حدیث نمبر: 616
عَنْ حُمْرَانَ (بْنِ أَبَانَ) قَالَ: دَعَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمَاءٍ وَهُوَ عَلَى الْمَقَاعِدِ فَسَكَبَ عَلَى يَمِينِهِ فَغَسَلَهَا (وَفِي رِوَايَةٍ: فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا فَغَسَلَهُمَا) ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الْإِنَاءِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مِرَارٍ وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، (وَفِي رِوَايَةٍ: وَأَمَرَّ يَدَيْهِ عَلَى ظَاهِرِ أُذُنَيْهِ ثُمَّ مَرَّ بِهِمَا عَلَى ظَاهِرِ لِحْيَتِهِ) ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثَ مِرَارٍ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وَضُوئِي هَذَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ نَفْسَهُ فِيهِمَا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَفِي رِوَايَةٍ: غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ بَيْنَهُمَا وَبَيْنَ صَلَاتِهِ بِالْأَمْسِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حمران بن ابان رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا، جبکہ وہ مقاعد میں تھے، انہوں نے دائیں ہاتھ پر پانی بہایا، ایک روایت کے مطابق دونوں ہاتھوں پر تین دفعہ پانی ڈالا اور ان کو دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور ہتھیلیوں کو تین دفعہ دھویا، پھر تین مرتبہ چہرہ دھویا اور کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور ناک کو جھاڑا اور کہنیوں سمیت بازوؤں کو تین بار دھویا اور پھر سر کا مسح کیا، ایک روایت میں ہے: اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں کے ظاہری حصے کے اوپر سے گزارا اور پھر ان کو داڑھی کے ظاہری حصے پر پھیر دیا، پھر تین دفعہ اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک دھویا اور پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ ”جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور پھر دو رکعتیں اس طرح ادا کیں کہ وہ ان میں اپنے نفس سے گفتگو نہ کرے، تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔“ ایک روایت میں ہے: اس کے وہ گناہ بخش دیے جائیں گے، جو اس نماز اور کل والی نماز کے درمیان ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … مقاعد سے کیا مراد ہے، اس کے بارے میں تین اقوال ہیں: سیدنا عثمان ؓکے گھر کے پاس دوکانیں یا سیڑھیاں یا مسجد کے قریب ایک جگہ کا نام، جہاں وہ لوگوں کی ضروریات پورا کرنے کے لیے بیٹھتے تھے۔
حدیث نمبر: 617
عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَيْهِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ غَسْلًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور تین دفعہ چہرہ دھویا، تین دفعہ ہاتھ دھوئے اور اپنے سر کا مسح کیا اور اپنے پاؤں دھوئے۔
وضاحت:
فوائد: … احادیث ِ صحیحہ سے وضو کے ثابت ہونے والے احکام: وضو کا مسنون طریقہ: … ابتدا میں نیت کرنا، بسم اللہ پڑھنا، تین دفعہ ہاتھ دھونا اور انگلیوں کا خلال کرنا، تین دفعہ کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا اور یہ دونوں کام صرف ایک چلو سے کرنا، تین دفعہ چہرہ دھونا اور داڑھی کا خلال کرنا، تین دفعہ دایاںاور پھر بایاں بازو کہنیوں سمیت دھونا، سر اور کانوں کا ایک چلو پانی سے اس طرح مسح کرنا کہ دونوں ہاتھوں کو سر کے سامنے والے حصے سے گدی کی طرف لے جانا اور پھر پیشانی کی طرف واپس لے آنا اور کان کے اندرونی حصے کا انگشت ِ شہادت سے اور بیرونی حصے کا انگوٹھے سے مسح کر دینا، پھر تین دفعہ دایاں اور تین دفعہ بایاں پاؤں دھونا اور انگلیوں کا خلال کرنا، وضو کے بعد ایک چلو پانی شرمگاہ پر چھڑکنا اور مسنون دعائیں پڑھنا۔
ملحوظات: … تین دفعہ اعضا دھونا افضل ہے، اگر تمام اعضا ایک ایک یا دو دو بار دھوئے جائیں یا ایک وضو کے دوران کوئی عضو ایک دفعہ،کوئی دو دفعہ اور کوئی تین دفعہ دھویا جائے تو وضو درست ہو گا۔کلی کرتے وقت منہ میں پانی کو حرکت دی جائے اور سانس کے ذریعے ناک میں پانی چڑھا کر اسے سانس کے پریشر کے ذریعے باہر نکالا جائے، اور یہ دونوں کام ایک چلو پانی سے کیے جائیں، یعنی آدھے چلو سے کلی کی جائے اور آدھے سے ناک کی صفائی۔ سر پر مسح کرنے کے تین طریقے ہیں: مکمل سر پر، مکمل پگڑی پر اور سر کے اگلے حصے پر اور باقی پگڑی پر۔ سر کا مسح تین دفعہ کرنا بھی درست ہے۔ گردن اور اس کے پہلوؤں پر مسح کرنے کی کوئی قابل حجت دلیل نہیں ہے۔ جس حدیث میں وضو کے بعدانگلی اٹھانے کا ذکر ہے، وہ ضعیف ہے اور آسمان کی طرف دیکھنا بھی کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔
ملحوظات: … تین دفعہ اعضا دھونا افضل ہے، اگر تمام اعضا ایک ایک یا دو دو بار دھوئے جائیں یا ایک وضو کے دوران کوئی عضو ایک دفعہ،کوئی دو دفعہ اور کوئی تین دفعہ دھویا جائے تو وضو درست ہو گا۔کلی کرتے وقت منہ میں پانی کو حرکت دی جائے اور سانس کے ذریعے ناک میں پانی چڑھا کر اسے سانس کے پریشر کے ذریعے باہر نکالا جائے، اور یہ دونوں کام ایک چلو پانی سے کیے جائیں، یعنی آدھے چلو سے کلی کی جائے اور آدھے سے ناک کی صفائی۔ سر پر مسح کرنے کے تین طریقے ہیں: مکمل سر پر، مکمل پگڑی پر اور سر کے اگلے حصے پر اور باقی پگڑی پر۔ سر کا مسح تین دفعہ کرنا بھی درست ہے۔ گردن اور اس کے پہلوؤں پر مسح کرنے کی کوئی قابل حجت دلیل نہیں ہے۔ جس حدیث میں وضو کے بعدانگلی اٹھانے کا ذکر ہے، وہ ضعیف ہے اور آسمان کی طرف دیکھنا بھی کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔