حدیث نمبر: 405
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! الْمَرْأَةُ يُصِيبُهَا مِنْ دَمِ حَيْضِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لِتَحُطِّهِ ثُمَّ لِتَقْرِصْهُ بِمَاءٍ ثُمَّ لِتُصَلِّ فِيهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ ایک خاتون، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! عورت کو حیض کا خون لگ جاتا ہے،“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو چاہیے کہ وہ اس کو کھرچے، پھر پانی کے ساتھ ملے اور پھر اس میں نماز پڑھ لے۔“
حدیث نمبر: 406
عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ فَقَالَ: ((اغْسِلِيهِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَحُكِّيهِ بِضِلَعٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کپڑے کو لگ جانے والے حیض کے خون کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ دھو اور کسی ہڈی کے ساتھ کھرچ ڈال۔“
حدیث نمبر: 407
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَتَتِ النَّبِيَّ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَيْسَ لِي إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ وَأَنَا أَحِيضُ فِيهِ، قَالَ: ((فَإِذَا طَهُرْتِ فَاغْسِلِي مَوْضِعَ الدَّمِ ثُمَّ صَلِّي فِيهِ)) قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنْ لَمْ يَخْرُجْ أَثَرُهُ؟ قَالَ: ((يَكْفِيكِ الْمَاءُ وَلَا يَضُرُّكِ أَثَرُهُ))
وضاحت:
فوائد: … اس امر پر مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ حیض کا خون پلید ہے، مذکورہ بالا احادیث کا تقاضا یہ ہے کہ اس خون کی مکمل صفائی ہونی چاہیے۔ اس کا (باقی رہ جانے والا) نشان تجھے نقصان نہیں دے گا۔ اس چیز کو سمجھنے کے لیے ایک مثال دینا ضروری ہے، جن لوگوں کو بغلوں میں بہت زیادہ پسینہ آتا ہے، بسا اوقات ایسے ہوتا ہے کہ کپڑے کے اس حصے کا رنگ زرد ہو جاتا ہے اور دھونے کے باوجود نہیں اترتا ہے، جبکہ اس زردی کے باقی رہنے کا یہ معنی نہیں ہوتا ہے کہ ابھی تک پسینہ باقی ہے، دراصل یہ پسینہ کی وجہ سے پڑ جانے والا رنگ ہوتا ہے، یہی معاملہ حیض کے خون اور دوسری اس قسم کی چیزوں کا ہے۔ مقصودِ شریعت یہ ہے کہ حیض کے خون کو صاف کیا جائے اور اگر اس کی وجہ سے کپڑے کی رنگت ہی تبدیل ہو گئی ہے، تو اس کے باقی رہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔