کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: پگڑی اور تساخین پر مسح کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 674
عَنْ ثَوْبَانَ (مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَأَصَابَهُمُ الْبَرْدُ، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا إِلَيْهِ مَا أَصَابَهُمْ مِنَ الْبَرْدِ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَمْسَحُوا عَلَى الْعَصَائِبِ وَالتَّسَاخِينِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا، ان کو اس سفر میں سردی محسوس ہوئی، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے تو انہوں نے سردی کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ ”پگڑیوں اور تساخین پر مسح کر لیا کریں۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 674
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 146 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22383 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22742»
حدیث نمبر: 675
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَعَلَى الْخِمَارِ يَعْنِي الْعِمَامَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں اور پگڑی پر مسح کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 675
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 146، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22783»
حدیث نمبر: 676
عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْعِمَامَةِ (وَفِي لَفْظٍ:) قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں اور پگڑی پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔ ایک روایت میں ہے: وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں اور پگڑی پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 676
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 205 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17245 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17377»
حدیث نمبر: 677
عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ صَوْحَانَ الْعَبْدِيِّ قَالَ: كُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ فَرَأَى رَجُلًا قَدْ أَحْدَثَ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَنْزِعَ خُفَّيْهِ، فَأَمَرَهُ سَلْمَانُ أَنْ يَمْسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ وَعَلَى عِمَامَتِهِ وَيَمْسَحَ بِنَاصِيَتِهِ، وَقَالَ سَلْمَانُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ وَعَلَى خِمَارِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو مسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، انہوں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ بے وضو ہو گیا اور اس نے موزے اتارنا چاہے، لیکن سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے اس کو حکم دیا کہ وہ موزوں اور پیشانی اور پگڑی پر مسح کر لے، پھر انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں اور پگڑی پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 677
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «المرفوع منه صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لجھالة ابي شريح وابي مسلم۔ أخرجه ابن ماجه: 563 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23717 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24118»
حدیث نمبر: 678
عَنْ بِلَالٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدْ سَأَلَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَيْفَ مَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْخُفَّيْنِ؟ قَالَ: تَبَرَّزَ ثُمَّ دَعَا بِمِطْهَرَةٍ (أَيْ إِدَاوَةٍ) فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ وَعَلَى خِمَارِ الْعِمَامَةِ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: ثُمَّ دَعَا بِمِطْهَرَةٍ بِالْإِدَاوَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر کیسے مسح کیا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قضائے حاجت کی، پھر برتن منگوایا اور چہرے اور ہاتھوں کو دھویا اور موزوں اور پگڑی پر مسح کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 678
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 275، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23891 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24388»
حدیث نمبر: 679
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى الْمُوْقِيْنِ وَالْخِمَارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مُوْق» اور پگڑی پر مسح کیا۔
وضاحت:
فوائد: … مُوْق: یہ موزے کی ہی ایک قسم ہے، البتہ اس کا پنڈلیوں والا حصہ کاٹا ہوا ہوتا ہے، اور ایک قول کے مطابق باریک موزے پر پہنے جانے والے موٹے موزے کو مُوْق کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 679
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24414»
حدیث نمبر: 680
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: امْسَحُوا عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موزوں اور پگڑی پر مسح کر لیا کرو۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 680
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح من فعله لا من قوله كما تقدم في الطريق الاول والثاني ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24390»
حدیث نمبر: 681
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ (يَصِفُ وَضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) قَالَ: فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَمَسَحَ عَلَى الْعِمَامَةِ وَعَلَى الْخُفَّيْنِ (الْحَدِيثُ بِتَمَامِهِ تَقَدَّمَ فِي بَابِ صِفَةِ الْوُضُوءِ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ دھویا، اپنے بازو دھوئے، پیشانی اور پگڑی پر اور موزوں پر مسح کیا۔ پوری حدیث باب صفت الوضو میں گزر چکی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … درج بالا حدیث میں سر کے مسح کے دو طریقے بیان کیے گئے ہیں، ایک مکمل پگڑی پراور دوسرا سرکے اگلے حصے اور پگڑی پر، پگڑی کے بغیر سر کا مسح کرنا تو واضح ہے۔ امام ابو حنیفہ سمیت بعض ائمہ کی رائے یہ ہے کہ صرف پگڑی پر مسح کرنا جائز نہیں ہے، لیکن درج بالا اور اس موضوع سے متعلقہ دیگر احادیث سے صرف پگڑی پر مسح کرنا روزے روشن کی طرح ثابت ہو رہا ہے۔ موزوں پر مسح کرنے سے متعلقہ احکام یہ ہیں: وضو کر کے موزے پہنے جائیں، عام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مقیم کو مکمل ایک دن یعنی چوبیس گھنٹے اور مسافر کو تین دنوں تک مسح کرنے کی سہولت دی گئی ہے۔ پیشاب، پائخانہ، نیند اور دوسرے نواقض وضو سے جب وضو ٹوٹ جاتا ہے تو مسح کی مدت پر کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ موزوں کو اتارنا پڑتا ہے، لیکن جب جنابت کا غسل فرض ہو جائے تو موزے اتار کر وضو اور غسل کرنا ضروری ہے۔ مسح کرتے وقت صرف پاؤں کے ظاہری حصے پر ہاتھ پھیر اجائے۔ جرابوں کا بھی یہی حکم ہے۔ موزوں کے مخصوص اور مزید احکام حدیث نمبر (۷۲۵) سے شروع ہوں گے۔ اب ہم جرابوں پر مسح کرنے کے دلائل ذکر کرتے ہیں: (۱) … سیدنا ثوبان ؓ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک جماعت کو باہر بھیجا، انہیں سفر میں سردی لگی، جب وہ واپس آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سردی کی شکایت کی تو فَأَمَرَھُمْ أَنْ یَمْسَحُوْا عَلٰی الْعَصَائِبِ واَلتَّسَاخِیْنِ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ پگڑیوں اور تَسَاخِیْن پر مسح کر لیا کریں۔ (احمد: ۵/ ۲۷۷، ابوداود: ۱۴۶) تساخین کے معانی ہیں: گرمی پہنچانے والی چیز، وہ چمڑے کا موزہ ہو یا سوتی یا اونی جرابیں۔ امام ابن ارسلانؓ نے کہا: اصل ذالک کُلُّ مَا یُسْخَنُ بِہِ الْقَدَمُ مِنْ خُفٍّ وَجَوْرَبٍ وَنَحْوِھِمَا۔ … تساخین ہر اس (۲) … سیدنا بلال ؓ کہتے ہیں: کَانَ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَمْسَحُ عَلٰی الْخُفَّیْنِ وَالْجَوْرَبَیْنِ۔ … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موزوں اور جرابوں پر مسح کیا کرتے تھے۔ (معجم کبیر للطبرانی: ۱/ ۳۵۰) اس کی سند یزید بن ابی زیاد کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن اس کے متعدد شواہد موجود ہیں۔
(۳) … سیدنا ابو موسی اشعری ؓ بیان کرتے ہیں: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلٰی الْجَوْرَبَیْنِ وَالنَّعْلَیْنِ … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور جرابوں اور جوتیوں پر مسح کیا۔ (ابن ماجہ: ۵۶۰، بیہقی: ۱/ ۲۸۵) اس حدیث کی سند میں انقطاع ہے اور عیسی بن سنان ضعیف ہے، لیکن اس کے شواہد موجود ہیں۔
(۴) … سیدنا ابو موسی اشعری ؓ ہی بیان کرتے ہیں: اَتَیْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بَوَضُوئٍ فَمَسَحَ عَلٰی الْجَوْرَبَیْنِ وَالنَّعْلَیْنِ وَالْعِمَامَۃِ۔ … میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس وضو کا پانی لے کر آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جرابوں اور جوتیوں اور پگڑی پر مسح کیا۔ (معجم اوسط للطبرانی: ۲/ ۶۶)
(۵) … سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں: تَوَضَّأَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَمَسَحَ عَلٰی الْجَوْرَبَیْنِ وَالنَّعْلَیْنِ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور جرابوں اور جوتیوں پر مسح کیا۔ (ترمذی: ۹۹، ابوداود: ۱۵۹) اس کی سند میں سفیان ثور ی مدلس ہے، لیکن دوسرے شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے۔ البتہ ابن ترکمانی حنفی (متوفی: ۸۴۵ھ) کے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھیں: الجوہر النقی: ۱/ ۲۸۴) کعب بن عبد اللہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ سیدنا علی ؓ نے پیشاب کیا، پھر اپنی جرابوں اور جوتیوں پر مسح کیا۔ (الاوسط لابن المنذر: ۱/ ۴۶۲، المحلی لابن حزم: ۲/۸۴) سیدنا عمربن خطاب ؓ نے جوتیوں کے تسموں سمیت جرابوں پر مسح کیا۔ (تھذیب السنن لابن القیم:۱/۲۷۵) امام ابوداود رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: سیدنا علی بن ابی طالب، سیدنا عبد اللہ بن مسعود، سیدنا براء بن عازب سیدنا انس بن مالک، سیدنا ابو امامہ، سیدنا سہل بن سعد اور سیدنا عمرو بن حریث جرابوںپر مسح کرتے تھے، اور سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے بھی یہی عمل مروی ہے۔ (ابوداؤد) جرابوں پر مسح کے بارے میں صحابہ کا اجماع و اتفاق ہے، دیکھیں: (المغنی لابن قدامہ: ۱/ ۱۸۱، الاوسط لابن المنذر: ۱/ ۴۶۴، المحلی لابن حزم: ۲/ ۸۷) امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: میں نے صالح بن محمد ترمذی رحمتہ اللہ علیہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے ابو مقاتل سمرقندی سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے ہاں حاضر ہوا، وہ مرض الموت میں مبتلا تھے، انھوں نے پانی منگوایا اور وضو کیا اور جرابوں پر مسح کیا اور کہا: میں نے آج ایسا کام کیا ہے جو پہلے نہ کرتا تھا، میں نے غیر منعّل جرابوں پر مسح کیا ہے۔ (جامع ترمذی: ۹۹) تفصیل کے لیے دیکھیں: جامع ترمذی از علامہ احمد محمد شاکر: ۱/ ۱۶۷) غیر منعّل جرابوں سے مراد وہ جرابیں ہیں، جن پر جوتا پہنا ہوا نہ ہو۔ فقہ حنفی میں قیاس پر بہت زور دیا جاتا ہے، اس مسئلہ میں قیاس کا یہی تقاضا تھا کہ جرابوں پر مسح کرنے کے جواز کو تسلیم کیا جاتا، کیونکہ موزوں اور جرابوں کی علت ایک ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 681
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 388، 2918، ومسلم: 274، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18165 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18347»