کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: قضائے حاجت کرنے والے کا داخل ہوتے وقت اور نکلتے وقت دعا پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 502
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ يَقُولُ: ((اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ» … ”اے اللہ! میں خبیث جنوں اور خبیث جننیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 503
عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْخَلَاءَ قَالَ: ((أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَيْثِ أَوِ الْخَبَائِثِ)) قَالَ شُعْبَةُ: وَقَدْ قَالَهُمَا جَمِيعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء کو آتے تھے تو یہ دعا پڑھتے تھے: «أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ» … ”میں خبث اور خبیث سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں۔“
وضاحت:
فوائد: … اس روایت کے جامع ترمذی وغیرہ میں یہ الفاظ ہیں: ((أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَیْثِ أَوِ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ۔))
اَلْخُبْث: ناپاکی، گندگی، برائی، کراہت، مذمت
اَلْخَبَیْث: ناپاک، گندا، برا، مکروہ، مذموم، اذیت رساں
اَلْخُبْث: ناپاکی، گندگی، برائی، کراہت، مذمت
اَلْخَبَیْث: ناپاک، گندا، برا، مکروہ، مذموم، اذیت رساں
حدیث نمبر: 504
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ هَذِهِ الْحُشُوشَ مُحْتَضَرَةٌ، فَإِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک ان طہارت خانوں میں شیطان حاضر ہوتے ہیں، اس لیے جب کوئی آدمی ان میں داخل ہو تو وہ یہ دعا پڑھا کرے: «اللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ» … اے اللہ! بیشک میں خبیث جنوں اور خبیث جننیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 505
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ قَالَ: ((غُفْرَانَكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء سے باہر آتے تو کہتے: «غُفْرَانَكَ» … ”(اے اللہ!) میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں۔“
وضاحت:
فوائد: … بیت الخلاء میں داخل ہونے والا صرف بسم اللہ بھی پڑھ سکتا ہے، جیسا کہ درج ذیل روایت سے ثابت ہوتا ہے۔ سیدنا علی بن ابو طالبؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((سِتْرُ مَا بَیْنَ اَعْیُنِ الْجِنِّ وَعَوْرَاتِ بَنِیْ آدَمَ اِذَا دَخَلَ اَحَدُھُمُ الْخَلَائَ اَنْ یَّقُوْلَ بِسْمِ اللّٰہِ۔)) … جنوں کی آنکھوں اور بنو آدم کی شرم گاہوں کے مابین یہ پردہ ہے کہ جب کوئی آدمی بیت الخلاء میں داخل ہو تو وہ بسم اللہ پڑھے۔ (ترمذی: ۵۵۱، ابن ماجہ: ۳۰۱) ابن ماجہ کی وہ حدیث ضعیف ہے، جس میں بیت الخلاء سے خارج ہوتے وقت یہ دعا بتلائی گئی ہے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنِّیْ الْاَذٰی وَعَافَانِیْ۔ (اس حدیث کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے، اس کو ضعیف قرار دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ (دیکھیں انجاز الحاجۃ: ۳۰۱)