کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مردار کے چمڑے اور پٹھے سے استفادہ کرنے کے ناجائز ہونے کا بیان اور عدم جواز اور جواز پر دلالت کرنے والی احادیث میں جمع و تطبیق کا بیان
حدیث نمبر: 427
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: أَتَانَا كِتَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأَرْضِ جُهَيْنَةَ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ ((أَنْ لَا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عکیم جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمارے پاس جہینہ کی سرزمین میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط آیا، جبکہ میں اس وقت نوجوان لڑکا تھا، (اس خط میں لکھا ہوا تھا:) ”تم مردار کے چمڑے اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 427
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، فيه علتان: الانقطاع، عبداللّٰه بن عكيم ادرك زمان رسول اللّٰه صلي الله عليه وآله وسلم ولا يعرف له سماع صحيح، والاضطراب، فقد اختلف فيه الوانا ۔ أخرجه ابوداود: 4127، والنسائي: 7/ 175، وابن ماجه: 3613، والترمذي: 1729 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18780 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18987»
حدیث نمبر: 428
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كَتَبَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِشَهْرٍ ((أَنْ لَا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) سیدنا عبداللہ بن عکیم جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے ایک ماہ قبل ہماری طرف یہ حکم لکھا کہ ”تم مردار کے چمڑے اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 428
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18989»
حدیث نمبر: 429
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: أَتَانَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأَرْضِ جُهَيْنَةَ قَالَ: وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِشَهْرٍ أَوْ شَهْرَيْنِ ((أَنْ لَا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(تیسری سند) سیدنا عبداللہ بن عکیم جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہمارے پاس جہینہ کی سرزمین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خط آیا، جبکہ میں اس وقت نوجوان لڑکا تھا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے ایک یا دو ماہ پہلے کی بات تھی، اس میں لکھا تھا: ”تم مردار کے چمڑے اور پٹھے سے فائدہ حاصل نہ کرو۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 429
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18990»
حدیث نمبر: 430
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) قَالَ: جَاءَنَا، أَوْ قَالَ: كَتَبَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((أَنْ لَا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عکیم جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف یہ خط لکھا کہ ”تم مردار کے چمڑے سے استفادہ نہ کرو اور نہ اس کے پٹھے سے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 430
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18991»
حدیث نمبر: 431
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ خَامِسٍ) أَنَّهُ قَالَ: قُرِيءَ عَلَيْنَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((أَنْ لَا تَسْتَمْتِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عکیم جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خط پڑھا گیا کہ ”تم مردار کے چمڑے اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔“
وضاحت:
فوائد: … اِھَاب اس چمڑے کو کہتے ہیں، جو رنگا نہ گیا ہو، مردار کے اس طرح کے چمڑے سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہے، لیکن جب اس کو رنگ دیا جاتا ہے تو وہ پاک ہو جاتا ہے اور اس وقت اس کو اِھَاب نہیں کہتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 431
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18992»