کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: ان لوگوں کی دلیل کا بیان جو چمڑے کو رنگنے کے بعد مردار کے بالوں کی طہارت کے قائل ہیں
حدیث نمبر: 426
عَنْ ثَابِتٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى فِي الْمَسْجِدِ فَأَتَى رَجُلٌ ضَخْمٌ فَقَالَ: يَا أَبَا عِيسَى! قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ فِي الْفِرَاءِ؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أُصَلِّي فِي الْفِرَاءِ؟ قَالَ: فَأَيْنَ الدِّبَاغُ؟ فَلَمَّا وَلَّى قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا سُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ثابت بن اسلم بنانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں عبدالرحمن بن ابو لیلی رحمہ اللہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا، پس ایک موٹا سا آدمی آیا اور اس نے کہا: ”اے ابو عیسی (عبدالرحمن)!“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں،“ اس نے کہا: ”تم نے فراء کے بارے جو کچھ سنا ہے، وہ بیان کرو،“ پس انہوں نے کہا: ”میں نے اپنے باپ سے سنا، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں فراء میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر رنگنے کا کیا فائدہ ہوا؟“ جب وہ چلا گیا تو میں (ثابت) نے کہا: ”یہ آدمی کون تھا؟“ عبدالرحمن نے کہا: ”یہ سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ تھے۔“
وضاحت:
فوائد: … فِرَاء: یہ فَرْوٌ یا فَرْوَۃٌ کی جمع ہے یہ اس چمڑے کو کہتے ہیں، جس پر بال موجود ہوں۔