کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: قضائے حاجت کے لیے نرم جگہ کو تلاش کرنے کا بیان اور ان مقامات کی تفصیل جہاں قضائے حاجت جائز نہیں ہے
حدیث نمبر: 481
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْشِي فَمَالَ إِلَى دَمْثٍ فِي جَنْبِ حَائِطٍ فَبَالَ ثُمَّ قَالَ: ((كَانَ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِذَا بَالَ أَحَدُهُمْ فَأَصَابَهُ شَيْءٌ مِنْ بَوْلِهِ تَتَبَّعَهُ فَقَرَضَهُ بِالْمَقَارِيضِ)) وَقَالَ: ((إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَبُولَ فَلْيَرْتَدِ لِبَوْلِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے، پس ایک دیوار کے پہلو میں نرم جگہ کی طرف مائل ہوئے اور وہاں پیشاب کیا اور پھر فرمایا: ”جب بنو اسرائیل کا کوئی آدمی پیشاب کرتا اور اگر پیشاب اس کو لگ جاتا تو وہ اس حصے کو قینچیوں سے کاٹتا تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس لیے جب تم میں سے کوئی آدمی پیشاب کرے تو وہ نرم جگہ تلاش کر لیا کرے۔“
وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری (۲۲۶) اور صحیح مسلم(۲۷۳) میں ہے جب پیشاب ان کے کپڑے کو لگ جاتا تھا تو وہ اس کو کاٹتے تھے،جن روایات میں جِلْد کے الفاظ ہیں، ان سے مراد ان کے چمڑے کے لباس ہیں، لیکن کسی راوی نے روایت بالمعنی کرتے ہوئے جَسَد کے الفاظ کہہ دیئے۔ (ملاحظہ ہو: فتح الباری) نرم جگہ کو تلاش کرنے والے روایت تو ضعیف ہے، لیکن اس سلسلے میں شریعت کا مدّعا یہ ہے کہ آدمی قضائے حاجت کرتے وقت ایسی جگہ اور ایسا طریقہ اختیار کرے کہ اس کا جسم اور کپڑے، پیشاب اور پائخانہ سے سالم رہ سکیں۔
حدیث نمبر: 482
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((اتَّقُوا الْمَلَاعِنَ الثَّلَاثَ)) قِيلَ: مَا الْمَلَاعِنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ((أَنْ يَقْعُدَ أَحَدُكُمْ فِي ظِلٍّ يُسْتَظَلُّ فِيهِ أَوْ فِي طَرِيقٍ أَوْ فِي نَقْعِ الْمَاءِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لعنت والے تین مقامات سے بچو۔“ کسی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! وہ لعنت والے مقامات کیا ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سائے کو استعمال کیا جاتا ہو، اس میں یا راستے میں یا پانی کے گھاٹ میں پیشاب کرنا۔“
وضاحت:
فوائد: … مقامات سے مراد ایسے افعال ہیں کہ جن کی وجہ سے فاعل پر لعن طعن کی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 483
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((اتَّقُوا اللَّعَّانَيْنِ)) قَالُوا: وَمَا اللَّعَّانَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((الَّذِي يَتَخَلَّى فِي طَرِيقِ النَّاسِ أَوْ فِي ظِلِّهِمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو لعنت کرنے والی چیزوں سے بچو۔“ صحابہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! وہ لعنت کرنے والی چیزیں کون سی ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی لوگوں کے راستے میں یا سائے میں قضائے حاجت کرتا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ تین مقاما ت پر قضائے حاجت نہیں کرنی چاہیے: ایسا سایہ کہ جس کو بطورِ سایہ استعمال کیا جاتا ہو، راستہ اور پانی کا گھاٹ۔ یہ بھی ان احادیث کی فقہ ہے کہ قضائے حاجت کے بعد لیٹرین کی مکمل صفائی کرنی چاہیے، تاکہ بعد میں آنے والے کو تکلیف نہ ہو۔