کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: وضو، مسجدوںکی طرف چلنے اور اِس وضو سے نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 588
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا يَتَوَضَّأُ أَحَدٌ فَيُحْسِنُ وَضُوءَهُ وَيُسْبِغُهُ ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ فِيهِ إِلَّا تَبَشْبَشَ اللَّهُ بِهِ كَمَا يَتَبَشْبَشُ أَهْلُ الْغَائِبِ بِطَلْعَتِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی وضو کرتا ہے اور اچھا اور مکمل وضو کرتا ہے اور پھر وہ صرف نماز کے ارادے سے مسجد میں آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس طرح خوش ہوتا ہے، جیسے لوگ اس آدمی کے ظہور کے وقت خوش ہوتے ہیں، جو پہلے غائب ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 589
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَزِيدُ بِهِ فِي الْحَسَنَاتِ؟)) قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں ایسے اعمال پر تمہاری رہنمائی نہ کر دوں کہ جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹاتا ہے اور نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”جی کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ناپسندیوں کے باوجود وضو مکمل کرنا، مسجدوں کی طرف زیادہ چل کر جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔“
حدیث نمبر: 590
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ وَزَادَ: ((فَذَلِكَ الرِّبَاطُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی طرح کی ایک حدیث روایت کی ہے، البتہ اس میں یہ زیادتی ہے: ”یہی رباط ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … میدان جنگ یا محاذ میں مورچہ بند ہو کر ہمہ وقت چوکنا اور جہاد کے لیے تیار رہنا رِباط ہے، گویا آدمی درج بالا اعمال کے ذریعے سے اصل دشمن شیطان کے شرّ سے محفوظ رہتا ہے اور نفس کو شہوات سے بچا لیتا ہے، دراصل رِباط کے معانی نفس اور جسم کو اطاعت کے ساتھ پابند کر دینے کے ہیں
حدیث نمبر: 591
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِذَا تَوَضَّأَ الرَّجُلُ فَأَتَى الْمَسْجِدَ كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوها عَشْرَ حَسَنَاتٍ، فَإِذَا صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ قَعَدَ فِيهِ كَانَ كَالصَّائِمِ الْقَانِتِ حَتَّى يَرْجِعَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جب بندہ وضو کر کے مسجد میں آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے دس نیکیاں لکھتے ہیں، پھر جب وہ مسجد میں نماز پڑھ کر وہیں بیٹھ جاتا ہے تو وہ روزہ رکھنے والے اور قیام کرنے والے کی طرح ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ لوٹ آتا ہے۔“
حدیث نمبر: 592
عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَأَحْسَنَ وَضُوءَهُ ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَى الصَّلَاةِ فَلَا يُشَبِّكْ بَيْنَ يَدَيْهِ فَإِنَّهُ فِي الصَّلَاةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آدمی وضو کرتا ہے اور اچھا وضو کرتا ہے اور پھر نماز کے قصد سے نکل پڑتا ہے تو وہ اپنے ہاتھوں میں تشبیک نہ ڈالا کرے، کیونکہ وہ نماز میں ہوتا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنا تشبیک ہے، یہ اس وقت منع ہے کہ جب مسلمان نماز کے لیے جا رہا ہو یا نماز کے انتظار میں بیٹھا ہو یا نماز ادا کر رہا ہو۔
حدیث نمبر: 593
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ مَشَى إِلَى صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ فَصَلَّاهَا غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے وضو کیا اور مکمل وضو کیا، پھر فرضی نماز ادا کرنے کے لیے مسجد کی طرف گیا اور وہ نماز ادا کی تو اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے۔“
حدیث نمبر: 594
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي هَذَا الْمَجْلِسِ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَالَ: ((مَنْ تَوَضَّأَ مِثْلَ وَضُوئِي هَذَا ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ)) وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَغْتَرُّوا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مجلس میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا اور پھر فرمایا: ”جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا، پھر مسجد میں آیا اور دو رکعتیں ادا کیں، اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔“ پھر انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پس دھوکہ نہ کھا جانا۔“