کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: زمین کو پیشاب کی نجاست سے پاک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 411
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا، فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا))، ثُمَّ لَمْ يَلْبَثْ أَنْ بَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَأَسْرَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ، أَهْرِيقُوا عَلَيْهِ دَلْوًا مِنْ مَاءٍ)) أَوْ ((سَجْلًا مِنْ مَاءٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدو مسجد میں داخل ہوا اور دو رکعت نماز ادا کر کے یہ دعا کی: ”اے اللہ! مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”تو نے تو وسعت والی چیز کو تنگ کر دیا ہے۔“ پھر جلد ہی اس بدو نے مسجد میں پیشاب کرنا شروع کر دیا، پس لوگ اس کی طرف لپکے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا: ”صرف اور صرف تم لوگوں کو آسانیاں پیدا کرنے والے بنا کر بھیجا گیا ہے اور تنگیاں پیدا کرنے والے بنا کر نہیں بھیجا گیا، اس پیشاب پر پانی کا ایک ڈول بہا دو۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 411
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 220، 6010، 6128، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7255 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7254»
حدیث نمبر: 412
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فَقَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلِمُحَمَّدٍ وَلَا تَغْفِرْ لِأَحَدٍ مَعَنَا، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: ((لَقَدِ احْتَظَرْتَ وَاسِعًا)) ثُمَّ وَلَّى حَتَّى إِذَا كَانَ فِي نَاحِيةِ الْمَسْجِدِ فَشَجَّ يَبُولُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((إِنَّمَا بُنِي هَذَا الْبَيْتُ لِذِكْرِ اللَّهِ وَالصَّلَاةِ وَإِنَّهُ لَا يُبَالُ فِيهِ))، ثُمَّ دَعَا بِسَجْلٍ مِنْ مَاءٍ فَأَفْرَغَهُ عَلَيْهِ، قَالَ: يَقُولُ الْأَعْرَابِيُّ بَعْدَ أَنْ فَقِهَ: فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ، بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي فَلَمْ يَسُبَّ وَلَمْ يُؤَنِّبْ وَلَمْ يَضْرِبْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) ایک بدو مسجد میں داخل ہوا، جبکہ وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے، اس نے دعا کرتے ہوئے کہا: ”اے اللہ! مجھے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بخش دے اور ہمارے ساتھ کسی اور کو نہ بخش،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا پڑے اور فرمایا: ”تو نے تو وسیع چیز کو تنگ کر دیا ہے۔“ پھر وہ چل پڑا اور جب مسجد کے ایک کونے میں پہنچا تو ٹانگیں کھول کر پیشاب کرنے لگ گیا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”صرف اور صرف اس گھر کو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور نماز کے لیے بنایا گیا ہے، اس میں پیشاب نہیں کیا جاتا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک ڈول منگوایا اور اس پر بہا دیا، وہ بدو دین کی سمجھ آنے کے بعد کہتا تھا: ”پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف کھڑے ہوئے، میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ مجھے برا بھلا کہا، نہ مجھے ڈانٹ ڈپٹ کی اور نہ مجھے مارا۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 412
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10540»
حدیث نمبر: 413
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَهْرِيقُوا عَلَيْهِ ذَنُوبًا أَوْ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک بدو آیا اور اس نے مسجد میں پیشاب کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی کا ایک ڈول اس پر بہا دو۔“
وضاحت:
فوائد: … روایات کے سیاق و سباق سے پتہ چل رہا ہے کہ اس بدّو کو اسلام کے احکام کا علم نہیں تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو مسجد کے آداب کی تعلیم دی۔ زمین کو پاک کرنے کے دو طریقے ہیں، ایک طریقہ حدیث نمبر (۴۰۱) میں گزر چکا ہے اور اس باب کی احادیث کے مطابق دوسرا طریقہ یہ ہے کہ زمین پر پڑے ہوئے پیشاب پر پانی ڈال دیا جائے، اس طرح کرنے سے نجاست کے بعض اجزاء زمین میں جذب ہو جائیں گے اور بعض پانی کے ساتھ زمین پر بکھر کر زائل ہو جائیں گے اور زمین پاک ہو جائے گی، وہ زمین سخت ہو یا نرم۔ جن روایات میں زمین کو کھودنے کا ذکر ہے، وہ ضعیف ہیں۔ ان احادیث میں تبلیغ و اصلاح کرنے والے لوگوں کو جس حکمت، دانائی اور حسن اخلاق کی تعلیم دی جا رہی ہے، مجموعی لحاظ سے امت ِ مسلمہ ان سے بری طرح غافل ہے، ہم اس طرح کی حرکت دیکھ کر سب سے پہلے اپنی بھڑاس نکالنے کے لیے جھاگ بہانا شروع کر دیتے ہیں۔ والدین، اساتذہ، بڑے بھائیوں، آجروں اور دوسرے نگران اور کفیل لوگوں نے اصلاح کا یہ واحد طریقہ ایجاد کیا ہوا ہے کہ ماتحت افراد کا جرم دیکھ کر بولنا شروع کر دیا جائے، توہین آمیز کلمات کہے جائیں، ہو سکے تو پٹائی بھی کی جائے اور مجرم کی عزت اور شخصیت کو خاک میں ملا دیا جائے۔ یاد رکھ لیں کہ اس طریقے سے نگران کا غصہ تو دور ہو سکتا ہے، اصلاح نہیں ہو سکتی۔ شریعت نے غصے ہونے اور مارنے کی بھی اجازت دی ہے، لیکن وہ طریقہ اپنانے کے لیے حکیم اور دانا ہونا ضروری ہے۔ غور کریں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کی موجودگی میں مسجد نبوی میں پیشاب کر دینا کوئی معمولی جرم ہے؟ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کو ڈانٹنا گوارا نہیں کیا، بلکہ دوسرے صحابہ کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ مسجد کو پاک کرنے کا اہتمام کریں اور خود اس کو اچھے انداز میں سمجھانا شروع کر دیا۔ ہمارے ہاں تو جو بچہ مسجد میں شور کرے یا اس کا پیشاب نکل جائے تو اس بچے کو اور اس کے والدین کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنا لیا جاتاہے اور اگر والد موجود ہو تو وہ وہیں اپنے بچے کو زد و کوب کرنا شروع کر دیتاہے، جو آدمی موبائل بند نہ کر سکے اور دورانِ نماز اس کی گھنٹی بج جائے تو سلام کے فوراً بعد مستقل نمازی مسجد کو سر پر اٹھا لیتے ہیں، ان بیچاروں کو اتنی سمجھ نہیں ہوتی کہ ان کے بولنے سے زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔ یقین مانیں کہ مبلغ اور مُصلِح افراد کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حکمت سے جو سبق حاصل کرنا چاہیے، اس کو قلم بند نہیں جا سکتا ہے، یہ ایک سوچ اور فکر ہے، جو ضمیروں میں پیوست ہو جانی چاہیے جو ہر بدی کا مقابلہ کرتے وقت زندہ ہو جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 413
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 221، ومسلم: 284 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12082 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12106»