہیں، اگر کسی اور عضو کا کوئی حصہ خشک رہ گیا تو اس کا بھی یہی حکم ہو گا، جیسے کہنیاں اور پاؤں کے تلوے وغیرہ۔ ان احادیث کا تقاضا یہ ہے کہ احتیاط اور اہتمام کے ساتھ وضو کیا جائے، لیکن تین بار سے زیادہ اعضا نہ دھوئے جائیں اور اس سلسلے میں شیطانی وسوسوں سے مکمل اجتناب کیا جائے۔