کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: کلی سے پہلے ہاتھ دھونے کے مستحب ہونے اور رات کی نیند کے لیے تاکیدی طور پر دھونے کا بیان
حدیث نمبر: 637
عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ (يَصِفُ وَضُوءَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: أَخَذَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى الْإِنَاءَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى الْإِنَاءَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ، فَعَلَهُ ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالَ عَبْدُ خَيْرٍ: كُلُّ ذَلِكَ لَا يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ((الْحَدِيثَ)) (وَفِي آخِرِهِ: قَالَ يَعْنِي عَلِيًّا) هَذَا طُهُورُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد خیر رحمہ اللہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا وضو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: انہوں نے دائیں ہاتھ سے برتن پکڑا اور بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور اس طرح اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دھویا، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے برتن کو پکڑا اور بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور ہتھیلیوں کو دھویا، ایسے تین بار کیا۔ عبد خیر کہتے ہیں: ہر مرتبہ آپ اپنا ہاتھ تین بار دھو لینے سے پہلے برتن میں داخل نہیں کرتے تھے، …۔ آخر میں ہے: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ہے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 637
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 112، والنسائي: 1/ 67 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1133 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1133»
حدیث نمبر: 638
عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْسٍ عَنْ جَدِّهِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَاسْتَوْكَفَ ثَلَاثًا أَيْ غَسَلَ كَفَّيْهِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) يَعْنِي غَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، فَقُلْتُ لِشُعْبَةَ: أَدْخَلَهُمَا فِي الْإِنَاءِ أَوْ غَسَلَهُمَا خَارِجًا؟ قَالَ: لَا أَدْرِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور تین دفعہ پانی بہایا، یعنی تین دفعہ ہتھیلیوں کو دھویا۔ ایک روایت میں ہے: یعنی ہاتھوں کو تین بار دھویا۔ میں نے امام شعبہ سے کہا: ”ہاتھوں کو برتن میں داخل کر دیا تھا یا برتن سے باہر کر کے دھویا تھا؟“ انہوں نے کہا: ”یہ تو میں نہیں جانتا۔“
وضاحت:
فوائد: … پہلے کئی احادیث میں یہ بات گزر چکی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کے شروع میں تین بار ہاتھ دھوتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 638
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «ضعيف لجھالة ابن ابي اوس۔ أخرجه النسائي: 1/ 64 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16170 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16270»
حدیث نمبر: 639
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُعَاوِيَةُ ثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ)) قَالَ: وَقَالَ وَكِيعٌ عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَأَبِي رَزِينٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ ثَلَاثًا، (حَدَّثَنَا) عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ثَنَا زَائِدَةُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((حَتَّى يَغْسِلَهَا مَرَّةً أَوْ مَرْتَيْنِ)) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً: ((إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلَا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي إِنَائِهِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آدمی بیدار ہو تو وہ اپنے ہاتھوں کو تین دفعہ دھو لینے سے پہلے برتن میں داخل نہ کرے، کیونکہ وہ یہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھوں نے رات کہاں گزاری ہے۔“ ایک روایت میں ہے: ایک یا دو دفعہ دھونے سے پہلے۔ ایک روایت میں ہے: جب تم میں کوئی آدمی اپنی نیند سے بیدار ہو تو وہ اپنے ہاتھوں کو برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے، جب تک ان کو تین دفعہ نہ دھو لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حکم کی جو علت بیان کی گئی ہے کہ آدمی کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ اس کے ہاتھوں نے رات کہاں گزاری ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ رات اور دن کی ہر نیند کے بعد ہاتھوں کو برتن میں ڈالنے سے پہلے تین دفعہ دھونا چاہیے۔یہ شریعت ِ اسلامیہ کا حسن ہے کہ وہ کسی پہلوسے انسان کے لیے مضرّ اور مشتبہ چیز کو پسند نہیں کرتی، بلکہ اس کی طبع کا بھی خیال رکھتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 639
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 278، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10091 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10093»