حدیث نمبر: 512
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَانَا عَنْ أَنْ نَسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةَ أَوْ أَنْ نَسْتَقْبِلَهَا بِفُرُوجِنَا إِذَا أَهْرَقْنَا الْمَاءَ، قَالَ: ثُمَّ رَأَيْتُهُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پیشاب کرتے وقت قبلہ کی طرف پیٹھ یا منہ کرنے سے منع فرمایا، لیکن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے ایک سال قبل قبلہ کی طرف رخ کر کے (قضائے حاجت کرتے ہوئے) دیکھا۔
حدیث نمبر: 513
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَقِيتُ يَوْمًا فَوْقَ بَيْتِ حَفْصَةَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَاجَتِهِ مُسْتَقْبِلَ الشَّامِ مُسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک دن سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی چھت پر چڑھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شام کی طرف منہ کر کے اور قبلہ کی طرف پیٹھ کر کے قضائے حاجت کر رہے تھے۔
حدیث نمبر: 514
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِلَفْظِ) لَقَدْ ظَهَرْتُ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ قَاعِدًا عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلًا بَيْتَ الْمَقْدِسِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں ایک دن اپنے گھر کی چھت پر چڑھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو اینٹوں پر بیٹھ کر اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے قضائے حاجت کر رہے تھے۔
حدیث نمبر: 515
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّى عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ دو اینٹوں پر بیٹھ کر اور قبلہ رخ ہو کر قضائے حاجت کر رہے تھے۔
حدیث نمبر: 516
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَبُولُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: قَالَ أَبِي: ثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي الطَّبَّاعَ مِثْلَهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو قَتَادَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا۔
حدیث نمبر: 517
عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنَّهُ قَالَ: مَا اسْتَقْبَلْتُ الْقِبْلَةَ بِفَرْجِي مُنْذُ كَذَا وَكَذَا، فَحَدَّثَ عِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِخَلَاءِهِ أَنْ يُسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ لَمَّا بَلَغَهُ أَنَّ النَّاسَ يَكْرَهُونَ ذَلِكَ، (وَفِي رِوَايَةٍ) قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((قَدْ فَعَلُوهَا؟ اسْتَقْبِلُوا بِمَقْعَدَتِي الْقِبْلَةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا: میں نے اتنے عرصے سے اپنی شرمگاہ کے ساتھ قبلہ کی طرف رخ نہیں کیا، لیکن عراک بن مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی کہ لوگ قبلہ رخ ہونے کو ناپسند کرتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لیٹرین کو قبلہ رخ کر کے بنا دیا جائے۔“ ایک روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا لوگ ایسے ہی سمجھنے لگ گئے ہیں؟ تو پھر میری سیٹ کو قبلہ رخ کر دو۔“
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی احادیث ِ صحیحہ سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قضائے حاجت کے دوران قبلہ کی طرف منہ بھی کیا ہے اور پیٹھ بھی، جبکہ پچھلے باب کی احادیث میں ایسا کرنے سے منع کیا ہے، اس ظاہری تناقض کودور کرنے کے لیے کافی ساری آراء جمع ہو گئی ہیں، راجح مسلک یہ ہے کہ اس حالت میں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ نہ کرنا مستحب ہے، اگر کوئی مجبوری بن جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فعلی رخصت پر عمل کر لینا چاہیے۔ دو احادیث میں عمارتوں کی قید نہیں ہے، اس لیے تمام روایات کو عمارتوں پر محمول کر لینا درست نہیں۔