کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: استنجاء کے بعد شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے مارنے کا بیان
حدیث نمبر: 548
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ثَنَا سُفْيَانُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ أَنَا سُفْيَانُ وَزَائِدَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ أَوْ سُفْيَانَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِهِ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَالَ وَتَوَضَّأَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ بِالْمَاءِ، وَقَالَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَالَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ (وَفِي لَفْظٍ: بَالَ ثُمَّ نَضَحَ فَرْجَهُ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حکم بن سفیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا اور وضو کیا اور اپنی شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔ یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کے الفاظ یہ تھے: ”بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا اور اپنی شرمگاہ پر چھینٹے مارے،“ ایک روایت میں ہے: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا اور پھر اپنی شرمگاہ پر چھینٹے مارے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 548
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «قال الالباني: صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 167، 168، وابن ماجه: 461، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23469 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23863»
حدیث نمبر: 549
(وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَالَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) بنو ثقیف کے ایک آدمی کا باپ رضی اللہ عنہ بیان کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا اور اپنی شرمگاہ پر چھینٹے مارے۔
وضاحت:
فوائد: … حضرت زید بن حارثہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أَتَاہُ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ فِيْ أَوَّلِ مَا أُوْحِيَ إِلَیْہِ، فَعَلَّمَہٗ الْوُضُوْئَ وَالصَّلَاۃَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الْوُضُوْئِ، أَخَذَ غُرْفَۃً مِنْ مَّائٍ فَنَضَحَ بِھَا فَرْجَہٗ۔)) … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف وحی کے ابتدائی زمانے میں جبریل آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وضو اور نماز کی تعلیم دی، جب وہ وضو سے فارغ ہوئے تو پانی کا ایک چلو لیا اور اسے اپنی شرمگاہ پر چھڑک دیا۔ (ابن ماجہ:۱/۱۷۲ـ ۱۷۳، صحیحہ: ۸۴۱)معلوم ہوا کہ وضو کے بعد پانی کا ایک چلو شرمگاہ پر چھڑک دینا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 549
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23614»