حدیث نمبر: 633
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف اور صرف اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لیے وہی کچھ ہے، جو وہ نیت کرے گا، پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو گی، پس اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہو گی، جس کی طرف وہ ہجرت کرے گا، اور جس کی ہجرت دنیا کے لیے ہو گی، وہ اسے پا لے گا اور جس کی کسی خاتون کی خاطر ہو گی، وہ اس سے نکاح کر لے گا، بہرحال اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہو گی، جس کی طرف وہ ہجرت کرے گا۔“
وضاحت:
فوائد: … یہ اتنہائی اہم اور جامع حدیث ہے اور ہر نیکی کے کرنے اور ہر برائی سے بچنے میں اس حدیث ِ مبارکہ کا دخل ہو گا، نیت کی دو قسمیں ہیں، ایک نیت اعمالِ صالحہ کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے، مثلا ظہر کی چار رکعتیں، عصر کی چار رکعتیں، اِن سے پہلے والی چار چار سنتیں، فرضی روزہ، نفلی روزہ وغیرہ، ہر عمل کو شروع کرتے وقت اس کو دوسرے اعمال سے ممتاز کیا جائے گا۔ نیت کی دوسری قسم عامل کے مقصد کا تعین کرتی ہے کہ وہ عمل اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لیے کیا جا رہا ہے یا اس کی غرض و غایت ریاکاری، نمودو نمائش یا کسی غیر اللہ کا ڈر خوف ہے۔ چونکہ وضو بہت بڑی نیکی اور عبادت ہے، اس لیے اس کے لیے نیت کرنا بھی ضروری ہے، نیت کے بغیر وضو نہیں ہو گا۔
حدیث نمبر: 634
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وَضُوءَ لَهُ وَلَا وَضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس آدمی کی کوئی نماز نہیں، جس کا وضو نہیں اور اس آدمی کا کوئی وضو نہیں، جو وضو پر «بِسْمِ اللّٰہِ» نہیں پڑھے گا۔“
وضاحت:
فوائد: … حافظ ابن صلاح نے کہا: اِن احادیث کے مجموعہ سے وہی کچھ ثابت ہوتا ہے، جو کچھ حسن حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔ (النتائج لابن حجر: ۱/ ۲۳۷) حافظ ابن حجر نے کہا: ان احادیث کے مجموعہ سے پیدا ہونے والی قوت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس مسئلہ کی کوئی اصل ہے۔ (التلخیص الحبیر: ۱/ ۷۵)
حدیث نمبر: 635
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا وَضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس آدمی کا کوئی وضو نہیں، جو اس پر «بِسْمِ اللّٰہِ» نہیں پڑھے گا۔“
وضاحت:
فوائد: … ابن ہمام حنفی نے اس حدیث کو حسن قرار دے کر وضو کے شروع میں بسم اللّٰہ پڑھنا واجب قرار دیا۔ (شرح فتح القدیر: ۱/۲۳) اور ابن نجیم حنفی نے بھی حسن کہا۔ (البحر الرائق: ۱/۱۸)
حدیث نمبر: 636
عَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُوَيْطِبٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أَنَّهَا سَمِعَتْ أَبَاهَا يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وَضُوءَ لَهُ، وَلَا وَضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِي وَلَا يُؤْمِنُ بِي مَنْ لَا يُحِبُّ الْأَنْصَارَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
رباح بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ان کی دادی نے اپنے باپ (سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ) سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی کا وضو نہیں اس کی کوئی نماز نہیں اور جس آدمی نے وضو پر «بِسْمِ اللّٰہِ» نہیں پڑھی، اس کا کوئی وضو نہیں اور جو شخص میں (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان نہیں لایا، وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لا سکے گا اور جس بندے نے انصار سے محبت نہ کی، وہ مجھ پر ایمان نہیں لا سکے گا۔“
وضاحت:
فوائد: … نیز سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: ((تَوَضَّئُوْا بِسْمِ اللّٰہِ۔)) … بسم اللہ پڑھ کر وضوء کرو۔ (نسائی: ۷۸)ان احادیث سے معلوم ہوا کہ وضو کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا ضروری ہے، نیز صرف بِسْمِ اللّٰہ کے الفاظ ادا کرنے چاہئیں، نہ کہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمَ کے۔