کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ہر تکریم و تزئین والے کام کو دائیں ہاتھ سے شروع کرنے کے مستحبّ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 614
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ، مَا اسْتَطَاعَ فِي طُهُورِهِ وَتَرَجُّلِهِ وَتَنَعُّلِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام امور میں حسب استطاعت دائیں طرف کو پسند کرتے، مثلاً: وضو کرنے میں، کنگھی کرنے میں اور جوتا پہننے میں۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 614
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 168، 426، ومسلم: 268، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24627 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25134»
حدیث نمبر: 615
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا لَبِسْتُمْ وَإِذَا تَوَضَّأْتُمْ فَابْدَؤُوا بِأَيْمَانِكُمْ، وَقَالَ أَحْمَدُ: بِمَيَامِنِكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم لباس پہنو اور جب تم وضو کرو تو دائیں طرف سے شروع کیا کرو۔“
وضاحت:
فوائد: … تمام امورِ شریفہ اور تکریم و تزئین کے کاموں میں دائیں ہاتھ اور دائیں جانب کو مقدم کرنا چاہیے، انسانی زندگی میں چند امور ہی ایسے ہیں کہ جن میں بائیں ہاتھ یا بائیں جانب کو مقدم کیا جاتا ہے، مثلا مسجد سے نکلنا، کپڑے اتارنا، بیت الخلاء میں داخل ہونا، ناک جھاڑنا، وغیرہ۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پسندیدہ سنت بھی ہے اور اس سے شیطان کی مخالفت بھی ہوتی ہے، کیونکہ وہ بائیں ہاتھ اور بائیں جانب کو مقدم کرتا ہے، لیکن اگر تمام مسلمانوں کے حوالے سے بات کر دی جائے تو مبالغہ نہ ہو گا کہ ہم سب نے اس معاملے میں بہت سستی کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 615
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 4141، وابن ماجه: 402 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8652 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8637»