کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: جن جانداروں میں بہنے والا خون نہ ہو،ان کی طہارت کا بیان، وہ زندہ ہوںیا مردہ
حدیث نمبر: 477
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً وَفِي الْآخَرِ شِفَاءً، وَإِنَّهُ يَتَقِي بِجَنَاحِهِ الَّذِي فِيهِ الدَّاءُ، فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مکھی کسی کے برتن میں گر جائے تو چونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے میں شفا اور وہ اس پر کے ذریعے بچتی ہے، جس میں بیماری ہوتی ہے، اس لیے آدمی ساری مکھی کو ڈبو دے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 477
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3320، 5782 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7141 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7141»
حدیث نمبر: 478
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي شَرَابِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهُ ثُمَّ لْيَطْرَحْهُ، فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ شِفَاءً وَفِي الْآخَرِ دَاءً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی کے مشروب میں مکھی گر جائے تو وہ اس کو مکمل طور پر ڈبو کر پھینک دے، کیونکہ اس کے ایک پر میں شفا ہے اور دوسرے میں بیماری ہے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 478
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9157»
حدیث نمبر: 479
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي طَعَامِ أَحَدِكُمْ فَامْقُلُوهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی کے کھانے میں مکھی گر جائے تو وہ اس کو اس میں ڈبو دے۔“
وضاحت:
فوائد: … امام شوکانی نے کہا: ان احادیث سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ مائے قلیل ایسی چیز کے مر جانے سے نجس نہیں ہوتا، جس کا بہنے والا خون نہ ہو، کیونکہ ان احادیث میں موت و حیات کی کوئی تفصیل بیان نہیں کی گئی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 479
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ۔ أخرجه النسائي: 7/ 178، وابن ماجه: 3504، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11189 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11207»
حدیث نمبر: 480
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ وَدَمَانِ، فَأَمَّا الْمَيْتَتَانِ فَالْحُوتُ وَالْجَرَادُ وَأَمَّا الدَّمَانِ فَالْكَبِدُ وَالطِّحَالُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے لیے دو مردار اور دو خون حلال کیے گئے ہیں، پس وہ دو مردار مچھلی اور ٹڈی ہیں اور دو خون جگر اور تلی ہیں۔“ (مسند احمد: 5723)
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مچھلی، ٹڈی کا مردار اور جگر اور تلی کے خون حلال ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 480
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 3218، 3314 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5723 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»