کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: قضائے حاجت کے وقت دور جانے، کھلی جگہ میں پردہ کرنے اور اِس وقت کلام اور¤سلام کے جواب سے رکے رہنے کا بیان
حدیث نمبر: 492
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا فَرَأَيْتُهُ خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ فَاتَّبَعْتُهُ بِالْإِدَاوَةِ أَوِ الْقَدَحِ، فَجَلَسْتُ لَهُ بِالطَّرِيقِ وَكَانَ إِذَا أَتَى حَاجَتَهُ أَبْعَدَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبدالرحمن بن ابو قراد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لیے جا رہے تھے، پس جب میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے نکلے تو میں پانی کے برتن کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑا اور راستے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بیٹھ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو دور جایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 493
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ أَتَى الْغَائِطَ فَلْيَسْتَتِرْ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا أَنْ يَجْمَعَ كَثِيبًا مِنْ رَمْلٍ فَلْيَسْتَدْبِرْهُ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَلْعَبُ بِمَقَاعِدِ بَنِي آدَمَ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی قضائے حاجت کے لیے آئے، وہ پردہ کرے، اور اگر اسے کوئی چیز نہ ملے تو وہ ریت کا ایک ڈھیر جمع کر کے اس کی طرف پیٹھ کر لے، کیونکہ شیطان بنو آدم کی دبروں سے کھیلتا ہے،“ جس نے ایسے کیا، اس نے اچھا کیا اور جس نے ایسے نہ کیا، اس پر کوئی حرج نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن قضائے حاجت کے وقت لوگوں سے دور جانے اور پردہ کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 494
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ جَالِسَيْنِ، قَالَ: فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ دَرَقَةٌ أَوْ شِبْهُهَا فَاسْتَتَرَ بِهَا فَبَالَ جَالِسًا، قَالَ: فَقُلْنَا: أَيَبُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ؟ قَالَ: فَجَاءَنَا فَقَالَ: ((أَوَمَا عَلِمْتُمْ مَا أَصَابَ صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ، كَانَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ إِذَا أَصَابَهُ شَيْءٌ مِنَ الْبَوْلِ قَرَضَهُ، فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبدالرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ کے پاس ایک ڈھال یا اس سے ملتی جلتی کوئی چیز تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ پردہ کیا اور بیٹھ کر پیشاب کیا، ہم نے کہا: ”کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورت کی طرح پیشاب کرتے ہیں؟“ اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے اور فرمایا: ”کیا تم جانتے نہیں ہو کہ بنو اسرائیل کے ساتھی کو کیا سزا ہوئی، اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب بنو اسرائیل کے کسی فرد کو پیشاب لگ جاتا تو وہ اس مقام کو کاٹتا تھا، لیکن ان کے ساتھی نے ان کو ایسا کرنے سے منع کر دیا، پس اس وجہ سے اس کو قبر میں عذاب دیا گیا۔“
حدیث نمبر: 495
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ: فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: انْظُرُوا إِلَيْهِ يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ، قَالَ: فَسَمِعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((وَيْحَكَ، أَمَا عَلِمْتَ مَا أَصَابَ صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ)) الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: بعض لوگوں نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو عورت کی طرح پیشاب کر رہے ہیں،“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن لی اور فرمایا: ”تیرا ناس ہو، کیا تو نہیں جانتا کہ بنو اسرائیل کے ساتھی کو کیا سزا ہوئی تھی۔“
وضاحت:
فوائد: … عورت سے تشبیہ دینے کی دو وجوہات ہیں، ایک بیٹھنا اور دوسری پردہ کرنا۔ بنو اسرائیل کی مثال ذکر کرنے سے مقصود یہ تھا کہ اُن لوگوں نے اس معاملے میں تساہل برتا، سو وہ عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
حدیث نمبر: 496
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا يَخْرُجُ الرَّجُلَانِ يَضْرِبَانِ الْغَائِطَ كَاشِفَيْنِ عَوْرَتَهُمَا يَتَحَدَّثَانِ فَإِنَّ اللَّهَ يَمْقُتُ عَلَى ذَلِكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو آدمی اس طرح نہ نکلیں کہ وہ دونوں پائخانہ کر رہے ہوں، شرمگاہوں کو ننگا کر رکھا ہو اور اس حالت میں گفتگو بھی کر رہے ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسی صورت پر سخت ناراض ہوتا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … صحیح ابن حبان کے الفاظ یہ ہیں: ((لَایَقْعُدُ الرَّجُلَانِ عَلَی الْغَائِطِ یَتَحَدَّثَانِ یَرٰی کُلٌّ مِّنْھُمَا عَوْرَۃَ صَاحِبِہٖ فَاِنَّ اللّٰہَ یَمْقُتُ عَلٰی ذَالِکَ)) … دو آدمی پائخانہ کرنے کے لیے اس طرح نہ بیٹھیں کہ وہ دونوں باتیں کر رہے ہوں اور ہر ایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھ رہا ہو، کیونکہ اللہ ایسی صورتحال سے ناراض ہوتا ہے۔ ان روایات سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی اِس ناراضگی کا تعلق بے پردگی اور گفتگو، دونوں چیزوں کے اکٹھا صادر ہونے کے ساتھ ہے۔ قضائے حاجت کے دوران صرف بات کرنا جائز ہے، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ثابت ہوتا ہے: سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا، جبکہ آپ پیشاب کر رہے تھے، اس نے سلام کہا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ((اِذَا رَاَیْتَنِیْ عَلٰی مِثْلِ ھٰذِہِ الْحَالَۃِ فَلَا تُسَلِّمْ عَلَیَّ، فَاِنَّکَ اِنْ فَعَلْتَ ذَالِکَ لَمْ اَرُدَّ عَلَیْکَ)) … جب تو مجھے اس حالت میں دیکھے تو مجھ پر سلام نہ کر، پس اگر تو نے ایسے کیا تو میں تیرا جواب نہیں دوں گا۔ (ابن ماجہ: ۳۴۶)شیخ البانی نے کہا: حدیث ِ مبارکہ کا ظاہری مفہوم تو یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیشاب کی حالت میں ہی یہ بات ارشاد فرمائی، لہٰذا ثابت ہوا کہ قضائے حاجت کے دوران گفتگو کرنا جائز ہے۔ (سلسلہ صحیحہ: ۱۹۷)اسی طرح نہانے کے دوران بھی بات کرنا جائز ہے، جیسا کہ فتح مکہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام ہانی کی آمد پر بات کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدہ عائشہ ؓجب اکٹھے نہاتے تو بات کر لیتے تھے، سیدنا ایوب ننگی حالت میں نہا رہے تھے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کی اور ان کی بات ہوئی۔