حدیث نمبر: 618
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ (بْنُ مَهْدِيٍّ) ثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ ثَنَا عَبْدُ خَيْرٍ قَالَ: جَلَسَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعْدَ مَا صَلَّى الْفَجْرَ فِي الرَّحْبَةِ ثُمَّ قَالَ لِغُلَامِهِ: ائْتِنِي بِالرَّكْوَةِ وَالطَّسْتِ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: صُبَّ، فَصَبَّ عَلَيْهِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، قَالَ عَبْدُ خَيْرٍ: كُلُّ ذَلِكَ لَا يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَنَثَرَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى، فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ (وَفِي رِوَايَةٍ: فَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ) ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَى الْمِرْفَقِ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَى الْمِرْفَقِ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ حَتَّى غَمَرَهَا الْمَاءُ ثُمَّ رَفَعَهَا بِمَا حَمَلَتْ مِنَ الْمَاءِ ثُمَّ مَسَحَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا مَرَّةً، (وَفِي رِوَايَةٍ: فَبَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ إِلَى مُؤَخَّرِهِ، قَالَ الرَّاوِي: وَلَا أَدْرِي أَ رَدَّ يَدَهُ أَمْ لَا) ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ عَلَى قَدَمِهِ الْيُمْنَى ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى قَدَمِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فَغَرَفَ بِكَفِّهِ فَشَرِبَ، (وَفِي رِوَايَةٍ: وَشَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ) ثُمَّ قَالَ: هَذَا طُهُورُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طُهُورِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا طُهُورُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد خیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نماز فجر ادا کرنے کے بعد رحبہ میں بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے اپنے غلام سے کہا: ”وضو کا پانی میرے پاس لاؤ،“ پس وہ ایک برتن لایا، جس میں پانی تھا اور ایک چلمچی لایا، عبد خیر کہتے ہیں: ہم بیٹھے دیکھ رہے تھے، انہوں نے دائیں ہاتھ سے برتن کو پکڑا اور بائیں ہاتھ پر بہا کر ہتھیلیوں کو دھویا اور ایسے تین بار کیا۔ عبد خیر کہتے ہیں: جب بھی وہ برتن میں ہاتھ داخل کرتے تھے تو پہلے ان کو تین بار دھوتے تھے، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور بائیں ہاتھ سے جھاڑا، ایسے تین بار کیا، ایک روایت میں یہ وضاحت ہے کہ: انہوں نے ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور یہ عمل تین دفعہ کیا، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا، پھر کہنی سمیت دایاں بازو تین دفعہ دھویا اور پھر تین دفعہ بایاں بازو دھویا، پھر انہوں نے دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا، یہاں تک کہ اس کے ہر طرف پانی پھیل گیا، پھر اس کو پانی سمیت برتن سے نکالا اور بائیں ہاتھ پر لگایا اور پھر دونوں ہاتھوں سے سر کا ایک دفعہ مسح کیا، ایک روایت میں ہے: سر کے سامنے والے حصے سے پچھلے حصے تک مسح کیا، راوی کہتا ہے: مجھے یہ علم نہیں ہے کہ ہاتھوں کو واپس بھی لوٹایا تھا یا نہیں، پھر دائیں ہاتھ سے دائیں پاؤں پر تین مرتبہ پانی ڈالا اور بائیں ہاتھ سے اس کو دھویا اور دائیں ہاتھ سے ہی بائیں پاؤں پر پانی ڈالا اور بائیں ہاتھ سے اس کو تین بار دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور ایک چلو بھر کر پی لیا، ایک روایت میں ہے: اپنے وضو کا بچا ہوا پانی پی لیا اور پھر فرمایا: ”یہ اللہ کے نبی کا وضو ہے، جو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کو دیکھنا چاہتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو یہ ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … چلمچی: ہاتھ وغیرہ دھونے کا برتن۔
حدیث نمبر: 619
عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَلْعٍ قَالَ: كَانَ عَبْدُ خَيْرٍ يُؤُمُّنَا فِي الْفَجْرِ فَقَالَ: صَلَّيْتُ يَوْمًا الْفَجْرَ خَلْفَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ فَجَاءَ يَمْشِي حَتَّى انْتَهَى إِلَى الرَّحْبَةِ فَجَلَسَ وَسَنَدَ ظَهْرَهُ إِلَى الْحَائِطِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: يَا قَنْبَرُ! ائْتِنِي بِالرَّكْوَةِ وَالطَّسْتِ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: صُبَّ، فَصَبَّ عَلَيْهِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، (فَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ السَّابِقِ مُخْتَصَرًا وَفِي آخِرِهِ) فَقَالَ: هَذَا وَضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبدالملک بن سلع رحمہ اللہ کہتے ہیں: عبد خیر رحمہ اللہ نماز فجر میں ہماری امامت کرواتے تھے، انہوں نے کہا: ایک دن میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز فجر ادا کی، جب انہوں نے سلام پھیرا تو وہ کھڑے ہوئے اور ہم بھی کھڑے ہو گئے، وہ چلتے چلتے رحبہ میں آ گئے اور اپنی کمر کو دیوار کا سہارا دے کر بیٹھ گئے، پھر سر اٹھایا اور کہا: ”قنبر! ڈول اور چلمچی لے آؤ۔“ پھر اس کو کہا: ”پانی بہاؤ،“ پس اس نے ان پر پانی بہایا اور انہوں نے اپنی ہتھیلیوں کو تین دفعہ دھویا، … پھر سابقہ حدیث کی طرح بالاختصار ذکر کیا اور اس کے آخر میں ہے: انہوں نے کہا: ”یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ہے۔“
حدیث نمبر: 620
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ أَيْضًا) قَالَ: عَلَّمَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَصَبَّ الْغُلَامُ عَلَى يَدَيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا، وَوَصَفَ وَضُوءَهُ إِلَى أَنْ قَالَ: ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ فَغَمَزَ أَسْفَلَهَا بِيَدِهِ ثُمَّ أَخْرَجَهَا فَمَسَحَ بِهَا الْأُخْرَى ثُمَّ مَسَحَ بِكَفَّيْهِ رَأْسَهُ مَرَّةً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ اغْتَرَفَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ بِكَفِّهِ فَشَرِبَهَا ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) عبد خیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کی تعلیم دی، اور وہ اس طرح کہ غلام نے ان کے ہاتھوں پر پانی ڈالا، یہاں تک کہ انہوں نے ان کو صاف کر دیا، پھر سابقہ کیفیت کے ساتھ وضو بیان کیا، یہاں تک کہ کہا: پھر انہوں نے اپنا ہاتھ ڈول میں داخل کیا اور اس کے اندرونی نچلے حصے کو ہاتھ لگایا پھر اس کو نکالا اور دوسرے ہاتھ پر پھیرا اور دونوں ہتھیلیوں سے سر کا ایک دفعہ مسح کیا، پھر ٹخنوں تک تین تین بار دونوں پاؤں دھوئے، پھر پانی کا ایک چلو لے کر پی لیا اور کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح وضو کرتے تھے۔“
حدیث نمبر: 621
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَيْتِي فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَجِئْنَا بِقَعْبٍ يَأْخُذُ الْمُدَّ أَوْ قَرِيبَهُ حَتَّى وَضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَقَدْ بَالَ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ! أَلَا أَتَوَضَّأُ لَكَ وَضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: بَلَى فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، قَالَ: فَوُضِعَ لَهُ إِنَاءٌ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدَيْهِ فَصَكَّ بِهِمَا وَجْهَهُ وَأَلْقَمَ إِبْهَامَيْهِ مَا أَقْبَلَ مِنْ أُذُنَيْهِ قَالَ: ثُمَّ عَادَ فِي مِثْلِ ذَلِكَ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ بِيَدِهِ الْيُمْنَى فَأَفْرَغَهَا عَلَى نَاصِيَتِهِ ثُمَّ أَرْسَلَهَا تَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا ثُمَّ يَدَهُ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ مِنْ ظُهُورِهِمَا ثُمَّ أَخَذَ بِكَفَّيْهِ مِنَ الْمَاءِ فَصَكَّ بِهِمَا عَلَى قَدَمَيْهِ وَفِيهِمَا النَّعْلُ ثُمَّ قَلَبَهَا بِهَا ثُمَّ عَلَى الرِّجْلِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: فَقُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ، قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ، قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ میرے گھر میں داخل ہوئے اور وضو کا پانی منگوایا اور ہم ایک ایسا چھوٹا سا برتن لے آئے، جس میں تقریباً ایک مد پانی آتا، حتیٰ کہ وہ برتن آپ کے سامنے رکھ دیا گیا، جبکہ وہ پیشاب بھی کر چکے تھے، انہوں نے کہا: ”اے ابن عباس! کیا میں تیرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو نہ کر دوں؟“ میں نے کہا: ”جی، کیوں نہیں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں،“ پس ان کے لیے برتن رکھ دیا گیا، انہوں نے اپنے ہاتھ دھوئے اور کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور ناک کو جھاڑا، پھر دونوں ہاتھوں سے پانی لیا اور چہرے پر مارا اور کانوں کے سامنے والے حصے میں انگوٹھے ڈالے، پھر تین دفعہ یہ عمل دوہرایا، پھر دائیں ہاتھ سے پانی کا ایک چلو لے کر اس کو سر کے اگلے حصے پر ڈالا اور وہ چہرے پر بہنے لگا، پھر دائیں ہاتھ کو کہنی سمیت تین بار دھویا، پھر دوسرے ہاتھ کو اسی طرح دھویا، پھر اپنے سر اور کان کے ظاہری حصے کا مسح کیا، پھر دونوں ہتھیلیوں سے پانی لیا اور اپنے پاؤں پر مارا، جبکہ جوتے بھی پہنے ہوئے تھے، پھر اپنے پاؤں کو الٹ پلٹ کیا، پھر دوسرے پاؤں پر بھی اسی طرح کیا۔ میں نے کہا: ”کیا جوتوں سمیت وضو؟“ انہوں نے کہا: ”جی جوتوں سمیت،“ میں نے کہا: ”کیا جوتوں سمیت؟“ انہوں نے کہا: ”جی جوتوں سمیت،“ میں نے کہا: ”کیا جوتوں سمیت؟“ انہوں نے کہا: ”جی جوتوں سمیت۔“
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں وضو سے متعلقہ تین اضافی امور کاذکر بھی ہے: اگر چہرہ دھوتے وقت کانوں کے سامنے والے حصے میں انگوٹھے پھیر لیے جائیں تو سرکا مسح کرتے وقت صرف کانوں کے بیرونی حصے کا مسح کیا جائے گا۔ تین دفعہ چہرہ دھونے کے بعد سر کے اگلے حصے پر ایک چلو پانی ڈال دیا جائے۔جوتے سمیت پاؤں کو دھو لینا، لیکن یہ لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ پورا پاؤں تر ہو جائے کوئی حصہ خشک نہ رہے۔
حدیث نمبر: 622
عَنْ أَبِي مَطَرٍ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى بَابِ الرَّحْبَةِ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَرِنِي وَضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عِنْدَ الزَّوَالِ فَدَعَا قَنْبَرًا فَقَالَ: ائْتِنِي بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا فَأَدْخَلَ بَعْضَ أَصَابِعِهِ فِي فِيهِ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ رَأْسَهُ وَاحِدَةً فَقَالَ: دَاخِلُهَا مِنَ الْوَجْهِ وَخَارِجُهَا مِنَ الرَّأْسِ، وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثًا وَلِحْيَتُهُ تَهْطِلُ عَلَى صَدْرِهِ ثُمَّ حَسَا حَسْوَةً بَعْدَ الْوُضُوءِ فَقَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ كَذَا كَانَ وَضُوءُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو مطر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس مسجد میں رحبہ کے دروازے پر بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: ”آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کر کے دکھائیں،“ جبکہ یہ زوال کا وقت تھا، پس انہوں نے قنبر کو بلایا اور کہا: ”پانی کا برتن لاؤ،“ پس اپنی ہتھیلیاں اور چہرہ تین تین بار دھوئے اور تین کلیاں کیں، پھر بعض انگلیاں اپنے منہ میں ڈالیں اور تین بار ناک میں پانی چڑھایا اور تین دفعہ بازوؤں کو دھویا اور سر کا ایک دفعہ مسح کیا اور کہا: ”سر کا داخلی حصہ چہرے سے ہے اور خارجی حصہ سر ہے،“ پھر انہوں نے پاؤں کو ٹخنوں تک تین تین بار دھویا، اس وقت ان کی داڑھی ان کے سینے پر بوندیں ٹپکا رہی تھی، پھر انہوں نے وضو کے پانی میں سے ایک گھونٹ پانی پی لیا اور کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو اس طرح ہوتا تھا۔“
حدیث نمبر: 623
عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ وَهُوَ فِي الرَّحْبَةِ فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَرَأْسَهُ ثُمَّ شَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ: هَذَا وَضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ، هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
نزال بن سبرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک برتن لایا گیا، جبکہ وہ رحبہ میں تھے، انہوں نے پانی کا ایک چلو لیا، اس سے کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور اپنے چہرے، بازوؤں اور سر پر ہاتھ پھیر دیا اور کھڑے ہو کر ہی کچھ پانی پی لیا اور پھر انہوں نے کہا: ”یہ اس آدمی کا وضو ہے، جو بے وضو نہیں ہوا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا۔“
وضاحت:
فوائد: … ایسے معلوم ہوتا ہے کہ باوضو آدمی کا اس طرح وضو کرنے کا مقصد تازگی حاصل کرنا ہوتا ہے، جیسا کہ ہمارے ہاں بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ اگر ان کا وضو برقرار ہو تو وہ مسواک کر کے صرف ہاتھ منہ دھو لیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 624
عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَامَ خَطِيبًا فِي الرَّحْبَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ دَعَا بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَتَمَضْمَضَ مِنْهُ وَتَمَسَّحَ وَشَرِبَ فَضْلَ كُوزِهِ، (وَفِي رِوَايَةٍ: طُهُورِهِ) وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ الرَّجُلَ مِنْكُمْ يَكْرَهُ أَنْ يَشْرَبَ وَهُوَ قَائِمٍ وَهَذَا وَضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ هَكَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ربعی بن حراش رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے رحبہ میں خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد کچھ باتیں کیں، پھر پانی کا ایک برتن منگوایا اور اس سے کلی کی اور (چہرے، بازوؤں، سر اور پاؤں پر) ہاتھ پھیرا اور برتن کا (ایک روایت کے مطابق وضو کا) بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پی لیا اور پھر کہا: ”مجھے یہ بات موصول ہوئی ہے کہ تم میں سے ایک آدمی کھڑے ہو کر پانی پینے کو ناپسند کرتا ہے، یہ اس کا وضو ہے، جو بے وضو نہیں ہوا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔“
حدیث نمبر: 625
عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ دَعَا بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ يَكْرَهُونَ الشُّرْبَ قَائِمًا، قَالَ: فَأَخَذَهُ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَضُوءً خَفِيفًا وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا وَضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمْ لِلطَّاهِرِ مَا لَمْ يُحْدِثْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد خیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پانی کا برتن منگوایا اور کہا: ”وہ لوگ کہاں ہیں جو کھڑے ہو کر پینے کو ناپسند کرتے ہیں،“ پھر انہوں نے وہ پانی پکڑا اور کھڑے ہو کر پی لیا، پھر ہلکا سا وضو کیا اور جوتوں پر مسح کیا اور پھر کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ وضو طاہر آدمی کے لیے ہے، جب تک وہ بے وضو نہ ہو۔“