کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: قضائے حاجت کے دوران سلام کا جواب دینے یا اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف¤رہنے کی کراہیت کا بیان
حدیث نمبر: 497
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ وَهُوَ غَيْرُ مُتَوَضِّئٍ فَقَالَ: ثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ الْحُضَيْنِ أَبِي سَاسَانَ عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ أَنَّهُ سَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى تَوَضَّأَ فَرَدَّ عَلَيْهِ، وَقَالَ: ((إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلَّا أَنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ إِلَّا عَلَى طَهَارَةٍ)) قَالَ: فَكَانَ الْحَسَنُ مِنْ أَجْلِ هَذَا الْحَدِيثِ يَكْرَهُ أَنْ يَقْرَأَ أَوْ يَذْكُرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَطْهُرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر رہے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور پھر جواب دیا اور فرمایا: ”مجھے اس چیز نے تیرا جواب دینے سے روکا کہ میں طہارت کے بغیر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا ناپسند کرتا ہوں۔“ اسی حدیث کی وجہ سے جناب حسن رحمہ اللہ طہارت کے بغیر قراءت کرنے یا اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 497
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 17، وابن ماجه: 350، والنسائي: 1/ 37 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19034 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19243»
حدیث نمبر: 498
عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ جُدْعَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَلَّمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ وُضُوئِهِ قَالَ: ((لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلَّا أَنِّي كُنْتُ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ (وَفِي رِوَايَةٍ) إِلَّا أَنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَّا عَلَى طَهَارَةٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب نہ دیا، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وضو سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”مجھے اس چیز نے تیرے سلام کا جواب دینے سے روکا کہ میں باوضو نہیں تھا۔“ ایک روایت میں ہے: ”میں نے بغیر طہارت کے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کو ناپسند کیا۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 498
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي ۔ أخرجه ابوداود: 17، وابن ماجه: 3500، والنسائي: 1/ 37 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20761 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21042»
حدیث نمبر: 499
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبُولُ أَوْ قَدْ بَالَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ حَتَّى تَوَضَّأَ ثُمَّ رَدَّ عَلَيَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے یا پیشاب کر چکے تھے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ وضو کیا اور پھر میرا جواب دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 499
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21043»
حدیث نمبر: 500
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ بْنِ الرَّاهِبِ أَنَّ رَجُلًا سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ بَالَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَالَ بِيَدِهِ إِلَى الْحَائِطِ، يَعْنِي أَنَّهُ تَيَمَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر چکے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک اس کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیوار پر ہاتھ مار کر تیمم کر لیا۔ (پھر سلام کا جواب دیا)
وضاحت:
فوائد: … اس باب میں مذکورہ اور اس موضوع کی دیگر احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ جب کوئی آدمی قضائے حاجت کر رہا ہو تو اس وقت اس کو سلام نہیں کہنا چاہیے، وگرنہ وہ جواب کا مستحق نہیں ہو گا، پچھلے باب کے آخر میں اس کی دلیل گزر چکی ہے، وضو کے بغیر سلام کا جواب دینا اور ذکر کرنا بالاتفاق جائز ہے، البتہ استحباب اور افضلیت اس میں ہے کہ ذکر ِ الہی کے لیے وضو کا اہتمام کیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 500
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21959 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22305»