کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: وضو کے بغیر اللہ تعالیٰ کاذکر اور قرآن کی تلاوت کرنے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 501
عَنْ أَبِي سَلَّامٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ بَالَ ثُمَّ تَلَا شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ مَاءً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو سلام رحمہ اللہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے والے ایک صحابی نے مجھے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا اور پھر پانی کو چھونے سے پہلے قرآن مجید کے کچھ حصے کی تلاوت کی۔
وضاحت:
فوائد: … جہاں تک زبانی طور پر اللہ تعالیٰ کے ذکر اور قرآن مجید کی تلاوت کا مسئلہ ہے تو یہ دونوں کام وضو کے بغیر درست ہیں، مزید دلائل اور آثار سے بھی اس رائے کی تائید ہوتی ہے، البتہ قرآن مجید کو چھونے کے لیے وضو کرنا چاہیے، اس کی وضاحت اپنے مقام پر آئے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 501
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18074 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18242»