کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مسلمان زندہ ہو یا مردہ، اس کے طاہر ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 473
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَقِيتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جُنُبٌ، فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى قَعَدَ، فَانْسَلَلْتُ فَأَتَيْتُ الرَّحْلَ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ وَهُوَ قَاعِدٌ فَقَالَ: ((أَيْنَ كُنْتَ؟)) فَقُلْتُ: لَقِيتَنِي وَأَنَا جُنُبٌ فَكَرِهْتُ أَنْ أَجْلِسَ إِلَيْكَ وَأَنَا جُنُبٌ فَانْطَلَقْتُ فَاغْتَسَلْتُ، فَقَالَ: ((سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا، جبکہ میں جنابت کی حالت میں تھا، بہرحال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل پڑا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور میں وہاں سے کھسک گیا اور گھر پہنچ کر غسل کیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم کہاں تھے؟“ میں نے کہا: ”جی آپ مجھے ملے تھے جبکہ میں جنبی تھا اور میں نے اس جنابت والی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھنے کو ناپسند کیا، اس لیے میں نے جا کر غسل کیا،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! بیشک مؤمن ناپاک نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 473
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 285، ومسلم: 371 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8968 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8956»
حدیث نمبر: 474
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) قَالَ: لَقِيَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَانْخَنَسْتُ فَذَهَبْتُ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ (فَذَكَرَ مِثْلَهُ فِيهِ) فَقَالَ: ((إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ملے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے کسی راستے میں تھے، پس میں کھسک گیا اور جا کر غسل کر کے دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ پھر اسی طرح کی روایت ذکر کی، البتہ اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک مسلمان ناپاک نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 474
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10087»
حدیث نمبر: 475
عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَأَهْوَى إِلَيْهِ، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي جُنُبٌ، قَالَ: ((إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے کسی راستے میں اس کو ملے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف جھکے تو اس نے کہا: ”میں تو جنابت کی حالت میں ہوں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک مؤمن ناپاک نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 475
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 372 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23264 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23653»
حدیث نمبر: 476
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَقِيَهُ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَّانِ فَحَادَ عَنْهُ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: ((مَا لَكَ؟)) قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كُنْتُ جُنُبًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملے، لیکن وہ وہاں سے ایک طرف ہو کر چلے اور غسل کر کے دوبارہ آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”تم کو کیا ہو گیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں جنبی تھا،“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک مسلمان ناپاک نہیں ہوتا۔“
وضاحت:
فوائد: … یہ احادیث عام ہیں، جو مسلمان کی حیات اور موت دونوں حالتوں کو شامل ہیں، البتہ درج ذیل موقوف روایت میں خصوصیت کے ساتھ موت کی حالت کو بیان کیا گیا ہے: عبد اللہ بن عباس ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَیْسَ عَلَیْکُمْ فِیْ غُسْلِ مَیِّتِکُمْ غُسْلٌ اِذَا غَسَلْتُمُوْہُ، اِنَّ مَیِّتَکُمْ لَمُؤْمِنٌ طَاھِرٌ، وَلَیْسَ بِنَجَسٍ، فَحَسْبُکُمْ اَنْ تَغْسِلُوْا اَیْدِیَکُمْ)) … جب تم میت کو غسل دے لو تو تم پر کوئی غسل نہیں ہے، بیشک تمہاری میت مومن اور طاہر ہے اور نجس نہیں ہے، پس تمہیں ہاتھ دھو لینا ہی کافی ہے۔ (بیہقی: ۱/ ۳۹۸، حاکم: ۱/ ۳۸۶، احکام الجنائز: ص ۵۳، ۵۴)
اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے سر کے بال منڈوا کر صحابہ میں تقسیم کر دینا بھی اس چیز کی دلیل بن سکتی ہے۔ جمہور اہل علم کا یہی مسلک ہے کہ مردہ انسان پاک ہے، البتہ احناف نے میت کو نجس قرار دیا ہے، لیکن یہ رائے مرجوح ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 476
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23810»