کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: کافروں کے برتنوں کو پاک کرنے اور ان کو دھو لینے کے بعد استعمال کرنے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 432
عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا أَهْلُ سَفَرٍ نَمُرُّ بِالْيَهُودِ وَالنَّصَارَى وَالْمَجُوسِ وَلَا نَجِدُ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ، قَالَ: ((فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا فَاغْسِلُوهَا بِالْمَاءِ ثُمَّ كُلُوا فِيهَا وَاشْرَبُوا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم سفر کرنے والے لوگ ہیں اور یہودیوں، عیسائیوں اور مجوسیوں کے پاس سے ہمارا گزر ہوتا رہتا ہے اور ہمیں صرف ان کے ہی برتن مل سکتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پس اگر تمہیں دوسرے برتن نہ مل سکیں تو ان کو پانی کے ساتھ دھو کر ان میں کھا پی لیا کرو۔“
حدیث نمبر: 433
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضُ أَهْلِ كِتَابٍ وَإِنَّهُمْ يَأْكُلُونَ لَحْمَ خِنْزِيرٍ وَيَشْرَبُونَ الْخَمْرَ فَكَيْفَ أَصْنَعُ بِآنِيَتِهِمْ وَقُدُورِهِمْ؟ قَالَ: ((إِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا فَارْحَضُوهَا وَاطْبَخُوا فِيهَا وَاشْرَبُوا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) سیدنا ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! بیشک ہمارا علاقہ، اہل کتاب کا علاقہ ہے اور وہ خنزیر کا گوشت بھی کھاتے ہیں اور شراب بھی پیتے ہیں، اب میں ان کے برتنوں اور ہنڈیاں کے ساتھ کیا کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم کو اور برتن نہ ملیں تو ان کو دھو کر ان میں پکا لیا کرو اور ان میں پی لیا کرو۔“
حدیث نمبر: 434
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نُصِيبُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَغَانِمِنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ الْأَسْقِيَةَ وَالْأَوْعِيَةَ فَنَقْتَسِمُهَا وَكُلُّهَا مَيْتَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے اور مشرکوں سے حاصل شدہ غنیمتوں میں مشکیزے اور برتن بھی ہمیں مل جاتے تھے لیکن ہم ان کو تقسیم کر لیتے تھے، جبکہ وہ سب مردار جانوروں کے ہوتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … وہ سب مردار جانوروں کے ہوتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کافروں کے ذبح کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا تھا۔لیکن مالِ غنیمت یا اس قسم کے دیگر مالوں کے بارے میں ہماری شریعت کا قانون یہ ہے کہ جب تک چیز کے حرام ہونے کی واضح دلیل نہیں ہو گی، اس وقت تک اس کو پاک اور جائز ہی سمجھا جائے گا، مشکیزوں کے بارے میں یہ احتمالات اور امکانات موجود ہیں کہ انھوں نے ان کو رنگا ہو یا اہل کتاب کے علاقوں سے منگوایا ہو یا وہ جانور اہل کتاب کا ذبح کیا ہوا ہو۔
حدیث نمبر: 435
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ يَهُودِيًّا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى خُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ فَأَجَابَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کی روٹی اور بو بدلی ہوئی چربی والے سالن کی دعوت دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قبول کی۔
وضاحت:
فوائد: … ایک طرف تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہودی کی دعوت قبول کر رہے ہیں اور دوسری طرف فرما رہے ہیں کہ اگر صحابہ کو کوئی اور برتن نہ ملیں تو یہودیوں، عیسائیوں اور مجوسیوں کے برتنوں کو دھو کر استعمال کریں۔ جمع تطبیق کی صورت یہ ہے کہ جب غیر مسلم اپنے برتنوں میں ایسی چیز پکاتے ہوں، جو مسلمانوں پر حرام ہے، تو مجبوری کے وقت ان کے برتن دھو کر استعمال کیے جائیں اور اگر یہ لوگ ایسی چیزیں استعمال کرتے ہوں جو مسلمانوں کے لیے حلال ہوں یا مسلمانوں کو ایسی چیزوں کی دعوت دیں تو ان کے برتن بھی پاک ہوں گے اور کھانا بھی جائز ہو گا۔