کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: کھائی جانے والی ان چیزوں کو پاک کرنے کا بیان، جن میں نجاست گر جاتی ہے
حدیث نمبر: 436
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَأْرَةٍ وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ فَمَاتَتْ، فَقَالَ: ((إِنْ كَانَ جَامِدًا فَخُذُوهَا وَمَا حَوْلَهَا ثُمَّ كُلُوا مَا بَقِيَ وَإِنْ كَانَ مَائِعًا فَلَا تَأْكُلُوهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چوہے کے بارے میں سوال کیا گیا، جو گھی میں گر کر مر جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر گھی جامد ہو تو اس چوہے کو اور اس کے ارد گرد والے گھی کو نکال دو اور اگر وہ مائع ہو تو اس کو کھانے کے لیے استعمال نہ کرو۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 436
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10355 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10360»
حدیث نمبر: 437
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْفَأْرَةِ تَمُوتُ فِي الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ أَطْعَمُهُ؟ قَالَ: لَا، زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، كُنَّا نَضَعُ السَّمْنَ فِي الْجِرَارِ، فَقَالَ: ((إِذَا مَاتَتِ الْفَأْرَةُ فِيهِ فَلَا تَطْعَمُوهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ جس کھانے یا پینے میں چوہا گر جاتا ہے کیا میں اس کو کھا سکتا ہوں؟ انہوں نے کہا: ”جی نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے،“ ہم لوگ گھڑوں میں گھی رکھا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ایسے برتن میں چوہا مر جائے تو اس کو نہ کھایا کرو۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 437
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابن لھيعة سييء الحفظ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14683 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14739»
حدیث نمبر: 438
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ مَيْمُونَةَ (زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) أَنَّ فَأْرَةً وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: جَامِدٍ) فَمَاتَتْ، فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((خُذُوهَا وَمَا حَوْلَهَا فَأَلْقُوهُ وَكُلُوهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ زوجہ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک چوہیا جمے ہوئے گھی میں گر کر مر گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو اور اس کے ارد گرد والے گھی کو نکال کر پھینک دو اور باقی کو کھا لو۔“
وضاحت:
فوائد: … ایسا چوہا نجس ہے، اس لیے اگر وہ کسی جامد چیز میں گرتا ہے تو صرف متاثرہ حصے کو ضائع کیا جائے گا اور اگر وہ چیز مائع ہے تو وہ ساری کی ساری پلید ہو جائے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 438
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 235، 236، 5540 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26847 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27384»