کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: منی کا بیان
حدیث نمبر: 466
عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَفْرُكُ (وَفِي رِوَايَةٍ: أَحُطُّ) الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَذْهَبُ فَيُصَلِّي فِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو کھرچتی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جاتے اور اس کپڑے میں نماز پڑھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 466
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 372، وأخرجه مسلم: 288 نحوه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24936 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25449»
حدیث نمبر: 467
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْلُطُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِهِ بِعِرْقِ الْإِذْخِرِ ثُمَّ يُصَلِّي فِيهِ وَيَحُطُّهُ مِنْ ثَوْبِهِ يَابِسًا ثُمَّ يُصَلِّي فِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے سے تر منی کو اذخر گھاس کے تنکے سے صاف کر کے اس میں نماز پڑھ لیتے تھے اور خشک منی کو کھرچ کر اس کپڑے میں نماز پڑھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 467
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قوله: بعرق الاذخر وھذا اسناد منقطع، عبد الله بن عبيد لم يسمع من عائشة ؓ۔ أخرجه ابن خزيمة: 294، والبيھقي: 2/ 418 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26059 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26587»
حدیث نمبر: 468
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَفَّانُ قَالَ: ثَنَا مَهْدِيُّ قَالَ: ثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخْعِيِّ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: رَأَيْتُنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَغْسِلُ أَثَرَ جَنَابَةٍ أَصَابَتْ ثَوْبِي فَقَالَتْ: مَا هَذَا؟ قُلْتُ: جَنَابَةٌ أَصَابَتْ ثَوْبِي، فَقَالَتْ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَإِنَّهُ يُصِيبُ ثَوْبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَمَا يَزِيدُ عَلَى أَنْ يَقُولَ بِهِ هَكَذَا، وَوَصَفَهُ مَهْدِيٌّ حَكَّ يَدَهُ عَلَى الْأُخْرَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اسود بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں: ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے دیکھا کہ میں اپنے کپڑے سے جنابت کے اثر کو دھو رہا تھا، انہوں نے کہا: ”یہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: ”جنابت ہے، جو میرے کپڑے کو لگ گئی تھی،“ انہوں نے کہا: ”میں بھی اپنے آپ کو دیکھ رہی ہوں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے کو جنابت لگ جاتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کرنے سے زیادہ تو کچھ نہیں کرتے تھے۔“ مہدی رحمہ اللہ نے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ پر کھرچ کر کیفیت کو بیان کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 468
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه ابوعوانة: 1/ 204، وابن خزيمة: 288،وابن حبان: 2332، و أخرجه مسلم: 288 ولم يسق ھذا اللفظ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24702 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25209»
حدیث نمبر: 469
(وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) عَنِ الْأَسْوَدِ (أَيْضًا) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا رَأَيْتَهُ فَاغْسِلْهُ فَإِنْ خَفِيَ عَلَيْكَ فَارْشُشْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو کھرچتی تھی، پس تو جب اس کو دیکھ لے تو اس کو دھو ڈال اور اگر پتہ نہ چلے تو چھینٹے مار دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 469
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 288، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24659 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25166»
حدیث نمبر: 470
عَنْ هَمَّامٍ قَالَ: نَزَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ضَيْفٌ فَأَمَرَتْ لَهُ بِمِلْحَفَةٍ لَهَا صَفْرَاءَ، فَنَامَ فِيهَا فَاحْتَلَمَ فَاسْتَحْيَا أَنْ يُرْسِلَ بِهَا وَفِيهَا أَثَرُ الْإِحْتِلَامِ، قَالَ: فَغَمَسَهَا فِي الْمَاءِ ثُمَّ أَرْسَلَ بِهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لِمَ أَفْسَدَ عَلَيْنَا ثَوْبَنَا؟ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَنْ يَفْرُكَهُ بِأَصَابِعِهِ، لَرُبَّمَا فَرَكْتُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأَصَابِعِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ہمام رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک مہمان ٹھہرا، انہوں نے اس کے لیے زرد رنگ کی ایک چادر کا حکم دیا، وہ اس میں سویا اور اس کو اس میں احتلام ہو گیا، اب وہ اس طرح کپڑے کو بھیجنے سے شرماتا تھا کہ اس میں احتلام کا اثر ہو، اس لیے اس نے اس چادر کو پانی میں ڈبویا اور پھر بھیج دیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اس نے ہمارا کپڑا کیوں خراب کر دیا ہے؟ اس کے لیے صرف کافی تھا کہ اس کو اپنی انگلیوں سے کھرچ دیتا،“ میں بسا اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے اپنی انگلیوں سے کھرچ ڈالتی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 470
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه الترمذي: 116، وابن ماجه: 537،وأخرجه مسلم: 290، و آخر روايته بلفظ: واني لاحكه من ثوب رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم يابسا بظفري۔ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24158 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24659»
حدیث نمبر: 471
عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُوَاعَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِيمَا يَفِيضُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَامْرَأَتِهِ مِنَ الْمَاءِ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى الْمَاءِ ۔
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
بنو سواء کے ایک آدمی نے کہا کہ میاں بیوی (کے جماع) کے دوران جو منی کا پانی بہہ جاتا ہے، اس کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منی کے پانی پر پانی بہا دیتے تھے۔ (مسند احمد: 25716)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 471
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام الرجل من بني سواء ة ولضعف شريك بن عبد الله النخعي۔ أخرجه ابوداود: 257 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25201 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
حدیث نمبر: 472
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَغْسِلُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو دھویا کرتی تھیں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ ایک مختلف فیہ مسئلہ ہے کہ منی پاک ہے یا ناپاک ہے، قارئین سے گزارش ہے کہ وہ سنجیدگی سے مطالعہ کریں، ضروری نہیں کہ جس چیز کو وہ اجنبی سمجھتے ہوں، وہ اجنبی ہی ہو۔ سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ، امام شافعی، امام احمد، امام ابن حزم، امام داود، امام اسحاق، امام ابن تیمیہ، امام ابن قیم، امام صنعانی، صبحی حسن حلاق اور ڈاکٹر وہبہ رخیلی وغیرہ کا خیال ہے کہ منی پاک ہے، جبکہ امام ابو حنیفہ، امام مالک اور امام شوکانی وغیرہ کی رائے یہ ہے کہ منی ناپاک ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓنے کہا: ((انما ھو بمنزلۃ المخاط والبصاق)) … منی تو ناک کی رطوبت اور تھوک کی مانند ہے۔ (دارقطنی: ۱/ ۱۲۴، بیھقی: ۲/ ۴۱۸)
شیخ البانی نے کہا: اس حدیث کو مرفوعا بیان کرنا وہم ہے، اگرچہ اس میں منی کی طہارت کا جو حکم بیان کیا گیا ہے، وہ درست ہے، اس میں ہمارے لیے سیدنا ابن عباس ؓ کا بالیقین کہہ دینا کافی ہے کہ منی تو ناک کی رطوبت اور تھوک کی طرح ہے اور نہ تو ان کی مخالفت کرنے والا کوئی صحابی معروف ہے اور نہ کتاب و سنت کی کوئی دلیل ان کے اس قول کے متناقض ہے، ابن قیم نے بدائع الفوائد میں مناظرۃ بین فقیھین فی طھارۃ المنی و نجاستہ کے عنوان میں اس موضوع پر بہت اہم اور انتہائی تحقیقی بحث کی ہے۔ (سلسلۃ ضعیفہ: ۹۴۸، ۲/ ۳۶۰)
منی کو نجس قرار دینے والوں نے جتنے دلائل پیش کیے ہیں، ان میں قابل توجہ صرف دو باتیں ہیں:(۱) وہ احادیث، جن میں منی کے دھونے کا ذکر ہے۔ (۲) منی، پیشاب کی جگہ سے خارج ہوتی ہے، لہٰذا اس پر اسی کا حکم لگایا جائے گا۔ حقیقت ِ حال یہ ہے کہ یہ دونوں دلائل منی کی نجاست پر دلالت نہیں کرتے، کیونکہ کسی چیز کو دھونے سے یہ لازم تو نہیں آتا ہے کہ وہ پلید ہے، رہا مسئلہ دوسری دلیل کا، تو ہم منی کے ذاتی حکم پر بحث کر رہے ہیں، اس چیز پر بحث نہیں ہو رہی کہ پیشاب کے اجزاء اس میں شامل ہوتے ہیں یا نہیں۔ منی کو پاک قرار دینے والوں نے جتنے دلائل پیش کیے ہیں، ان کی زیادہ مضبوطی بھی دو دلائل میں ہے:(۱) ہر چیز اصل میں پاک اور طاہر ہے، جب تک کتاب و سنت سے کسی چیز کے پلید ہونے کی واضح دلیل نہیں آئے گی، اس وقت تک اس کو پاک سمجھا جائے گا اور منی کے پلید ہونے کی کوئی واضح دلیل نہیں ہے۔ (۲) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس کپڑے میں نماز پڑھنا، جس سے منی کو صرف کھرچا گیا تھا۔ یہ دونوں دلائل مضبوط ہیں اور نجاست کے قائلین کا یہ کہنا درست نہیں ہے کہ کھرچنا بھی پاک کرنے کا ایک طریقہ ہے، کیونکہ شریعت میں پاک کرنے کا اس قسم کا کوئی قانون نہیں ہے کہ نجاست کے بعض اجزا کو زائل کر دو اور بعض کو باقی رہنے دو، جبکہ کھرچنے سے کپڑے میں جذب ہو جانے والے منی کے اجزا زائل نہیں ہوتے۔ چھوٹے بچے کے پیشاب اور مذی پر پانی چھڑکنا اور پتھروں سے استنجا کرنا اس سے مختلف چیز ہے۔
حافظ ابن حجر نے اس موضوع پر بڑی خوبصورت بحث کی ہے، ان کی بحث کا خلاصہ یہ ہے: منی کو دھونے اور کھرچنے والی احادیث میں کوئی تضاد نہیں ہے، کیونکہ ان میں جمع و تطبیق واضح طور پر ممکن ہے اور وہ اس طرح کہ اگر منی کو پاک قرار دیا جائے تو صفائی کی خاطر دھونے کو استحباب پر محمول کیا جائے گا، نہ کہ وجوب پر، یہ امام شافعی، امام احمد اور محدثین کا طریق کار ہے اور اگر منی کو نجس سمجھ لیا جائے توتر منی کو دھویا جائے گا اور خشک کو کھرچا جائے گا، یہ احناف کا طریقہ ہے، پہلا طریقہ زیادہ راجح ہے، کیونکہ اس میں حدیث اور قیاس دونوں پر عمل کیا جا رہا ہے، اگر منی نجس ہوتی تو قیاس کا تقاضا یہ تھا کہ اس کو دھونا واجب ہے اور کھرچنے پر اکتفا کرنا درست نہیں ہے، جیسا کہ خون وغیرہ کا مسئلہ ہے، احناف خون کے معاملے میں تو کھرچنے پر اکتفا نہیں کرتے، … …۔ اس معاملے میں سب سے واضح روایت صحیح ابن خزیمہ کی ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: ((اِنَّھَا کَانَتْ تَحُکُّہٗ مِنْ ثَوْبِہٖ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَھُوَ یُصَلِّیْ …)) سیدہ عائشہ ؓآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے سے منی کھرچتی تھیں، اس حال میں کہ آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے۔ اگر تسلیم کر لیا جائے کہ یہ چیز ثابت نہیں ہے تو اس قسم کی حدیث تو کوئی نہیں ہے، جو منی کی نجاست پر دلالت کرے، جبکہ اس کو دھونا فعل ہے اور وہ وجوب پر دلالت نہیں کرتا۔ (فتح الباری: ۱/ ۴۴۱)
اس بحث کے بعد ہمارا رجحان اول الذکر مسلک والوں کی طرف ہے کہ منی کا پانی پاک ہے اور کوئی دلیل اس کے ناپاک ہونے پر دلالت نہیں کرتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 472
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 229، 230، 231، ومسلم: 289 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25293 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25807»