کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم
حدیث نمبر: 560
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَلَأَخَّرْتُ عِشَاءَ الْآخِرَةَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ، فَإِنَّهُ إِذَا مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ هَبَطَ اللَّهُ تَعَالَى إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَلَمْ يَزَلْ هُنَاكَ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَيَقُولُ قَائِلٌ: أَلَا سَائِلٌ يُعْطَى، أَلَا دَاعٍ يُجَابُ، أَلَا سَقِيمٌ يَسْتَشْفِي فَيُشْفَى، أَلَا مُذْنِبٌ يَسْتَغْفِرُ فَيُغْفَرُ لَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا اور نماز عشا کو رات کے پہلے ایک تہائی حصے تک مؤخر کر دیتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب رات کا پہلا ایک تہائی گزرتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور طلوع فجر تک یہیں رہتے ہیں، اس دورانیے میں ایک کہنے والا یہ کہتا رہتا ہے: کیا کوئی سوال کرنے والا ہے کہ اس کو دیا جائے، کیا کوئی دعا کرنے والا ہے کہ اس کو جواب دیا جائے، کیا شفا طلب کرنے والا کوئی مریض ہے کہ اس کو شفا دے دی جائے اور بخشش طلب کرنے والا کوئی گنہگار ہے کہ اس کو بخش دیا جائے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 560
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ۔ أخرجه الدارمي: 1484، وأخرجه البيھقي: 1/ 36 الي قوله: ثلث الليل الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 967 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 967»
حدیث نمبر: 561
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ)) قَالَ: فَكَانَ زَيْدٌ يَرُوحُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَسِوَاكُهُ عَلَى أُذُنِهِ بِمَوْضِعِ قَلَمِ الْكَاتِبِ، مَا تُقَامُ صَلَاةٌ إِلَّا اسْتَاكَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا احساس نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دے دیتا۔“ سیدنا زید رضی اللہ عنہ جب مسجد کی طرف آتے تھے تو کاتب کے قلم کی طرح ان کے کان پر مسواک ہوتی تھی، جب بھی نماز کھڑی کی جاتی تھی تو وہ نماز سے پہلے مسواک کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 561
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 47، والترمذي: 23 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21684 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22026»
حدیث نمبر: 562
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 562
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه البزار: 477، والدارمي: 1485، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 607 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 607»
حدیث نمبر: 563
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((فَضْلُ الصَّلَاةِ بِالسِّوَاكِ عَلَى الصَّلَاةِ بِغَيْرِ السِّوَاكِ سَبْعِينَ ضِعْفًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسواک والی نماز کی فضیلت اس نماز پر ستر گنا زیادہ ہے، جس کے ساتھ مسواک نہ کی جائے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 563
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «حديث ضعيف، وھذا اسناد منقطع، محمد بن اسحاق لم يسمع ھذا الحديث من الزھري۔ أخرجه الحاكم: 1/ 145، والبيھقي: 1/ 38، وابن خزيمة: 137، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26871 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26871»
حدیث نمبر: 564
عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَوْلَا أَنَّ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ كَمَا يَتَوَضَّأُونَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا احساس نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے ساتھ اس طرح مسواک کرنے کا حکم دے دیتا، جیسے وہ وضو کرتے ہیں۔“
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اگر ہر نماز کے ساتھ مسواک استعمال کرنا چاہیے، اگرچہ وضو نہ بھی کرنا ہو اور اگر مسواک کی وجہ سے مسوڑھوں سے خون وغیرہ نکل آئے تو اس سے وضو متأثر نہیں ہو گا، اس کی مزید وضاحت آگے آ رہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 564
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه ابويعلي: 7127، والبخاري في التاريخ الكبير : 9/ 19 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27415 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27960»