کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: وضو کی فضیلت اور اس کو پوری طرح کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 575
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مِفْتَاحُ الْجَنَّةِ الصَّلَاةُ وَمِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت کی چابی نماز ہے اور نماز کی چابی وضو ہے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 575
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، لضعف سليمان بن قرم وابي يحييٰ القتّات، لكن للشطر الثاني منه شواھد تقوِّيه۔أخرجه الترمذي: 4، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14662 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14717»
حدیث نمبر: 576
عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَاسًا دَخَلُوا عَلَى ابْنِ عَامِرٍ فِي مَرَضٍ فَجَعَلُوا يُثْنُونَ عَلَيْهِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَمَا إِنِّي لَسْتُ بِأَغَشِّهِمْ لَكَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَا يَقْبَلُ صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ وَلَا صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابن عامر کی بیماری کے دوران کچھ لوگ ان کے پاس آئے اور ان کی تعریف کرنے لگے، لیکن سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”میں تجھے دھوکہ دینے والوں میں سے نہیں ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’بیشک اللہ تعالیٰ خیانت کے مال سے صدقہ اور وضو کے بغیر نماز قبول نہیں کرتا۔‘“
وضاحت:
فوائد: … ابن عامر کا نام امیر عبداللہ ہے۔ یہ عثمانِ غنیؓ کی طرف سے بصرہ کے گورنر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیتے رہے۔ لوگ جب ان کی بیمار پرسی کے لیے آئے تو انہوں نے ان کی تعریف کی۔ عبداللہ بن عمرؓ اس وقت امیر عبداللہ کے پاس تھے۔ ان کو لوگوں کا تعریف کرنا پسند نہ آیا تو انہوں نے اس موقع پر خیانت کی خدمات کے حوالہ سے زیرِ نظر حدیث سنائی۔ مقصد یہ تھا کہ امیر کی حیثیت سے آدمی سے کوتاہیاں ہو ہی جاتی ہیں۔ تو امیر کی تعریف کرنے کے بجائے اسے توبہ و استغفار کی تلقین ہونی چاہیے نہ کہ اس کی تعریف کر کے اس کی توجہ گناہوں اور کوتاہیوں سے ہٹائی جائے۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 576
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 224، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4700 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4700»
حدیث نمبر: 577
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ، قَالَ: ((مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَقْرَبُ وَضُوءَهُ ثُمَّ يَتَمَضْمَضُ وَيَسْتَنْشِقُ وَيَنْتَثِرُ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ فِيهِ وَخَيَاشِيمِهِ مَعَ الْمَاءِ حِينَ يَنْتَثِرُ، ثُمَّ يَغْسِلُ وَجْهَهُ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا وَجْهِهِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْيَتِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا يَدَيْهِ مِنْ أَطْرَافِ أَنَامِلِهِ ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهُ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا رَأْسِهِ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا قَدَمَيْهِ مِنْ أَطْرَافِ أَصَابِعِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ ثُمَّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا خَرَجَ مِنْ ذَنْبِهِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ)) قَالَ أَبُو أُمَامَةَ: يَا عَمْرُو بْنَ عَبَسَةَ! انْظُرْ مَا تَقُولُ، أَسَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ أَيُعْطَى الرَّجُلُ هَذَا كُلَّهُ فِي مَقَامِهِ؟ قَالَ: فَقَالَ عَمْرٌو بْنُ عَبَسَةَ: يَا أَبَا أُمَامَةَ! لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَرَقَّ عَظَمِي وَاقْتَرَبَ أَجَلِي وَمَا بِي مِنْ حَاجَةٍ أَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرْتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، لَقَدْ سَمِعْتُهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! وضو کے بارے میں مجھے بتائیں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں جو آدمی بھی وضو کا پانی قریب کرتا ہے، پھر کلی کرتا ہے، ناک میں پانی چڑھاتا ہے اور ناک کو جھاڑتا ہے، مگر جب وہ ناک کو جھاڑتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے منہ اور نتھنوں سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق چہرہ دھوتا ہے تو داڑھی کے کناروں سے پانی کے ساتھ اس کے چہرے کے گناہ خارج ہو جاتے ہیں، پھر جب وہ کہنیوں سمیت بازوؤں کو دھوتا ہے تو انگلیوں کے پوروں سے بازوؤں کی غلطیاں نکل جاتی ہیں، پھر جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے بالوں کے کناروں سے پانی کے ساتھ اس کے سر کے گناہ خارج ہو جاتے ہیں، پھر جب وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ٹخنوں تک پاؤں دھوتا ہے تو اس کی انگلیوں کے کناروں سے اس کے پاؤں کے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ کھڑا ہو کر اللہ تعالیٰ کی ایسی حمد و ثنا بیان کرتا ہے، جو اس کے شایان شان ہوتی ہے اور پھر دو رکعتیں ادا کرتا ہے تو وہ گناہوں سے اس طرح نکل جاتا ہے، جیسے اس دن تھا، جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا۔“ ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے عمرو بن عبسہ! ذرا اپنی کہی ہوئی بات پر غور کرو، کیا تم نے یہ باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہیں؟ کیا بندے کو یہ سب کچھ ایک مقام پر ہی عطا کر دیا جاتا ہے؟“ سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے ابو امامہ! میری عمر بڑی ہو گئی ہے، ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں، میری موت کا وقت قریب آ چکا ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ پر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اگر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک یا دو یا تین دفعہ سنا ہوتا (تو میں یہ حدیث بیان نہ کرتا) تو میں نے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سات یا اس سے بھی زیادہ مرتبہ سنا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے کہ وضو کے بعد والی حمد و ثنا سے مراد وہ دعائیں ہوں، جن کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کے بعد پڑھنے کی تلقین فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 577
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 832 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17019 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17144»
حدیث نمبر: 578
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((أَيُّمَا رَجُلٍ قَامَ إِلَى وَضُوئِهِ يُرِيدُ الصَّلَاةَ ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ نَزَلَتْ خَطِيئَتُهُ مِنْ كَفَّيْهِ مَعَ أَوَّلِ قَطْرَةٍ، فَإِذَا مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ نَزَلَتْ خَطِيئَتُهُ مِنْ لِسَانِهِ وَشَفَتَيْهِ مَعَ أَوَّلِ قَطْرَةٍ، فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ نَزَلَتْ خَطِيئَتُهُ مِنْ سَمْعِهِ وَبَصَرِهِ مَعَ أَوَّلِ قَطْرَةٍ، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ سَلِمَ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ هُوَ لَهُ وَمِنْ كُلِّ خَطِيئَتِهِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، قَالَ: فَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَتَهُ وَإِنْ قَعَدَ قَعَدَ سَالِمًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی نماز کے ارادے سے وضو کے پانی کی طرف کھڑا ہوتا ہے اور اپنی ہتھیلیاں دھوتا ہے تو پہلے قطرے کے ساتھ اس کی ہتھیلیوں سے گناہ ساقط ہو جاتے ہیں، جب وہ کلی کرتا ہے، ناک میں پانی چڑھاتا ہے اور ناک جھاڑتا ہے تو پانی کے پہلے قطرے کے ساتھ اس کی زبان اور ہونٹوں سے گناہ گر جاتے ہیں، جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پہلے قطرے کے ساتھ اس کے کانوں اور آنکھوں سے گناہ جھڑ جاتے ہیں اور جب وہ کہنیوں سمیت اپنے بازو اور ٹخنوں تک اپنے پاؤں دھوتا ہے تو وہ اپنے ہر قسم کے گناہ اور ہر قسم کی خطا سے اس دن کی طرح پاک ہو جاتا ہے، جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا۔ پھر جب وہ نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا درجہ بلند کر دیتا ہے اور اگر بیٹھ جاتا ہے یعنی نماز نہیں پڑھتا تو گناہوں سے سالم ہو کر بیٹھتا ہے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 578
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح بطرقه وشواهده ۔ أخرجه بنحوه مختصرا الطبراني في الكبير ف: 7983، وفي الاوسط : 4437 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22623 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22623»
حدیث نمبر: 579
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا تَوَضَّأَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ خَرَجَتْ ذُنُوبُهُ مِنْ سَمْعِهِ وَبَصَرِهِ وَيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ، فَإِنْ قَعَدَ قَعَدَ مَغْفُورًا لَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مسلمان بندہ وضو کرتا ہے تو اس کے کانوں، آنکھوں، ہاتھوں اور پاؤں سے گناہ نکل جاتے ہیں، پس اس کے بعد اگر وہ بیٹھ جاتا ہے تو بخشا بخشایا ہوا بیٹھتا ہے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 579
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح بطرقه وشواهده ۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 6، والنسائي في الكبري : 10643، والطبراني في الكبير : 7562 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22206 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22559»
حدیث نمبر: 580
عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: أَتَيْنَاهُ فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ يَتَفَلَّلُ فِي جَوْفِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا تَوَضَّأَ الْمُسْلِمُ ذَهَبَ الْإِثْمُ مِنْ سَمْعِهِ وَبَصَرِهِ وَيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ)) قَالَ: فَجَاءَ أَبُو ظَبْيَةَ وَهُوَ يُحَدِّثُنَا فَقَالَ: مَا حَدَّثَكُمْ؟ فَذَكَرْنَا لَهُ الَّذِي حَدَّثَنَا، قَالَ: فَقَالَ: أَجَلْ، سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ ذَكَرَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَزَادَ فِيهِ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا مِنْ رَجُلٍ يَبِيتُ عَلَى طُهُورٍ ثُمَّ يَتَعَارُّ مِنَ اللَّيْلِ فَيَذْكُرُ وَيَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا آتَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِيَّاهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
شہر بن حوشب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، جبکہ وہ مسجد میں بیٹھ کر جوئیں صاف کر رہے تھے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مسلمان وضو کرتا ہے تو اس کے کانوں، آنکھوں، ہاتھوں اور پاؤں سے گناہ گر جاتے ہیں۔“ اتنے میں ابو ظبیہ رحمہ اللہ آ گئے، جبکہ وہ ہمیں بیان کر رہے تھے، پھر انہوں نے پوچھا کہ وہ کیا بیان کر رہے تھے؟ پس ہم نے ان کو وہ چیز بتائی جو وہ بیان کر رہے تھے، انہوں نے کہا: ”جی ہاں، میں نے سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا تھا، بلکہ اس میں یہ الفاظ زائد بھی تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’جو آدمی باوضو رات گزارتا ہے، یعنی وضو کر کے سوتا ہے، پھر جب وہ رات کو اٹھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے اور اس سے دنیا و آخرت کی بھلائی کا سوال کرتا ہے تو وہ اس کو عطا کر دیتا ہے۔‘“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 580
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ھذان حديثان، وھما صحيحان لغيرھما ۔ أخرجهما النسائي في الكبري : 10643، والطبراني في الكبير : 7564 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17021 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17146»
حدیث نمبر: 581
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ فَمَضْمَضَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ فِيهِ، فَإِذَا اسْتَنْثَرَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ أَنْفِهِ، فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ وَجْهِهِ، حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَشْفَارِ عَيْنَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ يَدَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ يَدَيْهِ، فَإِذَا مَسَحَ رَأْسَهُ (وَفِي رِوَايَةٍ: وَأُذُنَيْهِ) خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رَأْسِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ كَانَ مَشْيُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَصَلَاتُهُ نَافِلَةً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندہ وضو کرتا ہے اور کلی کرتا ہے تو اس کے منہ سے غلطیاں نکل جاتی ہیں، جب وہ ناک جھاڑتا ہے تو اس کی ناک سے خطائیں گر جاتی ہیں، جب وہ چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے گناہ ساقط ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کی آنکھوں کی پلکوں کی جڑوں سے بھی گناہ خارج ہو جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنے بازو دھوتا ہے تو اس کے بازوؤں سے خطائیں نکل جاتی ہیں، یہاں تک کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی گر جاتی ہیں، جب وہ سر اور کانوں کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر سے، (اور پاؤں کے دھونے سے) پاؤں کے ناخنوں کے نیچے سے گناہ جھڑ جاتے ہیں، پھر مسجد کی طرف اس کا چل کر جانا اور نماز ادا کرنا زائد ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 581
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه مالك في المؤطا : 1/ 31، والنسائي: 1/ 74 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19068 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19278»
حدیث نمبر: 582
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ ثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ فِيهِ وَأَنْفِهِ، وَمَنْ غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ أَشْفَارِ عَيْنَيْهِ، وَمَنْ غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ أَظْفَارِهِ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِهِ، وَمَنْ مَسَحَ رَأْسَهُ وَأُذُنَيْهِ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ رَأْسِهِ أَوْ شَعْرِ أُذُنَيْهِ، وَمَنْ غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ أَظْفَارِهِ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِهِ، ثُمَّ كَانَتْ خُطَاهُ إِلَى الْمَسْجِدِ نَافِلَةً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) سیدنا ابو عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، اس کے منہ اور ناک سے گناہ نکل جائیں گے، جس نے چہرہ دھویا، اس کی آنکھ کی پلکوں کی جڑوں سے گناہ خارج ہو جائیں گے، جس نے بازو دھوئے، اس کے ناخنوں سے یا ناخنوں کے نیچے سے گناہ نکل جائیں گے، جس نے سر اور کانوں کا مسح کیا، اس کے سر سے یا دونوں کانوں کے بالوں سے گناہ ساقط ہو جائیں گے اور جس نے پاؤں دھوئے، اس کے ناخنوں سے یا ناخنوں کے نیچے سے غلطیاں نکل جائیں گی، پھر اس کا مسجد کی طرف چلنا زائد ہو گا۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 582
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19274»
حدیث نمبر: 583
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ أَنْفِهِ)) فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(تیسری سند) سیدنا ابو عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کلی کی اور ناک کو جھاڑا، اس کے ناک سے گناہ نکل جائیں گے۔“ پھر اس کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 583
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19275»
حدیث نمبر: 584
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ جَسَدِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا، اس کے جسم سے اس کے گناہ نکل جائیں گے، یہاں تک کہ ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جائیں گے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 584
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 245 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 476 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 476»
حدیث نمبر: 585
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَا أَقُولُ الْيَوْمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا مِنْ نَارٍ)) وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((رَجُلَانِ مِنْ أُمَّتِي يَقُومُ أَحَدُهُمَا مِنَ اللَّيْلِ فَيُعَالِجُ نَفْسَهُ إِلَى الطَّهُورِ وَعَلَيْهِ عُقَدٌ فَيَتَوَضَّأُ، فَإِذَا وَضَّأَ يَدَيْهِ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِذَا وَضَّأَ وَجْهَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ وَإِذَا مَسَحَ رَأْسَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِذَا وَضَّأَ رِجْلَيْهِ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ الَّذِي وَرَاءَ الْحِجَابِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُعَالِجُ نَفْسَهُ، مَا سَأَلَنِي عَبْدِي هَذَا فَهُوَ لَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے پانی منگوایا اور وضو کیا، کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا، پھر تین بار چہرہ دھویا، تین دفعہ بازو دھوئے اور پھر اپنے سر اور پاؤں کے ظاہری حصے کو مسح کیا اور پھر ہنس پڑے اور اپنے ساتھیوں سے کہا: ”کیا تم مجھ سے اس چیز کے بارے میں سوال نہیں کرو گے، جس نے مجھے ہنسایا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”اے امیر المؤمنین! آپ کیوں ہنسے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی جگہ کے قریب تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور پھر مسکرا پڑے اور فرمایا: ’کیا تم لوگ مجھ سے اس چیز کے بارے میں سوال نہیں کرو گے، جس کی وجہ سے میں مسکرایا ہوں؟‘ لوگوں نے کہا: ’اے اللہ کے رسول! کس چیز نے آپ کو ہنسا دیا ہے؟‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’بیشک جب بندہ وضو کا پانی منگوا کر چہرہ دھوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے سے ہر اس گناہ کو مٹا دیتا ہے، جس کا چہرے نے ارتکاب کیا ہوتا ہے، پھر جب وہ اپنے بازو دھوتا ہے تو اسی طرح ہوتا ہے، جب وہ مسح کرتا ہے تو اسی طرح ہوتا ہے اور جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اسی طرح ہوتا ہے۔‘“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 585
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه ابن حبان: 1052، 2555 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17458 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17597»
حدیث نمبر: 586
عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَظَهْرَ قَدَمَيْهِ ثُمَّ ضَحِكَ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: أَلَا تَسْأَلُونِي عَمَّا أَضْحَكَنِي؟ فَقَالُوا: مِمَّ ضَحِكْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِمَاءٍ قَرِيبًا مِنْ هَذِهِ الْبُقْعَةِ فَتَوَضَّأَ كَمَا تَوَضَّأْتُ ثُمَّ ضَحِكَ، فَقَالَ: ((أَلَا تَسْأَلُونِي مَا أَضْحَكَنِي؟)) فَقَالُوا: مَا أَضْحَكَكَ؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ: ((إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا دَعَا بِوَضُوءٍ فَغَسَلَ وَجْهَهُ حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ كُلَّ خَطِيئَةٍ أَصَابَهَا بِوَجْهٍ، فَإِذَا غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ كَانَ كَذَلِكَ، وَإِنْ مَسَحَ بِرَأْسِهِ كَانَ كَذَلِكَ، وَإِذَا طَهَّرَ قَدَمَيْهِ كَانَ كَذَلِكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے پانی منگوایا اور وضو کیا، کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا، پھر تین بار چہرہ دھویا، تین دفعہ بازو دھوئے اور پھر اپنے سر اور پاؤں کے ظاہری حصے کو مسح کیا اور پھر ہنس پڑے اور اپنے ساتھیوں سے کہا: ”کیا تم مجھ سے اس چیز کے بارے میں سوال نہیں کرو گے، جس نے مجھے ہنسایا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”اے امیر المؤمنین! آپ کیوں ہنسے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی جگہ کے قریب تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور پھر مسکرا پڑے اور فرمایا: ’کیا تم لوگ مجھ سے اس چیز کے بارے میں سوال نہیں کرو گے، جس کی وجہ سے میں مسکرایا ہوں؟‘ لوگوں نے کہا: ’اے اللہ کے رسول! کس چیز نے آپ کو ہنسا دیا ہے؟‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’بیشک جب بندہ وضو کا پانی منگوا کر چہرہ دھوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے سے ہر اس گناہ کو مٹا دیتا ہے، جس کا چہرے نے ارتکاب کیا ہوتا ہے، پھر جب وہ اپنے بازو دھوتا ہے تو اسی طرح ہوتا ہے، جب وہ مسح کرتا ہے تو اسی طرح ہوتا ہے اور جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اسی طرح ہوتا ہے۔‘“
وضاحت:
فوائد: … وَظَہْرِ قَدَمَیْہِ کے لحاظ سے ترجمہ کہا گیا ہے۔
ایک نسخے میں وَطَہَّرَ قَدَمَیْہِ ہے جس کا معنی ہے اور انہوں نے اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ یہ نسخہ زیادہ اچھا لگ رہا ہے کیونکہ حدیث کا آخری حصہ اس نسخہ کی تائید کر رہا ہے۔ پہلے نسخہ کے لحاظ سے یہ کہنا پڑے گا کہ انہوں نے پانوں کے ظاہری حصہ کا مسح اس لیے کیا کہ انہوں نے موزے پہنے ہوئے تھے۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 586
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 8 مختصرا والبزار: 420 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 586 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 415»
حدیث نمبر: 587
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ أَوِ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتْ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنِهِ مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرَةِ الْمَاءِ أَوْ نَحْوَ هَذَا، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ مِنْ يَدِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ بَطَشَ بِهَا مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرَةِ الْمَاءِ حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوبِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مسلمان یا مؤمن بندہ وضو کرتا ہے اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے چہرے کا ہر وہ گناہ زائل ہو جاتا ہے، جس کی طرف اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوتا ہے، پھر جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے ہاتھ سے ہر وہ گناہ ساقط ہو جاتا ہے، جس کی طرف اس نے ہاتھ پھیلایا ہوتا ہے، (باقی اعضا کا بھی یہی سلسلہ جاری رہتا ہے) یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک صاف ہو جاتا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … تمام احادیث اپنے باب میں انتہائی واضح ہیں، ان میں کسی قسم کا ابہام نہیں ہے، ہمیں چاہیے کہ ان فضیلتوں کو حاصل کرنے کے لیے وضو کو صرف نماز کے ساتھ خاص نہ کریں، بلکہ ان کے علاوہ جب بھی موقع ملا، یہ سعادت حاصل کی جائے، خصوصا سوتے وقت، وضو کا ایک خارجی فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کے بعد مسلمان اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 587
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 244 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8020 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8007»