حدیث نمبر: 660
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ قَبِيصَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَلَا أُرِيكُمْ كَيْفَ كَانَ وَضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: بَلَى، فَدَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ رَأْسَهُ وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: وَاعْلَمُوا أَنَّ الْأُذُنَيْنِ مِنَ الرَّأْسِ، ثُمَّ قَالَ: قَدْ تَحَرَّيْتُ لَكُمْ وَضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَتَقَدَّمَ فِي بَابِ غَسْلِ الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ رَأْسَهُ مَرَّةً وَاحِدَةً وَكَانَ يَقُولُ: ((الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ)))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو نہ دکھا دوں؟“ لوگوں نے کہا: ”جی کیوں نہیں،“ پھر انہوں نے پانی منگوایا، تین دفعہ کلی کی، تین بار ناک جھاڑا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، تین تین بار بازو دھوئے، پھر سر کا مسح کر کے تین تین بار دونوں پاؤں کو دھویا اور پھر کہا: ”جان لو کہ کان، سر میں سے ہیں۔ تحقیق میں نے تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو پیش کیا ہے۔“ باب غسل الوجه میں سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث گزر چکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کا ایک دفعہ مسح کیا اور آپ فرماتے تھے ”کان، سر میں سے ہیں۔“
وضاحت:
فوائد: … اَ لْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأسِ (کان، سر میں سے ہیں) کے الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہیں، اس کی صحابۂ کرام سے کئی سندیں ہیں، مثلا سیدنا ابو امامہ، سیدنا ابو ہریرہ، سیدنا ابن عمر، سیدنا ابن عباس، سیدہ عائشہ، سیدنا ابو موسی، سیدنا انس، سیدنا سمرہ بن جندب اور سیدنا سیدنا عبد اللہ بن زید۔ ملاحظہ ہو: سلسلہ صحیحہ: ۳۶، ارواء الغلیل: ۸۴ ان الفاظ کی فقہ یہ ہے کہ جو حکم سر کے مسح کا ہے، وہی کانوں کا ہے،اگر سر کا مسح ایک یا تین بار درست ہے تو کانوں کا بھی اسی طرح ہو گا، نیز کانوں کے لیے نیا پانی لینے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ سر پر مسح کرنے کے تین طریقے ہیں: مکمل سر پر، مکمل پگڑی پر اور سر کے اگلے حصے پر اور باقی پگڑی پر۔ سر کا مسح تین دفعہ کرنا بھی درست ہے۔
حدیث نمبر: 661
عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: أَتَى عُثْمَانُ الْمَقَاعِدَ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، يَا هَؤُلَاءِ! أَكَذَاكَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
بسر بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ مقاعد میں آئے اور وضو کا پانی منگوایا اس طرح وضو کیا کہ کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا، تین دفعہ چہرہ دھویا، دونوں ہاتھوں کو تین تین بار دھویا، پھر سر کا مسح کر کے دونوں پاؤں کو تین تین دفعہ دھویا اور کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ اے لوگو! کیا اسی طرح تھا؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں۔“ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے موجود صحابہ کی ایک جماعت سے یہ تصدیق کروائی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … سر کا تین دفعہ مسح کرنے کے بارے مسلم کی روایت صریح نہیں البتہ مسند احمد کی زیر مطالعہ حدیث صریح ہے اور اسے تین دفعہ مسح راس کا جواز ثابت ہوتا ہے اس کی تفصیل کے لیے دیکھیں فتح الباری، ج: ۱، ص: ۲۶۰۔ (عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر: 662
عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: مَسَحَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَأْسَهُ فِي الْوُضُوءِ حَتَّى أَرَادَ أَنْ يَقْطُرَ وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زر بن حبیش رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضو کرتے وقت اس طرح سر کا مسح کیا کہ قریب تھا کہ پانی کے قطرے گرنے لگیں، پھر انہوں نے کہا: ”میں نے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا۔“
حدیث نمبر: 663
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُرَيْجُ بْنُ نُعْمَانَ قَالَ: ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ الْمِصْرِيُّ عَنْ عَمْرٍو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ حِبَّانَ بْنَ وَاسِعٍ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِيَّ يَذْكُرُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَالْأُخْرَى ثَلَاثًا وَمَسَحَ رَأْسَهُ بِمَاءٍ غَيْرِ فَضْلِ يَدِهِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا، پھر تین بار چہرہ دھویا، اس کے بعد دایاں بازو تین بار اور پھر بایاں بازو تین مرتبہ دھویا، پھر سر کا مسح اس پانی سے کیا جو ہاتھوں سے بچا ہوا نہیں تھا، پھر دونوں پاؤں کو دھویا، یہاں تک کہ ان کو صاف کر دیا۔
حدیث نمبر: 664
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کا اس طرح مسح کیا کہ دونوں ہاتھوں کو آگے سے لے گئے اور پیچھے سے لے آئے، (اس کی تفصیل یہ ہے کہ) سر کے سامنے والے حصے سے شروع کیا، یہاں تک کہ ہاتھوں کو گدی تک لے گئے، پھر ان کو لوٹا کر وہاں لے آئے، جہاں سے شروع کیا تھا، پھر اپنے پاؤں دھوئے۔
حدیث نمبر: 665
عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ (يَصِفُ وَضُوءَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ فَمَسَحَ بِهَا رَأْسَهُ بِكَفَّيْهِ جَمِيعًا مَرَّةً وَاحِدَةً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ (عَلِيٌّ): هَذَا وَضُوءُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاعْلَمُوهُ، (وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ فَبَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ إِلَى مُؤَخَّرِهِ وَقَالَ: وَلَا أَدْرِي أَرَدَّ يَدَهُ أَمْ لَا، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وَضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا وَضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد خیر رحمہ اللہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا وضو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: پھر انہوں نے اپنا ہاتھ برتن میں رکھا اور دونوں ہتھیلیوں سے سارے سر کا ایک دفعہ مسح کیا، پھر دونوں پاؤں کو تین تین بار دھویا، پھر انہوں نے کہا: ”یہ تمہارے نبی کا وضو ہے، اس کو سیکھ لو۔“ ایک روایت میں ہے: انہوں نے اپنے سر کا مسح اس طرح کیا کہ سر کے اگلے حصے سے پچھلے حصے تک لے گئے۔ لیکن راوی کہتا ہے: میں یہ نہیں جانتا کہ ہاتھوں کو واپس لوٹایا تھا یا نہیں، پھر انہوں نے اپنے پاؤں دھوئے اور کہا: ”جو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دیکھنا پسند کرتا ہے تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ہے۔“
حدیث نمبر: 666
عَنْ طَلْحَةَ الْأَيَّامِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ رَأْسَهُ حَتَّى بَلَغَ الْقَذَالَ وَمَا يَلِيهِ بِمُقَدَّمِ الْعُنُقِ بِمَرَّةٍ، قَالَ: الْقَذَالُ سَالِفَةُ الْعُنُقِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ان کے دادے (سیدنا عمرو بن کعب یا کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کا مسح کیا، یہاں تک کہ سر کے پچھلے حصے اور اس کے ساتھ ملے ہوئے گردن کے اگلے حصے کا ایک دفعہ مسح کیا۔ راوی نے کہا: گردن کے پچھلے حصے کو «قَذَال» کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 667
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ ظَاهِرَهُمَا وَبَاطِنَهُمَا وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مقدام بن معدیکرب کندی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا پانی لایا گیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، دونوں ہتھیلیوں کو تین مرتبہ دھویا، تین بار چہرہ دھویا، پھر تین تین بار کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور سر اور کانوں کے ظاہری اور باطنی حصے کا مسح کر کے پاؤں کو تین بار دھویا۔
حدیث نمبر: 668
عَنْ أَبِي الْأَزْهَرِ عَنْ مُعَاوِيَةَ (بْنِ سُفْيَانَ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ ذَكَرَ لَهُمْ وَضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ مَسَحَ رَأْسَهُ بِغُرْفَةٍ مِنْ مَاءٍ حَتَّى يَقْطُرَ الْمَاءُ مِنْ رَأْسِهِ أَوْ كَادَ يَقْطُرُ وَأَنَّهُ أَرَاهُمْ وَضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا بَلَغَ مَسْحَ رَأْسِهِ وَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى مُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ مَرَّ بِهِمَا حَتَّى بَلَغَ الْقَفَا ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى بَلَغَ الْمَكَانَ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو ازہر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ بن سفیان رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا ذکر کیا، انہوں نے پانی کے ایک چلو سے سر کا مسح کیا، یہاں تک کہ سر سے پانی کے قطرے گرنے لگے یا قریب تھا کہ گرنے لگیں، بہرحال انہوں نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کر کے دکھایا، جب وہ سر کے مسح تک پہنچے تو انہوں نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو سر کے اگلے حصے پر رکھا، پھر ان کو سر پر پھیرتے گئے، یہاں تک کہ گدی تک پہنچ گئے، پھر اسی جگہ پر لوٹا کر لے آئے، جہاں سے شروع کیا تھا۔
حدیث نمبر: 669
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ قَالَ: ثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ابْنِ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَسَنٍ الْمَازِنِيُّ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ، قَالَ سُفْيَانُ: ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرٍو بْنِ يَحْيَى مُنْذُ أَرْبَعٍ وَسَبْعِينَ سَنَةً وَسَأَلْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِقَلِيلٍ وَكَانَ يَحْيَى أَكْبَرَ مِنْهُ، قَالَ سُفْيَانُ: سَمِعْتُ مِنْهُ ثَلَاثَةَ أَحَادِيثَ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرْتَيْنِ وَوَجْهَهُ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرْتَيْنِ، قَالَ أَبِي: سَمِعْتُهُ مِنْ سُفْيَانَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ يَقُولُ: غَسَلَ رِجْلَيْهِ مَرْتَيْنِ، وَقَالَ مَرَّةً: مَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً، وَقَالَ مَرْتَيْنِ: مَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرْتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، امام سفیان نے کہا: چوہتر برس ہو گئے ہیں کہ یحیی بن سعید نے مجھے یہ حدیث بیان کی تھی، اس کے کچھ عرصہ بعد بھی میں نے ان سے سوال کیا تھا اور یحیی ان سے بڑے تھے۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے ان سے تین احادیث سنی تھیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو دو مرتبہ اور چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور دو بار سر کا مسح کیا۔ امام احمد کہتے ہیں: میں نے سفیان سے یہ حدیث تین مرتبہ سنی، وہ کہتے تھے: پاؤں کو دو مرتبہ دھویا، لیکن ایک دفعہ یوں بیان کیا کہ سر کا ایک دفعہ مسح کیا اور دو مرتبہ یوں بیان کیا کہ سر کا دو دفعہ مسح کیا۔
حدیث نمبر: 670
عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ عِنْدَهَا (قَالَتْ:) فَرَأَيْتُهُ مَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ مَجَارِيَ الشَّعْرِ مَا أَقْبَلَ مِنْهُ وَمَا أَدْبَرَ وَمَسَحَ صُدْغَيْهِ وَأُذُنَيْهِ ظَاهِرَهُمَا وَبَاطِنَهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس وضو کیا، وہ کہتی ہیں: میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے سامنے والے اور پچھلے حصے پر اس طرح مسح کیا کہ جس سمت میں بال پڑے تھے، اسی سمت میں ہاتھ پھیر دیا اور اپنی کنپٹیوں اور کانوں کے ظاہری اور باطنی حصے پر بھی مسح کیا۔
وضاحت:
فوائد: … مَجَارِی الشَّعْر کے معانی اس باب کی آخری حدیث کی روشنی میں کیے گئے ہیں۔
حدیث نمبر: 671
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْنَا لَهُ الْمِيضَأَةَ فَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرْتَيْنِ بَدَأَ بِمُؤَخَّرِهِ وَأَدْخَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ (وَفِي رِوَايَةٍ: فِي جُحْرِ أُذُنَيْهِ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے برتن رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین بار وضو کیا اور دو دفعہ سر کا مسح اس طرح کیا کہ سر کے پچھلے حصے سے شروع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کانوں کے مسح کے دوران) کانوں میں اور ایک روایت کے مطابق کانوں کے سوراخوں میں انگلیاں ڈالیں۔
حدیث نمبر: 672
(وَعَنْهَا أَيْضًا فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى) قَالَتْ: وَمَسَحَ رَأْسَهُ بِمَا بَقِيَ مِنْ وَضُوئِهِ فِي يَدَيْهِ مَرْتَيْنِ، بَدَأَ بِمُؤَخَّرِهِ ثُمَّ رَدَّ إِلَى نَاصِيَتِهِ وَمَسَحَ أُذُنَيْهِ مُقَدَّمَهُمَا وَمُؤَخَّرَهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھوں کے بچے ہوئے پانی سے سر کا دو دفعہ مسح اس طرح کیا کہ پچھلے حصے سے شروع کر کے پیشانی کی طرف ہاتھوں کو لوٹایا اور کانوں کے اگلے اور پچھلے حصوں پر مسح کیا۔
حدیث نمبر: 673
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ عِنْدَهَا فَمَسَحَ الرَّأْسَ كُلَّهُ مِنْ فَوْقِ الشَّعْرِ كُلَّ نَاحِيَةٍ لِمُنْصَبِّ الشَّعْرِ لَا يُحَرِّكُ الشَّعْرَ عَنْ هَيْئَتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: بیشک رسول اللہ FRIEND صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاں وضو کیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارے سر کا اس طرح مسح کیا کہ اوپر سے جس طرف بال گر رہے تھے، اسی طرف ان کے اوپر ہاتھ پھیر دیے اور بالوں کو ان کی ہیئت اور کیفیت سے حرکت نہیں دی۔