کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: چہرے کو دھونے، داڑھی کا خلال کرنے اور ناک سے ملے ہوئے گوشۂ چشم کا خیال رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 650
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ خَلَّلَ لِحْيَتَهُ بِالْمَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تو پانی کے ساتھ داڑھی کا خلال کرتے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا انس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب وضوء کرتے تو ایک چلو پانی ٹھوڑی کے نیچے داخل کرکے داڑھی کا خلال کرتے اورفرماتے: ((ھٰکَذَا اَمَرَنِیْ رَبِّیْ۔)) … مجھے میرے رب نے اس طرح کرنے کا حکم دیا ہے۔ (ابوداود:۱۴۵، مستدرک حاکم:۱/۱۴۹ یہ حدیث متعدد شواہد کی بناء پر حسن لغیرہ ہے) حسان بن بلال کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمار بن یاسر ؓ کو دیکھا کہ انھوں نے وضو کیا اور داڑھی کا خلال کیا، پس میں نے کہا: کیا تم داڑھی کا خلال کر رہے ہو؟ انھوں نے کہا: اور کون سی چیز مجھے ایسا کرنے سے روک سکتی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی داڑھی مبارک کا خلال کرتے ہوئے دیکھا۔ (ابن ماجہ: ۲۹) سیدنا عثمان بن عفانؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی داڑھی مبارک کا خلال کرتے تھے۔ (ترمذی: ۳۱) ثابت ہوا کہ داڑھی کے بارے میں سنت یہ ہے کہ وضو میں اس کا خلال کیا جائے، اس کاطریقہ یہ ہے کہ پانی کا ایک چلو ٹھوڑی کے نیچے داڑھی کے بالوں میں داخل کر کے داڑھی کے بالوں میں ایک ہاتھ کی انگلیاں پھیر دی جائیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 650
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ أخرجه الحاكم: 1/ 150 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25970 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26497»
حدیث نمبر: 651
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ تَمَضْمَضَ وَمَسَحَ لِحْيَتَهُ مِنْ تَحْتِهَا بِالْمَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تو کلی کرتے اور داڑھی کے نیچے سے پانی کے ساتھ داڑھی کا خلال کرتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 651
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدّا، واصل بن السائب و ابو سورة ابن اخي ابي ايوب مجمع علي تضعيفھما، ثم ان ابا سورة ھذا قيل: لا يعرف له سماع من ابي ايوب۔ أخرجه ابن ماجه: 433 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23541 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23937»
حدیث نمبر: 652
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَكَانَ يَمْسَحُ الْمَاقَيْنِ مِنَ الْعَيْنِ، قَالَ:
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پس تین بار کلی کی، تین بار ناک میں پانی چڑھایا، گوشہ چشم پر بھی ہاتھ پھیرا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر کا ایک بار مسح کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے: ”کان، سر میں سے ہیں۔“
وضاحت:
فوائد: … سر کے مسح سے متعلقہ باب میں اَلْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ کے الفاظ پر بحث کی جائے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 652
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره دون قوله: والاذنان من الرأس والمسح علي المأقين وھذا اسناد ضعيف لضعف شھر بن حوشب الاشعري وابي ربيعة سنان بن ربيعة الباھلي، وللاختلاف في رفع ووقف قوله الاذنان من الرأس أخرجه ابوداود: 134، وابن ماجه: 444، والترمذي: 37 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22310 ترقیم بيت الأفكار الدولية:»