حدیث نمبر: 442
عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنِّي رَأَيْتُ فِي مَنَامِي فِي بَيْتِي أَوْ حُجْرَتِي عُضْوًا مِنْ أَعْضَائِكَ، (وَفِي رِوَايَةٍ زِيَادَةُ فَجَزِعْتُ مِنْ ذَلِكَ) قَالَ: ((تَلِدُ فَاطِمَةُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غُلَامًا فَتَكْفُلِينَهُ)) فَوَلَدَتْ فَاطِمَةُ حَسَنًا، فَدَفَعَتْهُ إِلَيْهَا فَأَرْضَعَتْهُ بِلَبَنِ قُثَمَ، وَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا أَزُورُهُ، فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَهُ عَلَى صَدْرِهِ فَبَالَ عَلَى صَدْرِهِ، فَأَصَابَ الْبَوْلُ إِزَارَهُ، فَزَخْخَتْ بِيَدِي عَلَى كَتِفَيْهِ، (وَفِي رِوَايَةٍ: فَضَرَبَتْ بَيْنَ كَتِفَيْهِ) فَقَالَ: ((أَوْجَعْتِ ابْنِي أَصْلَحَكِ اللَّهُ)) أَوْ قَالَ: ((رَحِمَكِ اللَّهُ)) فَقُلْتُ: أَعْطِنِي إِزَارَكَ أَغْسِلْهُ، فَقَالَ: ((إِنَّمَا يُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ وَيُصَبُّ عَلَى بَوْلِ الْغُلَامِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی اور کہا: ”میں نے خواب میں اپنے گھر یا اپنے حجرے میں آپ کے اعضاء میں سے ایک عضو دیکھا ہے اور میں اس سے گھبرا گئی ہوں،“ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیٹا جنم دے گی اور تم اس کی کفالت کرو گی۔“ پس سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے واقعی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو جنم دیا اور ان کو سیدہ ام فضل کے سپرد کر دیا، انہوں نے ان کو سیدنا قثم رضی اللہ عنہ کے دودھ سے دودھ پلایا، ایک دن میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرنے کے لیے آپ کے پاس آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پکڑا اور اپنے سینے پر رکھ دیا، پس بچے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر پیشاب کر دیا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ازار تک پہنچ گیا، میں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے کندھوں کے درمیان اپنے ہاتھ سے مارا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہاری اصلاح کرے، تم نے میرے بیٹے کو تکلیف دی ہے۔“ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے۔“ پھر میں نے کہا: ”آپ اپنا ازار مجھے دے دیں، تاکہ میں اس کو دھو دوں،“ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف بچی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے اور بچے کے پیشاب پر پانی بہا دیا جاتا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … اگرچہ دودھ تو صرف خاتون پلا رہی ہوتی ہے، لیکن اس میں اس کے خاوند کا بھی حصہ ہوتا ہے، سیدنا قثمؓ کے تذکرہ سے یہی بات سمجھانا مقصود ہے۔
حدیث نمبر: 443
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ: فَوَلَدَتْ حَسَنًا فَأُعْطِيتُهُ فَأَرْضَعْتُهُ حَتَّى تَحَرَّكَ، أَوْ فَطَمْتُهُ، ثُمَّ جِئْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَجْلَسْتُهُ فِي حِجْرِهِ فَبَالَ، فَضَرَبْتْ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، فَقَالَ: ((ارْفُقِي بِابْنِي رَحِمَكِ اللَّهُ)) وَفِيهِ أَيْضًا قَالَ: ((إِنَّمَا يُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ وَيُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلَامِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: پس سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو جنم دیا اور وہ میرے (سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا کے) حوالے کر دیا گیا، میں نے ان کو دودھ پلایا، یہاں تک کہ بچہ چلنے کا قابل ہو گیا یا (راوی نے کہا) میں نے دودھ چھڑوا دیا، بہرحال پھر میں اس بچے کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں بٹھا دیا اور اس نے وہاں پیشاب کر دیا، میں نے اس کے کندھوں کے درمیان ضرب لگائی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے، میرے بچے کے ساتھ نرمی کرو۔“ اس حدیث میں یہ بھی ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف بچی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے اور بچے کے پیشاب پر چھینٹے مارے جاتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 444
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ عَنْ لُبَابَةَ أُمِّ الْفَضْلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تُرْضِعُ الْحَسَنَ أَوِ الْحُسَيْنَ، قَالَتْ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاضْطَجَعَ فِي مَكَانٍ مَرْشُوشٍ فَوَضَعَهُ عَلَى بَطْنِهِ فَبَالَ عَلَى بَطْنِهِ، فَرَأَيْتُ الْبَوْلَ يَسِيلُ عَلَى بَطْنِهِ، فَقُمْتُ إِلَى قِرْبَةٍ لِأَصُبَّهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا أُمَّ الْفَضْلِ! إِنَّ بَوْلَ الْغُلَامِ يُصَبُّ عَلَيْهِ الْمَاءُ وَبَوْلُ الْجَارِيَةِ يُغْسَلُ)) وَقَالَ بَهْزٌ: غَسْلًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(تیسری سند) سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو دودھ پلاتی تھیں، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور چھڑکاؤ کی ہوئی ایک جگہ پر بیٹھ گئے اور ان کو اپنے پیٹ پر رکھ دیا اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ پر پیشاب کر دیا، پس میں نے دیکھا کہ پیشاب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ پر بہہ رہا تھا، میں ایک مشکیزے کی طرف گئی، تاکہ اس کا پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بہاؤں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام فضل! بچے کے پیشاب پر پانی بہا دیا جاتا ہے اور بچی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 445
عَنْ أَبِي لَيْلَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يَحْبُو حَتَّى صَعِدَ عَلَى صَدْرِهِ فَبَالَ عَلَيْهِ، (وَفِي رِوَايَةٍ: حَتَّى رَأَيْتُ بَوْلَهُ عَلَى بَطْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) قَالَ: فَابْتَدَرْنَا لِنَأْخُذَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((ابْنِي ابْنِي)) وَفِي رِوَايَةٍ: ((دَعُوا ابْنِي لَا تُفْزِعُوهُ حَتَّى يَقْضِيَ بَوْلَهُ)) ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو لیلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ گھسٹتے ہوئے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر چڑھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کر دیا، میں نے پیشاب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ پر دیکھا، پس ہم ان کو پکڑنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لپکے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا بیٹا، میرا بیٹا۔“ ایک روایت میں ہے: ”میرے بیٹے کو چھوڑ دو اور اس کو مت گھبراہٹ میں ڈالو، یہاں تک کہ یہ پیشاب پورا کر لے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور اس پر بہا دیا۔
حدیث نمبر: 446
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ فَيَدْعُو لَهُمْ، وَإِنَّهُ أُتِيَ بِصَبِيٍّ فَبَالَ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((صُبُّوا عَلَيْهِ الْمَاءَ صَبًّا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بچے لائے جاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے برکت کی دعا کرتے تھے، ایک دفعہ ایک بچے کو لایا گیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کر دیا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر پانی بہا دو۔“
حدیث نمبر: 447
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِصَبِيٍّ لِيُحَنِّكَهُ فَأَجْلَسَهُ فِي حِجْرِهِ فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَأَتْبَعَهُ إِيَّاهُ، قَالَ وَكِيعٌ: فَأَتْبَعَهُ إِيَّاهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بچے کو اس لیے لایا گیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو گڑتی دیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنی گود میں بٹھا دیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کر دیا، سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور اس کے پیچھے لگا دیا، وکیع رحمہ اللہ راوی نے کہا: پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کو اس کے پیچھے لگایا اور دھویا نہیں۔
حدیث نمبر: 448
عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لِي لَمْ يَطْعَمْ فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّهُ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں ایک بچہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی، وہ بچہ ابھی تک کھانا نہیں کھاتا تھا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور اس پر چھینٹے مار دیے۔
حدیث نمبر: 449
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ: فَوَضَعَهُ فِي حِجْرِهِ فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَكُنِ الصَّبِيُّ بَلَغَ أَنْ يَأْكُلَ الطَّعَامَ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَمَضَتِ السُّنَّةُ أَنْ يُرَشَّ بَوْلُ الصَّبِيِّ وَيُغْسَلَ بَوْلُ الْجَارِيَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو اپنی گود میں رکھا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر اس پر چھینٹے مار دیے، یہ بچہ ابھی تک کھانا کھانے کی عمر تک نہیں پہنچا تھا۔ امام زہری رحمہ اللہ نے کہا: یہی نبوی طریقہ نافذ ہو گیا کہ بچے کے پیشاب پر چھینٹے مارے جائیں گے اور بچی کے پیشاب کو دھویا جائے گا۔
حدیث نمبر: 450
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((بَوْلُ الْغُلَامِ يُنْضَحُ عَلَيْهِ وَبَوْلُ الْجَارِيَةِ يُغْسَلُ)) قَالَ قَتَادَةُ: هَذَا مَا لَمْ يَطْعَمَا فَإِذَا طَعِمَا غُسِلَ بَوْلُهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچے کے پیشاب پر چھینٹے مارے جائیں گے اور بچی کے پیشاب کو دھویا جائے گا۔“ امام قتادہ رحمہ اللہ نے کہا: یہ فرق اس وقت تک ہے، جب تک وہ کھانا نہیں کھاتے، جب کھانا کھانا شروع کر دیں گے تو دونوں کے پیشاب کو دھویا جائے گا۔
حدیث نمبر: 451
عَنْ أُمِّ كُرْزٍ الْخُزَاعِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِغُلَامٍ فَبَالَ عَلَيْهِ فَأَمَرَ بِهِ فَنُضِحَ، وَأُتِيَ بِجَارِيَةٍ فَبَالَتْ عَلَيْهِ فَأَمَرَ بِهِ فَغُسِلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام کرز خزاعیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک بچے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”اس پر چھینٹے مار دیے جائیں،“ پھر ایک بچی کو لایا گیا، اس نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کر دیا، اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ (اس کو دھویا جائے)، پس اسے دھو دیا گیا۔
حدیث نمبر: 452
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَتْ أُمُّ الْفَضْلِ ابْنَةُ الْحَارِثِ بِأُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ عَبَّاسٍ فَوَضَعَتْهَا فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَالَتْ، فَاخْتَلَجَتْهَا أُمُّ الْفَضْلِ ثُمَّ لَكَمَتْ بَيْنَ كَتِفَيْهَا ثُمَّ اخْتَلَجَتْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَعْطُونِي قَدَحًا مِنْ مَاءٍ)) فَصَبَّهُ عَلَى مَبَالِهَا، ثُمَّ قَالَ: ((اُسْلُكُوا الْمَاءَ فِي سَبِيلِ الْبَوْلِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا، سیدہ ام حبیبہ بنت عباس رضی اللہ عنہا کو لے کر آئیں اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں رکھ دیا، پس اس نے پیشاب کر دیا، انہوں نے اس کو کھینچا اور اس کے کندھوں کے درمیان مکا مارا اور پھر اس کو کھینچا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے پانی کا پیالہ دو۔“ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کی جگہ پر اس کو بہا دیا اور فرمایا: ”پیشاب کی جگہ پر پانی بہا دیا کرو۔“
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ جب تک بچے اور بچی کی غالب خوراک دودھ ہو، ان کے پیشاب سے پاکی حاصل کرنے کے طریقے مختلف ہوں گے اور وہ اس طرح کہ بچے کے پیشاب پر اس قدر چھینٹے مارے جائیں کہ متاثرہ جگہ ترہو جائے، نچوڑنے کی ضرورت نہیں اور بچی کا پیشاب بڑوں کی طرح دھویا جائے۔ امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب اس فرق کے قائل نہیں ہیں، بلکہ وہ بچہ اور بچی دونوں کے پیشاب کو دھونا ضروری قرار دیتے ہیں، لیکن واضح طور پر فرق کرنے والی احادیث ان کی رائے کو قبول نہیں کرتیں، گزارش یہ ہے کہ کون کون سی چیزیں نجس ہیں، شریعت نے اس چیز کا تعین کیا ہے، اب ان نجاستوں کو زائل کیسے کیا جائے گا، یہ فیصلہ بھی شریعت ہی کرے گی، اگر اس معاملے میں کوئی تخصیص پیدا کر دی جائے تو اس کو ماننا پڑے گا۔