کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدنا علی اور سیدنا عثمانؓ کے علاوہ دوسرے صحابہ سے وضو کے بارے مروی احادیث
حدیث نمبر: 626
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ فَاتَّبَعْتُهُ بِالْإِدَاوَةِ أَوِ الْقَدَحِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ حَاجَةً أَبْعَدَ فَجَلَسْتُ لَهُ بِالطَّرِيقِ حَتَّى انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! الْوَضُوءَ، قَالَ: فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ فَصَبَّ عَلَى يَدِهِ فَغَسَلَهَا ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ بِكَفِّهَا فَصَبَّ عَلَى يَدٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ مَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ قَبَضَ الْمَاءَ عَلَى يَدٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ مَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ قَبَضَ الْمَاءَ قَبْضًا بِيَدِهِ فَضَرَبَ بِهِ عَلَى ظَهْرِ قَدَمِهِ فَمَسَحَ بِهِ عَلَى قَدَمِهِ ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى لَنَا الظُّهْرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبدالرحمن بن ابو قراد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کے لیے نکلا، جب میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کر کے آ رہے ہیں تو میں چمڑے کا برتن یا پیالہ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کا ارادہ کرتے تو دور چلے جاتے تھے، بہرحال میں راستے میں بیٹھ گیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو کر واپس آئے اور میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! وضو کا پانی لیجئے،“ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے، اپنے ہاتھ پر پانی بہایا اور اس کو دھویا، پھر اپنا ہاتھ داخل کیا، انگلیوں کو بند کر کے (چلو بھرا) اور ایک ہاتھ پر پانی بہایا اور پھر سر کا مسح کیا، پھر ایک ہاتھ پر پانی لیا اور سر کا مسح کیا، پھر پانی کا ایک چلو بھرا اور اپنے پاؤں کی پشت پر ڈالا اور اس کے ساتھ اپنے پاؤں پر ہاتھ پھیرا، پھر تشریف لائے اور ہمیں نماز ظہر پڑھائی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 626
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18075 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18243»
حدیث نمبر: 627
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: أَرْسَلَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ إِلَى الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوَّذِ بْنِ عَفْرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلْتُهَا عَنْ وَضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْرَجَتْ لَهُ يَعْنِي إِنَاءً يَكُونُ مُدًّا أَوْ نَحْوَ مُدٍّ وَرُبْعٍ، قَالَ سُفْيَانُ: كَأَنَّهُ يَذْهَبُ إِلَى الْهَاشِمِيِّ، قَالَتْ: كُنْتُ أُخْرِجُ لَهُ الْمَاءَ فِي هَذَا فَيَصُبُّ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا، وَقَالَ مَرَّةً: يَغْسِلُ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا وَيَغْسِلُ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيُمَضْمِضُ ثَلَاثًا وَيَسْتَنْشِقُ ثَلَاثًا وَيَغْسِلُ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَالْيُسْرَى ثَلَاثًا وَيَمْسَحُ بِرَأْسِهِ، وَقَالَ مَرَّةً أَوْ مَرْتَيْنِ: مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا، ثُمَّ يَغْسِلُ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا، قَدْ جَاءَنِي ابْنُ عَمٍّ لَكَ فَسَأَلَنِي وَهُوَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ لِي: مَا أَجِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ إِلَّا مَسْحَتَيْنِ وَغَسْلَتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبداللہ بن محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: علی بن حسین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں سوال کرنے کے لیے مجھے سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا، انہوں نے ایک برتن نکالا، جو ایک مد یا ایک مد اور چوتھائی مد کی مقدار کا تھا، سفیان نے کہا: یوں لگ رہا تھا کہ وہ ہاشمی مد کی بات کر رہے ہیں، بہرحال سیدہ ربیع رضی اللہ عنہا نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس برتن میں پانی ڈالتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین دفعہ اپنے ہاتھوں پر پانی بہاتے تھے، ایک دفعہ کہا: ہاتھوں کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے تین دفعہ دھوتے تھے، پھر اپنا چہرہ دھوتے اور تین دفعہ کلی کرتے اور تین بار ناک میں پانی چڑھاتے، پھر تین دفعہ دایاں بازو دھوتے اور تین بار ہی بایاں بازو دھوتے اور پھر آگے پیچھے سے سر کا مسح کرتے، پھر اپنے دونوں پاؤں کو تین تین بار دھوتے۔ پھر جب میرے چچا زاد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھ سے سوال کیا تو میں نے ساری کیفیت بتلائی، لیکن انہوں نے کہا: ”میں تو کتاب اللہ میں صرف دو عدد مسح اور دو عدد دھونا پاتا ہوں۔“
وضاحت:
فوائد: … آخری قول سے وہ وضو والی آیت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، جس میں ان کے فہم کے مطابق چہرے اور ہاتھوں کو دھونے کا اور سر اور پاؤں کا مسح کرنے کا ذکر ہے، حقیقت میں پاؤں کو دھونا ہی ثابت ہے، البتہ موزے وغیرہ کی صورت میں مسح کیا جا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 627
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن محمد بن عقيل بن ابي طالب، وقد انفرد به واضطرب في متنه ۔ أخرجه ابوداود: 127، 130، والترمذي: 33، وابن ماجه: 390، 418،440 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27015 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27555»
حدیث نمبر: 628
(وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ أَيْضًا قَالَ: حَدَّثَتْنِي الرُّبَيِّعُ بِنْتُ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا فَيُكْثِرُ فَأَتَانَا فَوَضَعْنَا لَهُ الْمِيضَأَةَ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مَرَّةً مَرَّةً وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ رَأْسَهُ بِمَا بَقِيَ مِنْ وَضُوئِهِ فِي يَدَيْهِ مَرْتَيْنِ بَدَأَ بِمُؤَخَّرِهِ ثُمَّ رَدَّ يَدَهُ إِلَى نَاصِيَتِهِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ أُذُنَيْهِ مُقَدَّمَهُمَا وَمُؤَخَّرَهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) عبداللہ بن محمد بن عقیل رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا نے مجھے بیان کیا، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے ہمارے پاس آتے تھے، پس آپ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک برتن رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اس طرح وضو کیا کہ تین دفعہ ہتھیلیوں کو دھویا اور ایک ایک دفعہ کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، پھر آپ نے تین دفعہ چہرہ اور دو بازو تین تین مرتبہ دھوئے، پھر وضو کا جو پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں میں بچا، اس سے دو دفعہ سر کا مسح اس طرح کیا کہ سر کے پچھلے حصے سے شروع کیا اور پھر اپنے ہاتھ کو پیشانی تک لے آئے اور اپنے پاؤں کو تین تین بار دھویا اور کانوں کے سامنے والے اور پچھلے حصے کا مسح کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 628
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27556»
حدیث نمبر: 629
عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، فَقِيلَ لَهُ: تَوَضَّأْ لَنَا وَضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَدَعَا بِإِنَاءٍ فَأَكْفَأَ مِنْهُ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا فَغَسَلَهُمَا ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ وَاسْتَخْرَجَهَا فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثًا وَاسْتَخْرَجَهَا ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَاسْتَخْرَجَهَا فَغَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ مَرْتَيْنِ مَرْتَيْنِ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَاسْتَخْرَجَهَا فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ فَأَقْبَلَ بِيَدِهِ وَأَدْبَرَ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا كَانَ وَضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ، جن کو صحبت نصیب ہوئی تھی، سے مروی ہے کہ کسی نے ان سے کہا: ”آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کر کے دکھائیں،“ پس انہوں نے برتن منگوایا اور اپنے ہاتھوں پر تین دفعہ انڈیل کر ان کو دھویا، پھر اپنا ہاتھ پانی میں داخل کیا اور نکالا اور ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، اس طرح تین بار کیا، پھر اپنا ہاتھ ڈالا اور اس کو نکال کر چہرہ دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور اس کو نکال کر دو دو مرتبہ کہنیوں سمیت بازوؤں کو دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور اس کو نکال کر سر کا اس طرح مسح کیا کہ ہاتھ کو سامنے سے لے گئے اور پیچھے سے لے آئے، پھر اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک دھویا اور کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو اس طرح ہوتا تھا۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 629
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 191، ومسلم: 235 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16445 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16559»
حدیث نمبر: 630
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنْ أَبِيهِ) أَنَّ جَدَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِينِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَتَوَضَّأُ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ: نَعَمْ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَغَسَلَ يَدَهُ مَرْتَيْنِ ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرْتَيْنِ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ (وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّهُ مَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرْتَيْنِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ مَرْتَيْنِ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) ان کے دادا جان نے سیدنا عبداللہ بن عاصم رضی اللہ عنہ سے کہا: ”کیا تم مجھے یہ دکھا سکتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں،“ پھر انہوں نے وضو کا پانی منگوایا اور دو بار اپنے ہاتھ دھوئے، پھر تین بار کلی کی اور ناک جھاڑا، پھر تین دفعہ چہرہ دھویا، پھر دونوں بازوؤں کو دو دو مرتبہ دھویا، پھر دونوں ہاتھوں سے سر کا اس طرح مسح کیا کہ ان کو آگے سے لے گئے اور پیچھے سے لے آئے، تفصیل یہ ہے کہ سر کے سامنے والے حصے سے شروع کیا اور ہاتھوں کو گدی تک لے گئے، پھر ان کو اسی جگہ پر لوٹایا، جہاں سے شروع کیا تھا، پھر اپنے پاؤں دھوئے۔ ایک روایت میں ہے: سر کا مسح دو بار کیا اور پاؤں بھی دو دو مرتبہ دھوئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 630
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16545»
حدیث نمبر: 631
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا إِسْمَاعِيلُ (يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ) حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي عَائِذٍ سَيْفٍ السَّعْدِيِّ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ وَكَانَ أَمِيرًا بِعُمَّانَ وَكَانَ كَخَيْرِ الْأُمَرَاءِ، قَالَ أَبِي: اجْتَمِعُوا فَلِأُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وَكَيْفَ كَانَ يُصَلِّي، فَإِنِّي لَا أَدْرِي مَا قَدْرُ صُحْبَتِي إِيَّاكُمْ، قَالَ: فَجَمَعَ بَنِيهِ وَأَهْلَهُ وَدَعَا بِوَضُوءٍ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَغَسَلَ الْيَدَ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَغَسَلَ يَدَهُ هَذِهِ ثَلَاثًا يَعْنِي الْيُسْرَى ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ وَأُذُنَيْهِ ظَاهِرَهُمَا وَبَاطِنَهُمَا وَغَسَلَ هَذِهِ الرِّجْلَ يَعْنِي الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَغَسَلَ هَذِهِ الرِّجْلَ ثَلَاثًا يَعْنِي الْيُسْرَى، قَالَ: هَكَذَا مَا أَلَوْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ دَخَلَ بَيْتَهُ فَصَلَّى صَلَاةً مَا نَدْرِي مَا هِيَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِالصَّلَاةِ فَأُقِيمَتْ فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ، فَأَحْسِبُ أَنِّي سَمِعْتُ مِنْهُ آيَاتٍ مِنْ يَاسٍ ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ صَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ ثُمَّ صَلَّى بِنَا الْعِشَاءَ وَقَالَ: مَا أَلَوْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وَكَيْفَ كَانَ يُصَلِّي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
یزید بن براء رحمہ اللہ، جو عمان کے امیر تھے اور عام امراء میں سے بہترین امیر تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے باپ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جمع ہو جاؤ، تاکہ میں تمہیں دکھا سکوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے اور کیسے نماز پڑھتے تھے، کیونکہ میں نہیں جانتا کہ میں نے تمہارے ساتھ کتنا عرصہ رہنا ہے،“ بہرحال انہوں نے اپنے بیٹوں اور اہل وعیال کو جمع کیا اور وضو کا پانی منگوایا، پس کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور تین دفعہ چہرہ دھویا، پھر دایاں ہاتھ تین دفعہ دھویا، اس کے بعد بایاں ہاتھ تین بار دھویا، پھر سر کا اور کانوں کے ظاہری اور باطنی حصوں کا مسح کیا، پھر اس دائیں پاؤں اور اس کے بعد بائیں پاؤں کو تین تین مرتبہ دھویا اور کہا: ”اسی طرح وضو تھا، میں نے تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کی کیفیت دکھانے میں کوئی کمی نہیں کی،“ پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہوئے اور ایک نماز پڑھی، ہم اس کے بارے میں نہیں جانتے کہ وہ کون سی نماز تھی، پھر باہر تشریف لائے اور نماز کا حکم دیا، پس اقامت کہی گئی اور انہوں نے ہمیں نماز ظہر پڑھائی، میرا خیال ہے کہ میں نے اس نماز میں سورہ یس کی کچھ آیتیں سنی تھیں، پھر عصر کی نماز پڑھائی، اس کے بعد مغرب کی اور پھر عشا کی نماز پڑھائی اور پھر کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے اور کیسے نماز پڑھتے تھے، میں نے تم کو یہ چیزیں دکھانے میں کوئی کمی نہیں کی۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 631
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره ۔ أخرجه ابن المنذر في الاوسط : 1/ 4001، والبخاري في التاريخ الكبير : 4 / 170، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18537 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18736»
حدیث نمبر: 632
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدْ سُئِلَ: هَلْ أَمَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ غَيْرُ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، كُنَّا فِي سَفَرِ كَذَا وَكَذَا، (وَفِي رِوَايَةٍ: فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ) فَلَمَّا كَانَ مِنَ السَّحَرِ ضَرَبَ عُنُقَ رَاحِلَتِهِ وَانْطَلَقَ فَتَبِعْتُهُ فَتَغَيَّبَ عَنِّي سَاعَةً ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: ((حَاجَتُكَ؟)) فَقُلْتُ: لَيْسَ لِي حَاجَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: ((هَلْ مِنْ مَاءٍ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسُرُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ وَكَانَتْ عَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ فَضَاقَتْ فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَمَسَحَ عَلَى الْعِمَامَةِ وَعَلَى الْخُفَّيْنِ ثُمَّ لَحِقْنَا النَّاسَ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يُؤُمُّهُمْ وَقَدْ صَلَّى رَكْعَةً فَذَهَبْتُ لِأُوذِنَهُ فَنَهَانِي فَصَلَّيْنَا الَّتِي أَدْرَكْنَا، (وَفِي رِوَايَةٍ: الرَّكْعَةَ الَّتِي أَدْرَكْنَا) وَقَضَيْنَا الَّتِي سُبِقْنَا بِهَا (وَفِي رِوَايَةٍ: وَقَضَيْنَا الرَّكْعَةَ الَّتِي سُبِقْنَا)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے ان سے یہ سوال کیا کہ کیا اس امت میں سے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ بھی کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کرائی ہے، انہوں نے کہا: ”جی ہاں، ہم غزوہ تبوک کے موقع پر سفر میں تھے، جب سحری کا وقت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کی گردن پر مارا اور چل پڑے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہو لیا، کچھ وقت تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے غائب رہے اور پھر واپس آ گئے اور مجھ سے فرمایا: ’کوئی ضرورت ہے؟‘“ میں نے کہا: ”جی کوئی ضرورت نہیں، اے اللہ کے رسول!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا پانی ہے؟“ میں نے کہا: ”جی ہاں،“ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی بہایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ دھوئے، پھر چہرہ دھویا، پھر اپنے بازوؤں سے کپڑا پیچھے کرنے لگے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شامی جبہ پہنا ہوا تھا، اس کے بازو تنگ ہو گئے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بازو اندر سے باہر نکال لیے اور اپنا چہرہ اور بازو دھوئے، پھر پیشانی اور پگڑی پر اور موزوں پر مسح کیا، پھر جب ہم لوگوں تک پہنچے تو نماز کھڑی کی جا چکی تھی اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے اور ایک رکعت پڑھا چکے تھے، میں ان کو بتلانے کے لیے جانے لگا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع کر دیا، پھر جو نماز ہمیں مل گئی، ہم نے ادا کر لی اور جو رہ گئی اس کو بعد میں پورا کر لیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 632
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 274 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18134 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18314»