کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مسواک کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 550
عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسواک کرنا منہ کو پاک کرنے والا اور رب تعالیٰ کو راضی کرنے والا عمل ہے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 550
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ۔ أخرجه ابويعلي: 109، 110، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 62 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 62»
حدیث نمبر: 551
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 551
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره ۔أخرجه النسائي: 1/ 10 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24925 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25438»
حدیث نمبر: 552
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عَلَيْكُمْ بِالسِّوَاكِ، فَإِنَّهُ مَطْيَبَةٌ لِلْفَمِ وَمَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مسواک کا لازمی طور پر اہتمام کرو، کیونکہ یہ منہ کو پاک کرنے والا اور رب کو راضی کرنے والا ہے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 552
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ۔ أخرجه الطبراني في الاوسط ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5865 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5865»
حدیث نمبر: 553
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَوْ حَسِبْتُ أَنَّ سَيَنْزِلُ فِيهِ قُرْآنٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے مسواک کرنے کا اتنا حکم دیا گیا کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ عنقریب اس کے بارے میں قرآن مجید نازل ہو جائے گا۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 553
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ۔ أخرجه ابويعلي: 23300، وابن ابي شيبة: 1/ 171، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2125 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2125»
حدیث نمبر: 554
وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ السِّوَاكَ حَتَّى ظَنَنَّا أَوْ رَأَيْنَا أَنَّهُ سَيَنْزِلُ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر زیادہ مسواک کرتے تھے، کہ ہمیں یہ خیال آنے لگا کہ اس کے بارے میں عنقریب قرآن نازل ہو جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 554
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2573»
حدیث نمبر: 555
عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے مسواک کرنے کا اتنا حکم دیا گیا کہ میں ڈرنے لگ گیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کو فرض کر دیا جائے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 555
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن لغيره ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 22/ 189 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16007 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16103»
حدیث نمبر: 556
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَكْثَرْتُ عَلَيْكُمْ فِي السِّوَاكِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تم کو مسواک کرنے کی بہت زیادہ تاکید کی ہے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 556
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 888 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12459 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12486»
حدیث نمبر: 557
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَا جَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَطُّ إِلَّا أَمَرَنِي بِالسِّوَاكِ، لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أُحْفِيَ مُقَدَّمَ فِيَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام جب بھی میرے پاس تشریف لائے، تو انہوں نے مجھے مسواک کرنے کا حکم دیا، میں تو اس بات سے ڈرنے لگ گیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ منہ کا سامنے والا حصہ ہی اکھاڑ دوں۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 557
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، عبيد الله بن زحر الافريقي وعلي بن يزيد الالھاني ضعيفان ۔ أخرجه ابن ماجه: 289 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22269 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22625»
حدیث نمبر: 558
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْتَنُّ فَأَعْطَى أَكْبَرَ الْقَوْمِ وَقَالَ: ((إِنَّ جِبْرِيلَ أَمَرَنِي أَنْ أُكَبِّرَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مسواک لوگوں کے بڑے آدمی کو دے دی اور فرمایا: ”بیشک جبریل علیہ السلام نے مجھے بڑے آدمی کو مسواک دینے کا حکم دیا۔“
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَرَانِیْ اَتَسَوَّکُ بِسِوَاکٍ فَجَائَ نِیْ رَجُلَانِ اَحَدُھُمَا اَکْبَرُ مِنَ الْآخَرِ فَنَاوَلْتُ السِّوَاکَ الْاَصْغَرَ مِنْھُمَا فَقِیْلَ لِیْ: کَبِّرْ، فَدَفَعْتُہٗ اِلَی الْاَکْبَرِ مِنْھُمَا)) … میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں مسواک کر رہا تھا، پس میرے پاس دو آدمی آئے، ان میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا، پس جب میں نے چھوٹے کو مسواک پکڑانا چاہی تو مجھے کہا گیا کہ بڑے کو دو، پس میں نے بڑے کو دے دی۔ (صحیح بخاری: ۲۴۶)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 558
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ۔ أخرجه البيھقي: 1/ 40، وأخرج نحوه مسلم: 2271، وعلقه البخاري: 246 بصيغة الجزم ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6226 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6226»
حدیث نمبر: 559
عَنْ جَعْفَرِ بْنِ تَمَّامِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ أُتِيَ، فَقَالَ: ((مَا لِي أَرَاكُمْ تَأْتُونِي قُلْحًا، اسْتَاكُوا، لَوْ لَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَفَرَضْتُ عَلَيْهِمُ السِّوَاكَ كَمَا فَرَضْتُ عَلَيْهِمُ الْوُضُوءَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا تمام بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب لوگ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وجہ ہے کہ تم میرے پاس اس حال میں آئے ہو کہ تمہارے دانتوں پر میل کچیل اور زردی نظر آ رہی ہے، مسواک کیا کرو، اگر امت پر مشقت ڈالنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں نے مسواک کو وضو کی طرح فرض کر دینا تھا۔“
وضاحت:
فوائد: … امام صنعانی نے کہا: مسواک کی فضیلت میں ایک سو سے زیادہ احادیث منقول ہیں، لیکن بڑا تعجب ہے کہ اتنی کثیر احادیث کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد نے بلکہ کئی فقہاء نے غفلت برتی ہے، پس یہ بڑی ناکامی ہے۔ (سبل السلام: ۱/ ۴۱)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 559
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابو علي الزراد مجھول۔ أخرجه البزار: 498، والطبراني: 1301 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:1835 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1835»