حدیث نمبر: 488
عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا مُوسَى كَانَ يَبُولُ فِي قَارُورَةٍ وَيَقُولُ: إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانُوا إِذَا أَصَابَ أَحَدَهُمُ الْبَوْلُ قَرَضَ مَكَانَهُ، قَالَ حُذَيْفَةُ: وَدِدْتُ أَنَّ صَاحِبَكُمْ لَا يُشَدِّدُ هَذَا التَّشْدِيدَ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي نَتَمَاشَى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَانْتَهَيْنَا إِلَى سُبَاطَةٍ فَقَامَ يَبُولُ كَمَا يَبُولُ أَحَدُكُمْ، فَذَهَبْتُ أَتَنَحَّى عَنْهُ، فَقَالَ: ((أُدْنُهُ)) فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى كُنْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب ان کو یہ بات پہنچی کہ سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ (پیشاب کے چھینٹوں سے بچنے کے لیے) ایک شیشی میں پیشاب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب بنو اسرائیل کے کسی فرد کو پیشاب لگ جاتا تو وہ اس جگہ کو کاٹتا تھا، تو انہوں نے کہا: ”میں چاہتا ہوں کہ تمہارا یہ ساتھی اس قدر سختی نہ کرے،“ میں نے خود کو دیکھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا، پس جب ہم کوڑا کرکٹ والی ایک جگہ کے پاس پہنچے تو تمہاری طرح ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، میں یہ دیکھ کر دور ہٹنا شروع ہو گیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہو جا۔“ پس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو گیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایڑیوں کے پاس کھڑا ہو گیا۔
حدیث نمبر: 489
(وَمِنْ طَرِيقٍ أُخْرَى) عَنِ الْأَعْمَشِ حَدَّثَنِي شَقِيقٌ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: كُنْتَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ فَتَنَحَّيْتُ فَأَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَتَبَاعَدْتُّ مِنْهُ، فَأَدْنَانِي حَتَّى صِرْتُ مِنْ عَقِبَيْهِ فَبَالَ قَائِمًا وَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ایک راستے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذرا ہٹ کر ایک قوم کے کوڑا کرکٹ کے ڈھیر کے پاس آ گئے، پس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور ہو گیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے قریب کر لیا، یہاں تک کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایڑیوں کے پاس کھڑا ہو گیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا اور پھر پانی منگوا کر وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔
حدیث نمبر: 490
عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ وَحَمَّادٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا، قَالَ حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ: فَفَحَّجَ رِجْلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے گندگی والے ڈھیر پر آئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ حماد بن ابی سلیمان رحمہ اللہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ٹانگوں کو کھلا کیا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عمر، سیدنا عبد اللہ بن عمر، سیدنا زید بن ثابت، سیدنا سہل بن سعد، سیدنا انس بن مالک، سیدنا علی، سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا عروہ بن زبیر سے کھڑے ہو کر پیشاب کرنا مروی ہے۔ اسی طرح جب ایک بدو نے مسجد ِ نبوی میں کھڑے ہو پیشاب کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعد میں اس کو صرف مسجد کے آداب کے حوالے سے بات کی تھی، کھڑے ہونے سے منع نہیں کیا تھا، پہلے یہ حدیث گزر چکی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عام طور پر تو بیٹھ کر ہی قضائے حاجت کرتے تھے، مذکورہ بالا احادیث کی روشنی میں کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا جواز بھی پیدا ہو گیا ہے، بالخصوص جب عذر ہو۔ جس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کھڑے ہونے کی وجہ گھٹنے کے اندرونی حصے میں تکلیف بتائی گئی ہے، وہ ضعیف ہے، امام دارقطنی اور امام بیہقی نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔
مزید دو روایات اور ان کی حقیقت: سیدنا جابر کہتے ہیں: ((نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَنْ یَّبُوْلَ الرَّجُلُ قَائِمًا …)) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا ہے کہ آدمی کھڑے ہو پیشاب کرے۔ (ابن ماجہ: ۳۰۹، یہ حدیث ضعیف ہے)سیدنا عمر ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا: ((یَا عُمَرُ! لَاتَبُلْ قَائِمًا۔)) … اے عمر! کھڑے ہو کر پیشاب نہ کیا کر۔ (ابن ماجہ: ۳۰۸، یہ حدیث بھی ضعیف ہے)
اس باب میں کوئی ایسی صحیح روایت نہیں ہے، جس میں کھڑے ہو پیشاب کرنے سے منع کیا گیا ہو، البتہ بعض موقوف آثار میں اس سے منع کیا گیا ہے۔
مزید دو روایات اور ان کی حقیقت: سیدنا جابر کہتے ہیں: ((نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَنْ یَّبُوْلَ الرَّجُلُ قَائِمًا …)) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا ہے کہ آدمی کھڑے ہو پیشاب کرے۔ (ابن ماجہ: ۳۰۹، یہ حدیث ضعیف ہے)سیدنا عمر ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا: ((یَا عُمَرُ! لَاتَبُلْ قَائِمًا۔)) … اے عمر! کھڑے ہو کر پیشاب نہ کیا کر۔ (ابن ماجہ: ۳۰۸، یہ حدیث بھی ضعیف ہے)
اس باب میں کوئی ایسی صحیح روایت نہیں ہے، جس میں کھڑے ہو پیشاب کرنے سے منع کیا گیا ہو، البتہ بعض موقوف آثار میں اس سے منع کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 491
عَنِ الْمِقْدَامِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَالَ قَائِمًا فَلَا تُصَدِّقْهُ، مَا بَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا مُنْذُ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جو آدمی تجھے یہ بات بیان کرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ہے تو تو اس کی تصدیق نہ کر، کیونکہ جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کا نزول شروع ہوا، اس وقت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔
وضاحت:
فوائد: … دراصل سیدہ عائشہ ؓکو ان احادیث کا علم نہیں تھا، جن کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔