کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اونٹ کے پیشاب کا بیان
حدیث نمبر: 453
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَاسًا أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ عُكْلٍ فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَ لَهُمْ بِذَوْدِ لِقَاحٍ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: عکل قبیلے کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور مدینہ کی آب و ہوا کو ناموافق پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دودھ والی اونٹنیوں کا حکم دیا اور فرمایا کہ ”وہ لوگ ان کا پیشاب اور دودھ پئیں۔“
وضاحت:
فوائد: … جانوروں کی دو اقسام ہیں: ماکول اللحم (جن کا گوشت کھایا جاتا ہے)، غیر ماکول اللحم (جن کا گوشت نہیں کھایا جاتا)۔ماکول اللحم جانوروں کا پیشاب اور پائخانہ پاک ہے‘ امام محمد نے بھی یہی فتوی دیا ہے، ان کے پاک ہونے کے دلائل درج ذیل ہیں: (۱) مذکورہ بالا حدیث، جس کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹوں کا پیشاب پینے کا حکم دیا۔ (۲)سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((صَلُّوْا فِیْ مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَلَا تُصَلُّوْا فِیْ اَعْطَانِ الْاِبِلِ۔)) … بکریوں کے باڑوـں میں نماز پڑھ لو اور اونٹوں کے باڑوں میں نہ پڑھو۔
(ترمذی:۳۴۸، ابن ماجہ: ۷۶۸)
سیدنا عبد اللہ بن مغفل ؓ کی حدیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹوں کے باڑے میں نہی کی وجہ یہ بیان کی کہ ان کی طبع میں شیطنت پائی جاتی ہے۔ (ابن ماجہ: ۷۶۹) واضح رہے کہ بکریوں کا باڑہ ان کے پیشاب اور مینگنیوں سے آلودہ ہوگا۔(۳) ماکول اللحم جانوروں کے پیشاب اور گوبر کو ناپاک قرار دینے پر کوئی واضح روایت دلالت نہیں کرتی۔ (۴) ایک عقلی اور واقعاتی دلیل یہ ہے کہ عصر حاضر میں لوگوں کا عمل حلال جانوروں کے گوبر کے پاک ہونے کی گواہی دیتا ہے‘ کیونکہ گھروں میں گائے اور بھینس کا گوبر جلانے کیلئے بکثرت استعمال ہوتا ہے‘ حتی کہ جس ہاتھ سے گوبر توڑا جاتا ہے اسی ہاتھ سے آٹے کا پیڑا بنا کر روٹی پکائی جاتی ہے‘ کیا گوبر کا یہ استعمال انسان کے پائخانے کے بارے میں ممکن ہے؟امام منذر نے کہا: یہ کہنا درست نہیں ہے کہ اونٹوں کا یہ پیشاب پینا اِن لوگوں کے ساتھ خاص تھا، کیونکہ خصوصیت کے لیے دلیل کی ضرورت ہے، (ماکول اللحم جانوروں کے پیشاب اور گوبر کے پاک ہونے کی) تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اہل علم کے سامنے بازاروں میں بکریوں کے مینگنیاں بکتی رہیں اور اونٹوں کا پیشاب دواؤں میں استعمال ہوتا رہا اور انھوں نے ان امور کو برقرار رکھا۔ (بحوالہ نیل الاوطار: ۱/ ۲۴۷)امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک علاج کیلئے بھی حلال جانوروں کا پیشاب پینا حلال نہیں ہے۔
اَلْمَذِیُّ … مذی کا حکم
مذی: بوسہ یا مداعبت کے باعث بلا ارادہ پیشاب کی نالی سے نکلنے والا پتلا پانی۔
ودی: ایسا سفید اور گدلا پانی جو پیشاب کے بعد اسی نالی سے خارج ہوتا ہے، اس کی کوئی بدبو نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 453
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12667»
حدیث نمبر: 454
عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ أَلْقَى مِنَ الْمَذِيِّ شِدَّةً، فَكُنْتُ أُكْثِرُ الْاِغْتِسَالَ مِنْهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: ((إِنَّمَا يُجْزِيكَ مِنْهُ الْوُضُوءُ)) فَقُلْتُ: كَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي؟ فَقَالَ: ((يَكْفِيكَ أَنْ تَأْخُذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَتَمْسَحَ بِهَا مِنْ ثَوْبِكَ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے مذی کی وجہ سے بڑی مشقت ہوتی تھی اور میں اس کی وجہ سے بہت زیادہ غسل کیا کرتا تھا، ایک دن جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے تو اس سے صرف وضو کافی ہو جائے گا۔“ میں نے کہا: ”جو کپڑے کو لگ جائے، اس کا کیا کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے بارے میں تجھے یہ عمل کفایت کرے گا کہ تو پانی کا ایک چلو لے اور کپڑے کے جس جس حصے پر مذی کے لگ جانے کا خیال ہو، اس کو کپڑے کے اس حصے پر مار دے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 454
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ۔ أخرجه ابوداود: 210، والترمذي: 115، وابن ماجه: 506 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15973 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16069»
حدیث نمبر: 455
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً وَكُنْتُ أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِمَكَانِ ابْنَتِهِ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: ((يَغْسِلُ ذَكَرَهُ وَأُنْثَيَيْهِ وَيَتَوَضَّأُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بہت زیادہ مذی والا آدمی تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا) کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے سے شرماتا تھا، اس لیے میں نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، پس انہوں نے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عضو خاص اور خصیوں کو دھو کر وضو کر لیا کرے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 455
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه اصحاب السنن، وأخرجه البخاري: 269، ومسلم: 303 بلفظ قريب منه۔ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1009 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1009»
حدیث نمبر: 456
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((تَوَضَّأَ وَانْضَحْ فَرْجَكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کر اور اپنی شرمگاہ پر چھینٹے مار۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 456
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 823»
حدیث نمبر: 457
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((فِيهِ الْوُضُوءُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(تیسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں وضو ہے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 457
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 856»
حدیث نمبر: 458
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: فَأَمَرْتُ رَجُلًا فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: ((تَوَضَّأَ وَاغْسِلْهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی کو حکم دیا تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو وضو کر اور اس (شرمگاہ) کو دھو۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 458
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1026»
حدیث نمبر: 459
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((إِذَا حَذَفْتَ فَاغْتَسِلْ مِنَ الْجَنَابَةِ، وَإِذَا لَمْ تَكُنْ حَاذِفًا فَلَا تَغْتَسِلْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بہت زیادہ مذی والا آدمی تھا، پس میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو منی ٹپکائے تو جنابت کی وجہ سے غسل کر اور جب تو منی ٹپکانے والا نہ ہو تو غسل نہ کیا کر۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 459
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، وانظر الحديث المتقدم ترقیم بيت الأفكار الدولية: 847»
حدیث نمبر: 460
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ: فَقَالَ: ((إِذَا رَأَيْتَ الْمَذِيَّ فَتَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ وَإِذَا رَأَيْتَ فَضْخَ الْمَاءِ فَاغْتَسِلْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو مذی دیکھے تو وضو کر اور اپنی شرمگاہ کو دھو لے اور جب تو پانی کا ٹپکنا یعنی منی کو دیکھے تو غسل کر۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 460
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1028»
حدیث نمبر: 461
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ فَقَالَ: ((فِيهِ الْوُضُوءُ وَفِي الْمَنِيِّ الْغُسْلُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(تیسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں تو وضو ہے، البتہ منی میں غسل ہے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 461
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 891»
حدیث نمبر: 462
عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُلَاعِبُ أَهْلَهُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَذِيُّ مِنْ غَيْرِ مَاءِ الْحَيَاةِ، فَلَوْ لَا أَنَّ ابْنَتَهُ تَحْتِي لَسَأَلْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! الرَّجُلُ يُلَاعِبُ أَهْلَهُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَذِيُّ مِنْ غَيْرِ مَاءِ الْحَيَاةِ، قَالَ: ((يَغْسِلُ فَرْجَهُ وَيَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: ”تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے بارے میں سوال کرو جو اپنی بیوی کے ساتھ کھیلتا ہے اور اس وجہ سے اس سے ماء الحیاة تو خارج نہیں ہوتا، البتہ مذی نکل آتی ہے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی میری بیوی نہ ہوتی تو میں نے خود سوال کر لینا تھا۔“ پس میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ایک آدمی اپنی بیوی سے کھیلتا ہے اور اس سے زندگی والا پانی تو خارج نہیں ہوتا، البتہ مذی نکل آتی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا آدمی اپنی شرمگاہ دھو کر نماز والا وضو کر لیا کرے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 462
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 207، وابن ماجه: 505، والنسائي: 1/ 97، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23808 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24309»
حدیث نمبر: 463
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ فَقَالَ (يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ): ((إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ وَيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آدمی اس چیز کو پا لے تو وہ اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لے یعنی اس کو دھو لے اور نماز والا وضو کر لے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 463
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24330»
حدیث نمبر: 464
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ: ((فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ)) يَعْنِي يَغْسِلْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(تیسری سند) سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آدمی اس چیز کو پائے تو اپنی شرمگاہ پر چھینٹے مارے اور نماز والا وضو کرے۔“ اس جگہ چھینٹے مارنے سے مراد دھونا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 464
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24320»
حدیث نمبر: 465
عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشِ بْنِ أَنَسٍ الْبَكْرِيِّ قَالَ: تَذَاكَرَ عَلِيٌّ وَعَمَّارٌ وَالْمِقْدَادُ الْمَذِيَّ، فَقَالَ عَلِيٌّ: إِنِّي رَجُلٌ مَذَّاءٌ وَإِنِّي أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَهُ مِنْ أَجْلِ ابْنَتِهِ تَحْتِي، فَقَالَ لِأَحَدِهِمَا، لِعَمَّارٍ أَوِ الْمِقْدَادِ: قَالَ عَطَاءٌ: سَمَّاهُ لِي عَائِشٌ فَنَسِيتُهُ، سَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: ((ذَاكَ الْمَذِيُّ، لِيَغْسِلْ ذَاكَ مِنْهُ))، قُلْتُ: مَا ذَاكَ مِنْهُ؟ قَالَ: ذَكَرَهُ، وَيَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ أَوْ يَتَوَضَّأُ مِثْلَ وُضُوءِهِ وَيَنْضَحُ فِي فَرْجِهِ أَوْ فَرْجَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عائش بن انس بکری رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اور سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے مذی کے بارے میں بات چیت کی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”مجھے بہت زیادہ مذی آتی ہے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وجہ سے شرم محسوس کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی میرے عقد میں ہے،“ پس انہوں نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ یا سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ میں سے ایک کو کہا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کرے۔ عطا رحمہ اللہ کہتے ہیں: عائش نے تو کسی ایک کا نام لیا تھا، لیکن میں بھول گیا، بہرحال انہوں نے سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو مذی ہے، اس کو چاہیے کہ اس کو دھو لیا کرے۔“ میں نے کہا: ”کسی چیز کو؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی شرمگاہ کو، اور اچھی طرح وضو کر لیا کرے اور اپنی شرمگاہ پر چھینٹے مارے یعنی دھویا جائے۔“
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے مذی سے متعلقہ تین مسائل ثابت ہوتے ہیں: (۱) نیت کے ساتھ عضو ِ خاص اور خصتین کو دھویا جائے گا۔(۲) مذی ناقض وضو ہے۔ (۳) غسل کے وجوب کا مذی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ (۴) اگر مذی کپڑے پر لگ جائے تو چھوٹے بچے کی پیشاب کی طرح اس پر چھینٹے مار دیئے جائیں گے، اس طرح سے وہ کپڑا پاک ہو جائے گا۔ امام شوکانی نے کہا: ((واتفق العلماء علی ان المذی نجس ولم یخالف فی ذالک الا بعض الامامیہ …)) علماء کا اس حقیقت پر اتفاق ہے کہ مذی نجس ہے، البتہ بعض امامیہ نے اختلاف کیا ہے۔ (نیل الاوطار: ۱/ ۶۳)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 465
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ۔ أخرجه عبد الرزاق: 597، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23825 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24326»