حدیث نمبر: 608
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لِلْوُضُوءِ شَيْطَانٌ يُقَالُ لَهُ الْوَلَهَانُ، فَاتَّقُوهُ، أَوْ قَالَ: فَاحْذَرُوهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کا ایک شیطان ہے، اس کو «وَلَہَان» کہتے ہیں، پس اس سے بچ کر رہو۔“
حدیث نمبر: 609
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِسَعْدٍ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَقَالَ: ((مَا هَذَا السَّرَفُ يَا سَعْدُ؟)) قَالَ: أَفِي الْوُضُوءِ سَرَفٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، وَإِنْ كُنْتَ عَلَى نَهْرٍ جَارٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ وضو کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سعد! یہ کیا اسراف کر رہے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں، اور اگرچہ تو جاری نہر پر ہو۔“
وضاحت:
فوائد: … اگلے ابواب میں وضو کا مکمل طریقہ بیان کیا جائے گا، اعضاء کو تین سے زیادہ بار دھونے کی اجازت نہیں ہے اور طہارت کے سلسلے میں وسوسوں سے مکمل اجتناب کرنا ضروری ہے، وگرنہ شیطان کئی مشکلات پیدا کر دیتا ہے۔